SHAWORDS
K

Kamil Janetvi

Kamil Janetvi

Kamil Janetvi

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

لے کر محبتوں کے ترانے چلے گئے جانے کہاں وہ لوگ پرانے چلے گئے خاموش تھے تو سارا زمانہ تھا ساتھ ساتھ گویا ہوئے تو جسم سے شانے چلے گئے ان کو برہنگی کے سوا کچھ نہ مل سکا چادر جو خواہشات کی تانے چلے گئے آنکھوں میں ہے خمار تو بس رت جگوں کا آج کس سمت جانے خواب سہانے چلے گئے فاقوں کا بوجھ حد سے زیادہ بڑھا تو بس سڑکوں پہ بچے گیت سنانے چلے گئے چوپال ختم جب سے ہوئی اپنے گاؤں کی پریوں کے دل فریب فسانے چلے گئے ممکن ہے کاملؔ آج نہ پہچان پائے وہ اس سے ملے بھی اب تو زمانے چلے گئے

le kar mohabbaton ke taraane chale gae

غزل · Ghazal

رکھتا ہے ایک ایک قدم یوں اٹھا کے وہ چلتا ہو جیسے دوش پہ مہکی ہوا کے وہ تصویر اپنے ہاتھ پہ میری بنا کے وہ خود پہروں دیکھتا ہے اسے مسکرا کے وہ دل مانگتا ہے اور کبھی مانگتا ہے جاں ہر رخ سے دیکھتا ہے مجھے آزما کے وہ کترا رہا ہے ہاتھ ملانے سے اس لئے لایا ہے آستین میں خنجر چھپا کے وہ رسوائیوں کے خوف سے یہ احتیاط ہے ملتا ہے روز مجھ سے مگر چھپ چھپا کے وہ شاید کہ راز کھلنے کا اب اس کو ڈر نہیں مسرور ہو رہا ہے بہت خط جلا کے وہ کاملؔ اسے ضرورت تیغ و تبر نہیں کرتا ہے قتل برق تبسم گرا کے وہ

rakhtaa hai ek ek qadam yuun uThaa ke vo

غزل · Ghazal

اس زمانہ میں پارسا ہونا جیسے پتھر کو آئنہ ہونا تو جو چاہے تو جاوداں کر دے ورنہ فطرت میں ہے فنا ہونا صرف بندہ ہی مجھ کو رہنے دے ہو مبارک تجھے خدا ہونا تپتے صحرا میں کوئی کھیل نہیں دل کا گلشن ہرا بھرا ہونا میرا سچ بولنا ہے یاد مجھے اور اس کا چراغ پا ہونا ریزہ ریزہ وجود ہے میرا راس آیا اسے ہوا ہونا اپنی عادت ہے ڈھونڈھنا کاملؔ اس کی فطرت ہے لاپتہ ہونا

is zamaane mein paarsaa honaa

غزل · Ghazal

بستی بستی صحرا صحرا ایک اک جنگل ہم خود کو کب سے ڈھونڈھ رہے ہیں پیدل پیدل ہم کالے کالے سانپ بدن سے لپٹیں بھی تو کیا دنیا کو تو مہکائیں گے بن کر صندل ہم دریا چھوڑ کے پیاس کو اپنے گلے لگاتے ہیں دنیا والوں کو لگتے ہیں یوں بھی پاگل ہم ویرانوں کو اکثر ہم نے زینت بخشی ہے تپتے صحراؤں پر برسے بن کر بادل ہم نوک سناں پر چڑھ کر جب جب گویا ہوتے ہیں پیدا کر دیتے ہیں ایوانوں میں ہلچل ہم پیاس ستائے بھی کیوں کاملؔ فکر کے صحرا میں لفظوں سے پر کر لیتے ہیں فن کی چھاگل ہم

basti-basti sahraa-sahraa ek ik jangal ham

غزل · Ghazal

نہ سلطنت نہ کوئی اپنی راجدھانی ہے جواں دلوں پہ ہماری ہی حکمرانی ہے یہ زرد چہرے سلگتے محبتوں کے کھنڈر ہر ایک چیز ترے ظلم کی نشانی ہے رکھا ہے عظمت اجداد کا بھرم اکثر ہماری آنکھوں میں شرم و حیا کا پانی ہے تمام عمر سرابوں کے شہر میں بھٹکی یہ زندگی ہے کہ لڑکی کوئی دیوانی ہے کھڑے ہیں دونوں دوراہے پر اک زمانہ ہوا ترے غرور نہ میری انا کا ثانی ہے جہاں جلے وہیں آمادہ سرکشی پہ ہوئیں ہواؤں کی یہ چراغوں سے ضد پرانی ہے بتائے کیا تمہیں کاملؔ نہ جانے کس کے لئے فضائے دل ہے کہ مدت سے زعفرانی ہے

na saltanat na koi apni raajdhaani hai

غزل · Ghazal

ختم جب دونوں طرف سے بد گمانی ہو گئی سبز ہر موسم ہوا ہر رت سہانی ہو گئی آؤ دیکھیں کس نے زلفوں کو بکھیرا وقت شام کیوں گھٹا چھائی فضا کیوں زعفرانی ہو گئی روٹھنا پھر مان جانا مان کر پھر روٹھنا کیا بتاؤں اس کی یہ عادت پرانی ہو گئی بعد مدت کے ملے تھے کل انا کے موڑ پر اک ذرا سی بات پر پھر آنا کانی ہو گئی سامنے فٹ پاتھ ہے اور بے سر و سامانیاں ختم اب اجداد کی اک اک نشانی ہو گئی رفتہ رفتہ ہو گیا مقبول میں بھی شہر میں کامیاب اپنے قلم کی جانفشانی ہو گئی حکم صادر کر دیا حاکم نے کاملؔ کے خلاف ہر طرف جب عام اس کی حق بیانی ہو گئی

khatm jab donon taraf se bad-gumaani ho gai

Similar Poets