
Kamran Nadeem
Kamran Nadeem
Kamran Nadeem
Ghazalغزل
وہی سر ہے وہی سودا وہی وحشت ہے میاں اب بھی آ جاؤ کہ دل کی وہی خلوت ہے میاں وسعت دید سمٹنے ہی نہیں پاتی ہے چشم آہو سے ہمیں آج بھی نسبت ہے میاں عمر جب ہجر مسلسل کی مسافت میں کٹی یہ بھی کٹ جائے گی اک دن شب فرقت ہے میاں کوئے دل دار میں باقی نہیں شوریدہ سراں شہر دریوزہ گر کوچۂ شہرت ہے میاں کیوں نہ ہم موجہ حیرت سے لپٹ کر سوویں وصل اب تیرے لیے بھی تو مشقت ہے میاں تم نے کیا دیکھے نہیں شمس و قمر نیزوں پر جشن ظلمات پہ اب کون سی حیرت ہے میاں فرق تاباں ہے ترا مطلع خورشید مگر تیرے کاکل میں چھپی شام قیامت ہے میاں دشت ہستی میں بہت آبلہ پائی ہے ندیمؔ سرحد مرگ مسلسل تو اذیت ہے میاں
vahi sar hai vahi saudaa vahi vahshat hai miyaan
خرابہ اور ہوتا ہے خراب آہستہ آہستہ دیار دل پہ آتے ہیں عذاب آہستہ آہستہ سوال وحشت جاں کے جواب آہستہ آہستہ بت کافر اٹھاتے ہیں نقاب آہستہ آہستہ کوئی دست حنائی مو قلم سے بھرتا جاتا ہے نگار شام میں رنگ شراب آہستہ آہستہ بگولہ ابتدائے شوق میں محمل دکھائی دے نظر آتے ہیں صحرا میں سراب آہستہ آہستہ بہت بوسیدہ یادوں کے ورق جھڑنے بھی لگتے ہیں پلٹ عمر گزشتہ کی کتاب آہستہ آہستہ سراغ نقش پا مٹتے چلے جاتے ہیں صحرا میں ابھرتا ہے سفر میں اضطراب آہستہ آہستہ کمال شوق نظارہ میں عریاں ہوتا جاتا ہے سر بام فلک وہ ماہتاب آہستہ آہستہ کبھی خوشبو کبھی نغمہ کبھی رنگین پیراہن ندیمؔ اگتی ہے یوں ہی فصل خواب آہستہ آہستہ
kharaaba aur hotaa hai kharaab aahista aahista
پھر چھلکتا ہے جام وحشت کا شاہ خوباں سلام وحشت کا ایک چشم غزال کرتی ہے چار سو اہتمام وحشت کا وہ گراں گوش ہو ہمہ تن گوش تو سناؤں کلام وحشت کا چاک ہے اب ترا گریباں بھی دیکھ لے انتقام وحشت کا موج حیرت سفر میں رکھتی ہے ڈھونڈھتا ہوں قیام وحشت کا آج تو باغباں نے گلشن میں اک بچھایا ہے دام وحشت کا اک طرف موجہ سکوں ہے ندیمؔ اک جانب خرام وحشت کا
phir chhalaktaa hai jaam vahshat kaa
ردائے جان پہ دہرا عذاب بنتا ہوں میں روز جاگتی آنکھوں میں خواب بنتا ہوں خیال حسن کی مخمل پہ تار امکاں سے کبھی گلاب کبھی ماہتاب بنتا ہوں غبار خاطر پیہم سے بجھ بھی جاؤں اگر شب سیہ میں کوئی آفتاب بنتا ہوں لباس شوق تو مدت کا تار تار ہوا قبائے درد پہ اب پیچ و تاب بنتا ہوں طلسم زلف کی لہریں ڈبو ہی دیتی ہیں کنار شام جب موج شراب بنتا ہوں کبھی میں بام مہ نو پہ ڈالتا ہوں کمند کبھی میں خیمہ شہر حجاب بنتا ہوں سلگ اٹھے ہے جو صحرا بھی پائے وحشت سے تو کارگاہ جنوں پر سحاب بنتا ہوں جب ایک خواب کا مخمل ہو تار تار ندیمؔ میں دشت وہم میں پھر اک سراب بنتا ہوں
ridaa-e-jaan pe dohraa azaab buntaa huun
نظر تک آیا ہے پہچان تک نہیں آیا یہ واہمہ ابھی امکان تک نہیں آیا جراحت غم دوراں کی ابتدا کہیے دل جہاں زدہ پیکان تک نہیں آیا وہ اور بات کہ جاں کی امان مانگی تھی میں اس کی بیعت و پیمان تک نہیں آیا بس اس کے لمس کا الہام ہی اترتا ہے وہ میرے مصحف وجدان تک نہیں آیا یہ زندگی تو نفی میں گزار دی میں نے پر اس کے حلقۂ میزان تک نہیں آیا کتاب حسن کی تعبیر خیر کیا کرتا ندیمؔ آئنہ عنوان تک نہیں آیا
nazar tak aayaa hai pahchaan tak nahin aayaa
اک تسلسل سے رائگانی ہے زندگی بھی عجب کہانی ہے سر میں سودا نیا سمایا ہے دل میں وحشت وہی پرانی ہے تجھ گلی میں غبار بن کے میاں ہجر کی خاک ہم نے چھانی ہے مجھ کو تحلیل کر دیا پل میں کیا عجب مرگ ناگہانی ہے دل میں ماتم کناں ہے حلقۂ غم تیرے جانے کی سوز خوانی ہے دشت امکاں تو ایک پل ہے مگر پائے امکاں تو جاودانی ہے کس قدر ہوں شکستہ پا پھر بھی خود کو پانے کی پھر سے ٹھانی ہے
ik tasalsul se raaigaani hai





