SHAWORDS
Kanupriya

Kanupriya

Kanupriya

Kanupriya

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

کسی کی چاہت کسی سے بڑھ کر ہمارے جیسے سمجھ رہے ہیں ہوا سمندر میں جذب دریا کیوں عشق والے سمجھ رہے ہیں غم محبت تڑپ اداسی کو آپ سچے سمجھ نہ پائے ہماری حالت ہمارے جیسے کچھ ایک جھوٹے سمجھ رہے ہیں یہ مسئلہ بھی ہماری جانب جہاں سے دیگر ہی پیش آیا وہ عشق ہم سے کریں گے رشتہ نہیں کریں گے سمجھ رہے ہیں وہ بد حواسی میں چیختے ہیں نہیں محبت نہیں ہے تم سے یقیں ہمیں اس طرح سے آ ہی گیا ہو جیسے سمجھ رہے ہیں جہاں کی محفل میں اپنی قیمت ہے جیسے صحرا میں کوئی دریا تو جن کو قیمت نہیں ہے ہم کو وہ ریت سارے سمجھ رہے ہیں اٹھا رہے ہیں تمہارے مصرعے سنا رہے ہیں غزل تمہاری تمہیں سمجھنا تھا قسمت بد ہے کیسے کیسے سمجھ رہے ہیں

kisi ki chaahat kisi se baDh kar hamaare jaise samajh rahe hain

غزل · Ghazal

ہجر ہو یا وصال رہنے دو دور مجھ سے وبال رہنے دو درمیاں اک سوال رہنے دو رابطہ یوں بحال رہنے دو شعر کہہ لو کسی پرندے پر یہ محبت کے جال رہنے دو تم کو دنیا سنوارنی ہے اگر تو مرے الجھے بال رہنے دو علم کی دھوپ اوڑھ آئے ہیں حسن کی زرد شال رہنے دو وقت رخصت کی رسم کا حاصل لب پر آخر وصال رہنے دو لگ گئی ہے ہمیں نظر اس کی عشق کو یہ ملال رہنے دو

hijr ho yaa visaal rahne do

غزل · Ghazal

خواب آنکھوں میں جذب ہونے میں ہم کو مدت لگی ہے سونے میں اس نے آنا نہیں چنا ورنہ وقت لگتا ہے وقت ہونے میں کیا ملا تھا کسی کو پانے سے کیا گیا ہے کسی کو کھونے میں دل میں دنیا بسائی ہے ہم نے دل کی دنیا رکھی ہے کونے میں بھول بیٹھی ہیں دیکھنے کی ادا آنکھیں سپنے تیرے سنجونے میں فرق سچ اور جھوٹ کا ہے فقط شعر لکھنے میں شعر ہونے میں کتنے دریا بہا چکیں آنکھیں ایک چہرے کے رنگ دھونے میں

khvaab aankhon mein jazb hone mein

غزل · Ghazal

سفید کالے ہرے گلابی یا نیلے پیلے اچھال دینا امید بے رنگ سی دکھے تو یہ رنگ سارے اچھال دینا تم اپنے لہجے کی سادگی کو بنا بگاڑے اچھال دینا اماں خطوں کا خیال چھوڑو ہوا میں بوسے اچھال دینا اداسیوں کے نگر کے آگے کوئی تو دریا ضرور ہوگا جہاں دعاؤں کی صورتوں میں تم اپنے سکے اچھال دینا کسی کے دل میں تم اس طرح سے اترنا جیسے ندی میں چندا پھر اس کی آنکھوں کی سمت سارے فلک کے تارے اچھال دینا وہ اپنے غم سے ہتاش ہو کر کہیں نہ اپنی ہی جان لے لے سو ہم خدا سے کہیں گے اس کے غموں کو ہم پے اچھال دینا مری حیات و سخن کی وسعت طویل ہے لا سخن ہے پھر بھی کوئی جو پوچھے مری کہانی تو میرے مصرعے اچھال دینا

safed kaale hare gulaabi yaa niile piile uchhaal denaa

غزل · Ghazal

جل کر بجھتے لاوے بہہ کر آخر پتھر ہو جاتے ہیں ندیوں کو ٹھکرانے والے ساحل بنجر ہو جاتے ہیں نتھنی جھمکے چوڑی کردھن بچھوئے جھانجھر ہو جاتے ہیں اک لڑکی کے سارے سکھ دکھ اس کے زیور ہو جاتے ہیں رسم روایت دین دھرم ایمان بھروسے والے ہی کیوں عشق میں جینے مرنے والے بھی پیغمبر ہو جاتے ہیں اپنا آپ بیاں کرنے کے سو معقول طریقوں میں سے خاموشی کو چننے والے عمدہ شاعر ہو جاتے ہیں بت کے آگے دھیان لگائے بیٹھے رہتے ہیں دیوانے عشق نبھاتے رہنے والے دل پوجا گھر ہو جاتے ہیں آپ ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے ہو گر ایسا ہے تو آپ ہمارے بھیتر رہ لیں اور ہم باہر ہو جاتے ہیں

jal kar bujhte laave bah kar aakhir patthar ho jaate hain

غزل · Ghazal

بتوں کے ٹھکرائے بت پرستوں کو انجمن سے قرار آیا تمہارے دیر و حرم سے اٹھ کر ہمیں سخن سے قرار آیا جبیں نہ آنکھوں سے لب نہ عارض کی اک چھون سے قرار آیا نہ آرزوئے بتاں رہے ہم نہ اس چلن سے قرار آیا کوئی جلن دل میں ایسی تھی جو بجھی تو سوز نظر سے آخر یہ ایسی ٹھنڈک کی تشنگی تھی جسے تپن سے قرار آیا تمہارا چہرہ بھی زندگی بھر کی الجھنوں سے تھکا ہوا تھا ہمارے شانے کی جستجو کو بھی اس تھکن سے قرار آیا علاحدہ ذکر اس کا میں نے کیا ہے جب بھی کسی غزل میں مزاج روح سخن کو گویا مری کہن سے قرار آیا ہم عشق والوں کو مہربانو نہ چارہ گر کا پتہ بتاؤ کہاں سنا ہے کسی بھی مرحوم کو کفن سے قرار آیا ہٹا لی آنکھوں سے سبز صورت بسائے ہیں خواب صحرا ان میں خزاں کے عاشق کی آگہی کو اجاڑ بن سے قرار آیا

buton ke Thukraae but-paraston ko anjuman se qaraar aayaa

Similar Poets