SHAWORDS
K

Kanwal Siyalkoti

Kanwal Siyalkoti

Kanwal Siyalkoti

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

شمع کی لو سے کھیلتے دیکھے ہیں میں نے پروانے دو اک تو موت سے کھیل رہا ہے اک کہتا ہے جانے دو میرے بدن پر تم برساؤ پیار کی شبنم حسن کی آگ یوں گھل مل کر ایک نظر سے ہم پڑھ لیں افسانے دو جن پر جان لٹا دی میں نے وہ ہی مجھ سے برہم ہیں رونے پر پابندی ہے تو قہقہہ ایک لگانے دو تم نے پلائی جتنی پلائی دیکھو ہیں پیاسے رند ابھی ساقی گری سے ہاتھ نہ کھینچو سب کی دعا لو آنے دو مے سے میں توبہ کر لوں گا یہ لو میری توبہ ہے پہلے میرے ہاتھوں میں اپنی آنکھوں کے مے خانے دو اس کا کام ہے کہتا رہنا اپنا کام ہے سن لینا واعظ بھی اپنا ہے کنولؔ تم وعظ اسے فرمانے دو

shama ki lau se khelte dekhe hain main ne parvaane do

غزل · Ghazal

یوں نہ پینے میں بسر عمر کی ہر شام کرو شوق رندی ہے تو ساقی سے نظر عام کرو پھر نہ آئیں گے نظر ایسے مقدس چہرے جو بقا بخشیں انہیں دنیا میں وہ کام کرو ہے کدورت سے تو پھر بھیک سے ٹھوکر اچھی اپنی بدنامی سے اچھا ہے مرا نام کرو بت ہیں دس بیس مگر چاہنے والا دل ایک ایک اک کر کے محبت سے انہیں رام کرو چھیڑ دو ذکر کسی نرگس مستانہ کا سامنے میرے نہ تم ذکر مے و جام کرو تم کو فرصت ہو اگر بننے سنورنے سے ندیم عشق فرمانے سے بہتر ہے کہ آرام کرو جیسا گم سم ہے کنولؔ چوٹ ہے گہری کھائی آج تم اس کو رلا دو تو بڑا کام کرو

yuun na piine mein basar umr ki har shaam karo

غزل · Ghazal

ہوا اک دن میں ہم سے غیر اچھا پڑا در پر کسی کا پیر اچھا کہا ہے میں نے جو دیکھا سنا ہے جو تم سمجھو برا تو خیر اچھا محبت ہم سے منہ دیکھے کی یارو ہو دل کھوٹا تو منہ کا بیر اچھا ہمارے روبرو لاؤ تو اس کو کہیں گے ہم حرم سے دیر اچھا مٹا کر چل دئے وہ نقش پا بھی ہمیں غیروں پہ چھوڑا خیر اچھا مصیبت میں ہوا کوئی نہ اپنا اگر ہمدرد ہو تو غیر اچھا وفا کو بھی تری وہ جور سمجھے کنولؔ تو نے کمایا بیر اچھا

huaa ik din mein ham se ghair achchhaa

غزل · Ghazal

کیا ہو گیا ہے تجھ کو مرے دل سنبھل سنبھل ایسے تو پاؤں رکھتے ہیں غافل سنبھل سنبھل لایا ہے کھینچ تم کو جہاں ذوق مے کشی لگتی نہیں یہ درد کی محفل سنبھل سنبھل اک عمر پا کے ختم نہ ہو جائے تیرا پیار ہونے لگی ہے آرزو شامل سنبھل سنبھل ڈوبے گی راہ شوق میں لے کر تجھے بھی ساتھ منزل ہے تیری راہ میں حائل سنبھل سنبھل جس ناخدا کو تو نے بنایا تھا ہم سفر تھاما ہے اس نے دامن ساحل سنبھل سنبھل توڑے ہیں جس کو پانے کی خاطر ہزار دل منزل نہیں ہے دھوکا ہے غافل سنبھل سنبھل قربان گاہ گلشن ہستی میں اے کنولؔ بیٹھے ہیں پھول پھول میں قاتل سنبھل سنبھل

kyaa ho gayaa hai tujh ko mire dil sambhal sambhal

غزل · Ghazal

ابھر آیا رخ پر حیا کا نگینہ جبیں پر نہ دیکھا تھا ایسا پسینہ چلی آ رہی ہے حسینوں کی ٹولی زمیں پر ہے قوس قزح کا قرینہ مرے ہاتھ آ ہی چلا تھا کنارا لگا ڈوبنے میرے دل کا سفینہ کسک سوئی رہتی ہے برسوں کبھی تو جو جاگے تو جاگے مہینہ مہینہ بھلا کون جانے وہ آئیں نہ آئیں مرے پاس رہنے ہی دو جام و مینا کبھی تم نے دیکھی ہیں پرخار راہیں جو کہتے ہو الفت کو پھولوں کا زینہ اڑا لی جو چوری سے گالوں کی چٹکی تو بولے کنولؔ بھی ہے کتنا کمینہ

ubhar aayaa rukh par hayaa kaa nagina

غزل · Ghazal

نظر ملنے سے پہلے ہی نظارا مل گیا مجھ کو کہ تنہا ڈوب جانے کا سہارا مل گیا مجھ کو حیات و مرگ کی منزل ہوئی ہے پیار میں آساں کنارے سے کہیں پہلے کنارا مل گیا مجھ کو چبھن بھی ساتھ لائی ہیں اڑا کر نکہت گل میں ہواؤں سے پتا اپنا تمہارا مل گیا مجھ کو تصور آج پہنچا دے مجھے ایسی بلندی پر کہ تیرے خاص جلووں کا اشارہ مل گیا مجھ کو جھکی پلکوں کی پہنائی میں رقصاں ہے بہار گل کنولؔ پل میں چمن سارے کا سارا مل گیا مجھ کو

nazar milne se pahle hi nazaaraa mil gayaa mujh ko

Similar Poets