SHAWORDS
K

Karamat Ghauri

Karamat Ghauri

Karamat Ghauri

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

کیا زمانے سے توقع رکھیں اچھائی کی یہ تو دنیا ہے نہ اپنوں کی نہ ہرجائی کی جب سے دنیا نے مشینوں سے شناسائی کی سب کی آنکھوں میں تھکن دیکھی ہے تنہائی کی اک پڑاؤ ہے گھڑی دو گھڑی دم لینے کو وہ گرفتار ہوا جس نے شناسائی کی منصب و جبہ و دستار پہ موقوف نہیں شخصیت اصل تو ہے قامت زیبائی کی وہ تو خوشبو تھی بکھرنا تھا مقدر اس کا یہ نصیب اس کا جو گلشن نے پذیرائی کی جو سر بزم کہا دار پہ دہرایا وہی میری گفتار میں جرأت رہی سچائی کی گھاؤ بھرنے تھے جنہیں لے کے وہ نشتر آئے کس مسیحا سے رکھیں آس مسیحائی کی اب کہاں سرمد و منصور سے آشفتہ مزاج رسم فرزانوں نے ڈالی ہے شکیبائی کی دیکھنے سے کہاں کھلتا ہے سمندر کا مزاج ڈوب کر بات کھلا کرتی ہے گہرائی کی جانتا ہوں کہ کرامتؔ ہے مرے منصب کی جو حریفوں نے سر بزم پذیرائی کی

kyaa zamaane se tavaqqo rakhein achchhaai ki

غزل · Ghazal

جدھر سے تیر چلا کوئی مہرباں نکلا توقعات سے بڑھ کر وہ میزباں نکلا ثمر سے پہلے شجر کاٹ کر جلا ڈالے کہ جلدباز بہت اب کے باغباں نکلا عجیب رنگ ہوا اب کے میری نگری کا کہ جو بھی شہر میں نکلا وہ بے اماں نکلا یہ کس عذاب نے بستی کو میری گھیر لیا کہ چولھے سرد رہے یاں مگر دھواں نکلا سوال یہ ہے سبب کس سے قتل کا پوچھیں کہ جس نے قتل کیا وہ ہی بے زباں نکلا ہمارے بعد بھی کیا زیب دار ہوگا کوئی یہی سوال مرا زیب داستاں نکلا ہم اپنی عقل کو الزام دیں کہ قسمت کو ہمارے دور میں رہزن بھی پاسباں نکلا جبیں جھکی تو زمیں اٹھ کے عاجزی سے ملی جو سر اٹھا تو بہت دور آسماں نکلا رہے ہیں ہم تو کرامتؔ گئے دنوں کے نقیب کہ ہم سے عہد نیا سخت بد گماں نکلا

jidhar se tiir chalaa koi mehrbaan niklaa

غزل · Ghazal

سوال یہ ہے سبب کس سے قتل کا پوچھیں کہ جس نے قتل کیا وہ ہی بے زباں نکلا امیر شہر تو لفظوں کے جال بنتا ہے مگر جو سچ تھا وہ فقروں کے درمیاں نکلا ہمارے بعد بھی کیا زیب دار ہوگا کوئی یہی سوال مرا زیب داستاں نکلا ہم اپنی عقل کو الزام دیں کہ قسمت کو ہمارے دور میں رہزن بھی پاسباں نکلا جبیں جھکی تو زمیں اٹھ کے عاجزی سے ملی جو سر اٹھا تو بہت دور آسماں نکلا رہے ہیں ہم تو کرامتؔ گئے دنوں کے نقیب کہ ہم سے عہد نیا سخت بد گماں نکلا

savaal ye hai sabab kis se qatl kaa puchhein

غزل · Ghazal

جو دکھ دیے تھے کبھی تم کو آزمانے کو وہ تیر بن کے پلٹ آئے سب نشانے کو تمہارا ساتھ نہ ہوتا تو بے اماں ہوتے تمہاری چھاؤں ضروری تھی آشیانے کو نہیں ہے خوف کہ نیچا دکھائے گی دنیا جو ساتھ تم رہو جاناں مجھے اٹھانے کو جو میں نے اپنی ہی گدڑی میں خود اجالے ہیں وہی ہیں لعل بہت زندگی سجانے کو ضروری ہے کہ رہے تازگی محبت میں رفاقتیں نہ رہیں وعدہ اب نبھانے کو جو تنکے تنکے جمع کر کے آشیانہ بنے بس ایک برق ہے کافی اسے جلانے کو مقام عظمت آدم سمجھ میں آنے لگا فرشتے چومنے آتے ہیں آستانے کو ہمارے بعد بھی مہکا کرے گی بزم طرب اگرچہ عمر لگے گی ہمیں بھلانے کو رہے گی زندہ مرے بعد داستاں میری پڑھیں گے لوگ ہمیشہ مرے فسانے کو کرامتؔ ان کو زمانہ سلام کرتا ہے جو نوک پا پہ ہی رکھتے ہیں اس زمانے کو

jo dukh diye the kabhi tum ko aazmaane ko

غزل · Ghazal

بہت تھکان بدن میں مرے سفر کی رہی مگر وہ شوق کی منزل کہ ہر نگر کی رہی وہ جس پہ چل کے سدا پاؤں زخم زخم ہوئے نہ جانے کھوج ہمیں کیوں اسی ڈگر کی رہی جو میری ذات کی پنہائیاں سمجھ لیتی تمام عمر ضرورت اسی نظر کی رہی جب اپنے آپ میں ڈوبے فلک کو چھو آئے کہ احتیاج ہمیں اب نہ بال و پر کی رہی ہمیں سے سنت منصور اب بھی زندہ ہے کہ ہر زمانے کو حاجت ہمارے سر کی رہی بلا سبب تو کرامتؔ پہ اپنی ناز نہیں کہ چار دانگ میں شہرت مرے اثر کی رہی

bahut thakaan badan mein mire safar ki rahi

غزل · Ghazal

نوائے ساز بنتا جا رہا ہوں بس اک آواز بنتا جا رہا ہوں رفیق اب کوئی بھی میرا نہیں ہے میں خود دم ساز بنتا جا رہا ہوں زمانہ جو بھی کروٹ لے رہا ہو وہی انداز بنتا جا رہا ہوں مزاج وقت کو سمجھا ہے جب سے زمانہ ساز بنتا جا رہا ہوں میں اپنی ذات میں گم ہو گیا ہوں معما راز بنتا جا رہا ہوں جو بال و پر سب اپنے کھو چکا ہو میں ایسا باز بنتا جا رہا ہوں خدا نے جب خلیفہ کہہ دیا تو میں اس کا ناز بنتا جا رہا ہوں کرامتؔ ہوں یہی کچھ کم نہیں ہے کرامت ساز بنتا جا رہا ہوں

navaa-e-saaz bantaa jaa rahaa huun

Similar Poets