Karan Singh Karan
Karan Singh Karan
Karan Singh Karan
Ghazalغزل
koi Thokar is ne jab khaai na thi
کوئی ٹھوکر اس نے جب کھائی نہ تھی زندگی یہ راہ پر آئی نہ تھی آپ کی باتیں تھیں باتیں ہی فقط آپ کی باتوں میں گہرائی نہ تھی ہر قدم پر رنج و غم تھے منتظر کس جگہ میری پذیرائی نہ تھی زندگی تھی اک سکوت مستقل مشکلوں سے جب شناسائی نہ تھی آپ کی یادیں تھیں دل کے آس پاس زندگی میں کوئی تنہائی نہ تھی ایک بھی پوری نہ ہو پائی کرنؔ کون سی اس نے قسم کھائی نہ تھی
hasin subh hasin shaam chaahtaa huun main
حسیں صبح حسیں شام چاہتا ہوں میں کہ زندگی کو خوش انجام چاہتا ہوں میں ذرا سا مسکرا کے میری طرف دیکھ تو لو ہوں تشنہ بادۂ گلفام چاہتا ہوں میں نہیں ہے شک کوئی اس میں تو نیک سیرت ہے زمانے بھر میں ترا نام چاہتا ہوں میں وہ جس کے واسطے کھائیں ہیں ٹھوکریں کتنی اسی کو ہم سفر ہر گام چاہتا ہوں میں ترا خیال ہو دل میں لبوں پہ ذکر ترا کہ پھر سے یوں سحر و شام چاہتا ہوں میں کرنؔ یہ کون کہے بڑھ کے میرے ساقی کو کہ اس کے ہاتھوں سے اک جام چاہتا ہوں میں
khoyaa kyaa paayaa kyaa hisaab na kar
کھویا کیا پایا کیا حساب نہ کر تو عبث وقت کو خراب نہ کر چھوڑ ہرگز نہ راہ حق گوئی اپنی منزل کو یوں خراب نہ کر صاف رکھ اپنا دامن کردار تو اسے اشکوں سے پر آب نہ کر غم نہ کر دوسروں پہ کیا گزرے تو کبھی حق سے اجتناب نہ کر غم بھی ہیں زندگی کا اک حصہ دوسروں کو تو انتساب نہ کر جو فرائض ہیں بھول جائیں کرنؔ اس قدر خود کو محو خواب نہ کر
dil gham kaa talabgaar hai maalum nahin kyuun
دل غم کا طلب گار ہے معلوم نہیں کیوں راحت سے یہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوں حق یہ ہے کہ ہم دونوں محبت میں بندھے ہیں لیکن اسے انکار ہے معلوم نہیں کیوں جو معتبر تھا اہل زمانہ کی نظر میں رسوا سر بازار ہے معلوم نہیں کیوں میں بھولنا چاہوں بھی بھلا پاؤں نہ ان کو کچھ ایسا سروکار ہے معلوم نہیں کیوں جو بھی ہو غلط بات جھٹک دیتا ہے اکثر اس درجہ وہ خوددار ہے معلوم نہیں کیوں انسان کسی بات پہ رہتا نہیں قائم یہ ذہن سے بیمار ہے معلوم نہیں کیوں خاموش سی رہتی ہے زباں اس کی برابر دل مائل گفتار ہے معلوم نہیں کیوں قربت بھی کسی کی نہیں ہے راس کرنؔ کو یہ خود سے ہی بیزار ہے معلوم نہیں کیوں
hui hai mehrbaan un ki nazar aahista aahista
ہوئی ہے مہرباں ان کی نظر آہستہ آہستہ ہوا طے یہ محبت کا سفر آہستہ آہستہ ہوا رنگین موسم کا اثر آہستہ آہستہ مچلتے ہیں مرے قلب و نظر آہستہ آہستہ ادھر میرے دل بیتاب کی بڑھتی ہے بیتابی ادھر کالی گھٹاؤں کا اثر آہستہ آہستہ بہت محتاط ہو کر بھی گزر جائیں گے ہم لیکن اتر جائے گی دل میں وہ نظر آہستہ آہستہ کرنؔ اک روز میرے دل کو دیوانہ بنا دے گا کسی کی مست آنکھوں کا اثر آہستہ آہستہ
kisi shai par bhi ikhtiyaar nahin
کسی شے پر بھی اختیار نہیں زیست میں کچھ بھی پائیدار نہیں یہ بھی ہے معجزہ محبت کا غم کئی کوئی غم گسار نہیں میں نے دنیا نثار کی جس پر مجھ پہ اس کو ہی اعتبار نہیں سارے مطلب کے رشتے ناطے ہیں کوئی رشتہ بھی استوار نہیں ہر گھڑی بے قرار رہتا ہے دل کو حاصل کبھی قرار نہیں راحتوں کا تو ذکر ہی کیا ہے غم بھی دنیا میں پائیدار نہیں لوگ دنیا کے خود غرض ہیں کرنؔ یہ کسی کے بھی غم گسار نہیں





