SHAWORDS
Kash Kannauji

Kash Kannauji

Kash Kannauji

Kash Kannauji

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

ہم سے روداد محبت میں خیانت نہ ہوئی اس سے بچھڑے تو کسی اور سے الفت نہ ہوئی دل میں بستے تھا میرے وہ کبھی دھڑکن کی طرح بعد اس کے تو مرے دل کو محبت نہ ہوئی کس طرح سب کو بتاؤں میں بچھڑنے کا سبب ضرب ایسی ملی مجھ کو کبھی ہمت نہ ہوئی اس کو جلدی تھی کسی اور سے ملنے کی تبھی ایسا روٹھا وہ منانے کی بھی مہلت نہ ہوئی وہی شامل ہے مرے خون جگر میں جس کو مجھ سے ملنے کی دوبارہ کبھی چاہت نہ ہوئی جب تلک تھا وہ مری ذات میں روشن کاشفؔ میری آنکھوں کو اجالے کی ضرورت نہ ہوئی

ham se rudaad-e-mohabbat mein khayaanat na hui

غزل · Ghazal

دامن زیست غم سے بھر ڈالا بے وفا تجھ سے پیار کر ڈالا اتنا احساس بن چکا ہوں میں اپنا احساس قتل کر ڈالا ہم نے ماضی سے رابطہ کرکے اپنے زخموں کو آج بھر ڈالا جس کی خاطر ہوئے ہیں ہم رسوا وہ بھی عہد وفا مکر ڈالا اس کو منزل تو بخش دی مالک میرے حصے میں کیوں سفر ڈالا سب کو تجھ سے عطا ہوئی نعمت میری دنیا میں بس سفر ڈالا دل تو پہلے ہی لٹ گیا کاشفؔ اپنی غزلوں میں پھر جگر ڈالا

daaman-e-zist gham se bhar Daalaa

غزل · Ghazal

زخم دلگیر کو لہو کر کے تجھ کو ڈھونڈوں ہے آرزو کر کے ایک تیری تلاش میں ہم نے خود کو کھو ڈالا کو بہ کو کر کے پھر سے جاؤں گا اس کی محفل میں اپنے ہر زخم کو لہو کر کے عشق تجھ کو کہاں پہ لے آیا وہ پکارا ہے مجھ کو تو کر کے دیکھ لے خاک ہو گیا ہے دل رات دن تیری جستجو کر کے ہم نے اوراق زندگی کاشفؔ خود ہی جوڑے ہیں چار سو کر کے

zakhm-e-dil-gir ko lahu kar ke

غزل · Ghazal

جب کوئی ہم سے روٹھ جاتا ہے ہاتھ ہاتھوں سے چھوٹ جاتا ہے آنکھ اٹھتی ہے آسماں کی طرف دل مرا جب بھی ٹوٹ جاتا ہے دل ہوا ہے ہمارا دلی سا جس کو دیکھوں وہ لوٹ جاتا ہے اپنا دل اپنے پاس ہی رکھئے ہم سے وہ ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے سمجھو وہ ہو گیا خدا کے قریب جس کی باتوں سے جھوٹ جاتا ہے کتنا نازک ہے دل مرا کاشفؔ اس کی باتوں سے ٹوٹ جاتا ہے

jab koi ham se ruuTh jaataa hai

غزل · Ghazal

ہے وقت بگڑا ہمارا بدل بھی سکتا ہے تمہارے ہاتھ سے یہ پل نکل بھی سکتا ہے بہت سنبھالا ہے دل کو تمہاری فطرت سے مگر جو دیکھے گا پھر سے مچل بھی سکتا ہے حلال رزق میں برکت خدا نے رکھی ہے حرام کھا کے مرا جسم پل بھی سکتا ہے انا میں اپنی جسے تم سنا چکے ہو ابھی وہ فیصلہ کئی لوگوں کو کھل بھی سکتا ہے اگر خدا کو ہے منظور جان لو کاشفؔ مرا چراغ ہواؤں میں جل بھی سکتا ہے

hai vaqt bigDaa hamaaraa badal bhi saktaa hai

غزل · Ghazal

چند یادوں کے درمیاں ہوگا تیرا قصہ وہاں بیاں ہوگا تیرے احساس کا جو جادو ہے میری غزلوں سے وہ عیاں ہوگا جس نے روشن کریں میری راتیں وہ مرا چاند اب کہاں ہوگا آ کے اک بار دل میں جھانک میرے تو ہی اس میں کہیں نہاں ہوگا جب وہ بچھڑے گا میرے دل کا خوں کاش پھیلا یہاں وہاں ہوگا مجھ سے غزلیں اداس ہیں کاشفؔ آج پھر درد رائیگاں ہوگا

chand yaadon ke darmiyaan hogaa

Similar Poets