
Kashif Akhtar
Kashif Akhtar
Kashif Akhtar
Ghazalغزل
جب مری آنکھ میں لہو اترا پھر ترا عکس ہو بہو اترا دفعتاً تجھ کو چھت پہ دیکھا تھا پھر میں زینے سے با وضو اترا دن گزارا ترے تصور میں رات کو خواب میں بھی تو اترا عشق ایجاد ہو گیا پہلے اور پھر حرف آرزو اترا تیرے دل سے اتر گیا ہوں میں میرے دل سے مگر نہ تو اترا اس کو تکتا ہی رہ گیا کاشفؔ بام سے جب وہ ماہ رو اترا
jab miri aankh mein lahu utraa
تمہارے بن گزارا ہو رہا ہے خسارے پر خسارہ ہو رہا ہے بہت سوچا بچا لوں خود کو لیکن ادھر سے پھر اشارہ ہو رہا ہے شجاعت تو شہادت مانگتی ہے پر اب اس سے کنارا ہو رہا ہے مجھے پھر عشق نے آواز دی ہے مجھے تو یہ دوبارہ ہو رہا ہے عدو کے ساتھ اس کو دیکھتا ہوں قیامت کا نظارہ ہو رہا ہے ذرا سی تو نے کیا الفت دکھائی ترا ہر غم گوارا ہو رہا ہے مکیں تم جب سے اس دل میں ہوئی ہو ہر اک شے سے کنارا ہو رہا ہے یہ تیرا لمس تھا جس کی وجہ سے یہ میرا دل شرارہ ہو رہا ہے تجھے آواز دے کر تھک چکا ہوں اسی خاطر غرارہ ہو رہا ہے
tumhaare bin guzaaraa ho rahaa hai
جن کے چرچے شہر بھر میں پاک دامانی میں ہیں مے کدے میں دیکھ ان کو ہم تو حیرانی میں ہیں اس طرف ہے مے کدہ اور اس طرف ہے گھر ترا کس طرف جائیں ابھی تک اس پریشانی میں ہیں ایک لمحہ وصل کا ہم کو ملا جانے دیا خواہشیں اب تک ہماری اس پشیمانی میں ہیں متحد ہونا پڑے گا پار اترنے کے لئے کب سمجھ میں آئے گا ہم لوگ طغیانی میں ہیں یہ میرا حجرہ سکون قلب یہ سجدے میاں راحتیں کب یہ میسر قصر سلطانی میں ہیں
jin ke charche shahr bhar mein paak-daamaani mein hain
دے کے میں خود کو مات کمرے میں تنہا بیٹھا تھا رات کمرے میں تیرے ہونے سے یوں لگا مجھ کو جیسے ہو کائنات کمرے میں چھوڑ کر تم گئے تو جذبوں کی ہو گئی ہے وفات کمرے میں تیری تصویر اور یہ تنہائی کاٹ دی یوں حیات کمرے میں مصرع نعت جب پڑھا میں نے چار سو تھی نشاط کمرے میں تیری پلکوں پہ جو رکے آنسو جگمگائی ہے رات کمرے میں
de ke main khud ko maat kamre mein
مرا وجود وہی ہے تری کہانی میں کہ جیسے مچھلیاں پلتی ہیں یار پانی میں لبوں کی چاشنی ہے آج تک وہی کی وہی تمہارا نام لیا تھا کبھی روانی میں بچھڑ کے اس سے کسی اور سے ملا تھا میں بدل کے شکل وہ آیا تھا زندگانی میں میں اس کے جسم کی خوشبو کو ڈھونڈھتا ہی رہا نہ وہ گلاب میں پائی نہ رات رانی میں کسی کو اندھے کنویں میں امان بخشی ہے کسی کی جان بچائی ہے بہتے پانی میں سخن کی بارشیں ہوتی ہیں آج تک کاشفؔ کسی کا شعر سنا تھا کبھی جوانی میں
miraa vajud vahi hai tiri kahaani mein
آج بے پردہ نظر آنے میں کیا رکھا ہے یہ شب وصل ہے شرمانے میں کیا رکھا ہے یہ تری نرگسی آنکھوں کی کشش ہے شاید ورنہ ساقی ترے پیمانے میں کیا رکھا ہے ساز الفت پہ وفاؤں کا ترانہ چھیڑو ظلم اور جور کے افسانے میں کیا رکھا ہے ایک ہیں اس کی نگاہوں میں عدو ہو کہ رقیب دل تو پھر دل ہے دل آ جانے میں کیا رکھا ہے ان کا قاصد ہے بضد ساتھ میں چلئے کاشفؔ کل بھی آنا ہے تو اب آنے میں کیا رکھا ہے
aaj be-parda nazar aane mein kyaa rakkhaa hai





