SHAWORDS
Kashif Rafiq

Kashif Rafiq

Kashif Rafiq

Kashif Rafiq

poet
17Ghazal

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

کہاں خوابوں کی تعبیروں تلک ہے یہ سارا حسن تصویروں تلک ہے پس پردہ ہوس ہے کار فرما محبت صرف تحریروں تلک ہے کسی پر کھل سکے حالت ہماری یہ چشم نم کی تفسیروں تلک ہے ہماری بد نصیبی کا مداوا کہاں آدم کی تدبیروں تلک ہے مرا شوق اسیری شاہ زادی تری زلفوں کی زنجیروں تلک ہے کہاں ہم سے فقیروں کی رسائی ترے سپنوں کی جاگیروں تلک ہے وفا کی داستاں دنیا میں کاشفؔ رہ الفت کے نخچیروں تلک ہے

kahaan khvaabon ki taabiron talak hai

3 views

غزل · Ghazal

توسن وقت کی رفتار بڑھا دی جائے مدت ہجر کسی طور گھٹا دی جائے ان سے ملنے پہ ہے قدغن مگر اتنا تو ہو روز ان کی نئی تصویر دکھا دی جائے کوئی سرحد نہ ہو ویزے کی ضرورت نہ رہے کاش دنیا مرے خوابوں سی بنا دی جائے شاید اس طرح جدائی کی اذیت کم ہو عرصۂ وصل کی ہر یاد مٹا دی جائے لمحہ بھر فصل بھی خطرہ ہے تعلق کے لیے جوں ہی دیوار اٹھے گھر میں گرا دی جائے اسی دنیا میں اٹھائی ہے صعوبت کاشفؔ اسی دنیا میں محبت کی جزا دی جائے

tausan-e-vaqt ki raftaar baDhaa di jaae

2 views

غزل · Ghazal

کچھ بھی کر لیجیے وہ وضع بدلنے کے نہیں یعنی ہم کرب و اذیت سے نکلنے کے نہیں ہم بھلے کوچۂ ویراں میں اکیلے بھٹکیں اس زمانے کی روش پر کبھی چلنے کے نہیں آئنہ ہے ہمیں جب تک تری خنداں صورت ہم کسی رنج کی تصویر میں ڈھلنے کے نہیں ہاں کبھی سوز دروں ان کو گھلا دے شاید ورنہ نالوں سے ہمارے وہ پگھلنے کے نہیں ہو چکے خاک جو جل کر وہ پتنگے اے شمع دوسری بار ترے شعلے سے جلنے کے نہیں صحن دل میں جو لگائے تھے تمنا کے شجر ایسا لگتا ہے وہ امسال بھی پھلنے کے نہیں جب تلک منزل الفت پہ نظر ہے کاشفؔ پاؤں اپنے کسی ٹیلے سے پھسلنے کے نہیں

kuchh bhi kar lijiye vo vaza badalne ke nahin

2 views

غزل · Ghazal

یہ وحشت تنہائی سوغات ہے الفت کی یہ کرب کی پہنائی سوغات ہے الفت کی کہتے ہیں سبھی مجھ کو آوارہ و ناکارہ یہ دولت رسوائی سوغات ہے الفت کی وہ ہار کے بھی جیتیں ہم جیت کے بھی ہاریں یہ مات یہ پسپائی سوغات ہے الفت کی ہم لوگ حقیقت سے واقف تھے کہاں پہلے یہ رمز شناسائی سوغات ہے الفت کی ہم ہنس کے جو سہتے ہیں ہر ظلم زمانے کا یہ دل کی شکیبائی سوغات ہے الفت کی ہر شخص کے ہونٹوں پر نغمے جو تمھارے ہیں کاشفؔ یہ پذیرائی سوغات ہے الفت کی

ye vahshat-e-tanhaai saughaat hai ulfat ki

2 views

غزل · Ghazal

حیران اداس بے صدا ہے کس خوف میں شہر مبتلا ہے اعصاب پہ تیرگی ہے طاری کیوں دل کا چراغ بجھ گیا ہے ہے کوئی تو بات اس کے دل میں وہ مجھ سے یوںہی نہیں خفا ہے کیا کیجے ملال حاسدوں کا کون ان کا علاج کر سکا ہے افکار کا زاویہ بدل کر امکان سے آگے سوچنا ہے

hairaan udaas be-sadaa hai

1 views

غزل · Ghazal

سرچشمۂ خمار نے دیکھا نہ میری سمت یعنی کہ چشم یار نے دیکھا نہ میری سمت میں گلستان دہر سے بد ظن ہوں اس لیے گل ہائے دل بہار نے دیکھا نہ میری سمت جس کے ہر ایک اشک سے دکھتا تھا میرا دل اس چشم سوگوار نے دیکھا نہ میری سمت وابستہ میری جان تھی اس کی نگاہ سے لیکن ستم شعار نے دیکھا نہ میری سمت کاشفؔ مجھے دلاسے کی حاجت تھی جس گھڑی کیوں میرے غم گسار نے دیکھا نہ میری سمت

sar-chashma-e-khumaar ne dekhaa na meri samt

1 views

Similar Poets