SHAWORDS
Kaukab Zaki

Kaukab Zaki

Kaukab Zaki

Kaukab Zaki

poet
15Ghazal

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

tum mire ghar jo shab basar karte

تم مرے گھر جو شب بسر کرتے رات بھر جشن بام و در کرتے تم جو آتے مرے تصور میں میرے شعروں کو معتبر کرتے چھا گئے ہوتے ساری دنیا پر نیک اعمال تم اگر کرتے جان لیتے تم اس کی فطرت کو ساتھ اس کے کبھی سفر کرتے تجھ کو منزل کا گر پتا ہوتا ہم تجھے اپنا راہبر کرتے ملتفت کیوں ہوئے ہو غیروں پر تم مرے حال پر نظر کرتے ہم کو ملتا ذکیؔ اگر گستاخ زندگی اس کی مختصر کرتے

غزل · Ghazal

vo sang-dil miraa rahbar hai kyaa kiyaa jaae

وہ سنگ دل مرا رہبر ہے کیا کیا جائے اور اس کے ہاتھ میں خنجر ہے کیا کیا جائے مرے بزرگوں کے سر پر ہما کا سایہ تھا یہ آج غیروں کے سر پر ہے کیا کیا جائے یہ ہولی اس نے جو کھیلی ہے آتش و خوں کی سفیر امن بھی ششدر ہے کیا کیا جائے اڑیں گی دھجیاں پھر امن کی کہ وہ ظالم کھڑا ہوا سر منبر ہے کیا کیا جائے یہ تخت و تاج یہ محلوں کا کل جو والی تھا وطن میں اپنے ہی بے گھر ہے کیا کیا جائے بتاؤ کیسے جلاؤں میں شمع الفت کی کہ تیز بغض کی صرصر ہے کیا کیا جائے ذکیؔ وہ اپنی صفائی میں خواہ کچھ بھی کہے گمان میرا برابر ہے کیا کیا جائے وہ جس نے خون سے سینچا تھا اس چمن کو ذکیؔ خلاف اس کے ہی محضر ہے کیا کیا جائے

غزل · Ghazal

aql-o-daanish mein kisi se nahin kamtar ham log

عقل و دانش میں کسی سے نہیں کمتر ہم لوگ وقت واقف ہے کہ ہیں کتنے قد آور ہم لوگ کیسے ڈر جائیں گے دھمکی سے تری اے ناداں کیا تو واقف نہیں ہیں کتنے دلاور ہم لوگ ہم مسلمان ہیں اور پڑھتے ہیں حق کا کلمہ ساری دنیا کے تقابل میں ہیں برتر ہم لوگ گرچہ مفلس ہیں مگر دولت دیں رکھتے ہیں دیکھ کر ہم کو نہ سمجھیں کہ ہیں کمتر ہم لوگ سامنے لشکر باطل تھا ہزاروں کا مگر ڈٹ گئے حق کے لئے بس تھے بہتر ہم لوگ مشورہ بونوں کو یہ ہے کہ سدا حد میں رہیں اور بھولیں نہ کہ ہیں کتنے قد آور ہم لوگ سازشیں ہم کو ڈبونے کی رچاتا ہے عدو اے ذکیؔ کہہ دو کہ ہیں خوب شناور ہم لوگ

غزل · Ghazal

apne jalvon ko yuun na aam karo

اپنے جلووں کو یوں نہ عام کرو کچھ تو پردے کا اہتمام کرو ظلمتوں کی بساط ہی کیا ہے تم چراغوں کا انتظام کرو خوش دلی سے ملا کرو سب سے خندہ پیشانی اپنی عام کرو یہ نہ بھولو کہ تم محافظ ہو یوں نہ انساں کا قتل عام کرو اپنے اجداد ہوں نہ شرمندہ ایسا ویسا نہ کوئی کام کرو اس سے دل کا سکون ملتا ہے ذکر اللہ کا مدام کرو مفلسوں کو نہ دیکھو نفرت سے تم غریبوں کا احترام کرو یوں نمائش کرو نہ دولت کی اس برائی کا اختتام کرو چاہتے ہو کہ برگزیدہ ہوں تم حقائق کو اپنے نام کرو مجھ کو تم سے بڑی محبت ہے میرے جذبہ کا احترام کرو اگلی نسلوں کو جس سے فیض ملے ایسا دنیا میں کوئی کام کرو یہ نئے عہد کا تقاضہ ہے قاتلوں کا بھی احترام کرو تیز رفتار ہے زمانہ ذکیؔ تم ذکاوت کو تیز گام کرو

غزل · Ghazal

maamur-e-uns qalb-e-munavvar talaash kar

معمور انس قلب منور تلاش کر لبریز التفات سے پیکر تلاش کر تجھ کو جو دے دعا تو خدا رد نہیں کرے ایسا کوئی فقیر و قلندر تلاش کر منزل سے ہمکنار کرے کارواں کو جو ایسا کوئی جہان میں رہبر تلاش کر بلبل ہو فاختہ ہو کہ شاہیں کہ باز ہو سب مل کہ اڑ سکیں تو وہ امبر تلاش کر مشکل بہت ہے پھر بھی زمانے میں اے ذکیؔ مہر و وفا و خلق کا پیکر تلاش کر غواص گر سمجھتا ہے خود کو تو اے ذکیؔ تو بحر فن میں ڈوب کے گوہر تلاش کر ظلم و ستم تو حد سے گزرنے لگے ذکیؔ امن و اماں کا کوئی پیمبر تلاش کر

غزل · Ghazal

bataaun tujhe main ki kyaa chaahtaa huun

بتاؤں تجھے میں کہ کیا چاہتا ہوں ترے دل میں تھوڑی سی جا چاہتا ہوں نہ موٹر نہ بنگلہ نہ مرغ مسلم میں کٹیا میں سادہ غذا چاہتا ہوں رہے ہوش باقی نہ جب اس کو دیکھوں میں دلبر میں ایسی ادا چاہتا ہوں بہت تیز نفرت کی یہ آندھیاں ہیں اخوت کی ٹھنڈی ہوا چاہتا ہوں گناہوں سے کالا یہ دل ہو گیا ہے ذکیؔ اس مرض کی دوا چاہتا ہوں

Similar Poets