
Kazim Jarwali
Kazim Jarwali
Kazim Jarwali
Ghazalغزل
یہ سچ ہے چراغاں تھا اجالا بھی بہت تھا بستی کو مگر خوف ہوا کا بھی بہت تھا جس گھر کے در و بام پہ دیکھے گئے شعلے کچھ روز سے اس گھر میں اندھیرا بھی بہت تھا اچھا ہے جو دنیا نے مجھے چھوڑ دیا ہے میں بھیڑ کے ہم راہ اکیلا بھی بہت تھا موسم نے جسے کر دیا بے برگ و برہنہ سنتا ہوں کہ اس پیڑ میں سایا بھی بہت تھا اب دھوپ میں سوتا ہے جو کھولے ہوئے آنکھیں گزری ہوئی راتوں میں وہ جاگا بھی بہت تھا کیوں توڑ کے جاتا نہ وہ آئینہ ہمارا ہم نے اسے شیشے میں اتارا بھی بہت تھا ہیں ریت میں انسان کے ادھڑے ہوئے ناخن حیرت کی نہیں بات وہ پیاسا بھی بہت تھا کاظمؔ تھی بہت قدر کبھی اہل قلم کی دنیا میں کبھی نام ہمارا بھی بہت تھا
ye sach hai charaaghaan thaa ujaalaa bhi bahut thaa
جب بھی قصہ اپنا پڑھنا پہلے چہرہ چہرا پڑھنا تنہائی کی دھوپ میں تم بھی بیٹھ کے اپنا سایا پڑھنا آوازوں کے شہر میں رہ کر سیکھ گیا ہوں لہجہ پڑھنا ہر کونپل کا حال لکھا ہے شاخ کا پیلا پتا پڑھنا بھیج کے نامہ یاد دلا دو بھول گیا ہوں لکھنا پڑھنا لوگو میری پیاس کا قصہ صدیوں دریا دریا پڑھنا دیواروں پر کچھ لکھا ہے تم بھی اپنا کوچہ پڑھنا ماضی کا آئینہ رکھ کر خود کو تھوڑا تھوڑا پڑھنا میں ہوں سنگ میل کی صورت مجھ سے میرا رستا پڑھنا زیست کا مطلب کیا ہے کاظمؔ اپنا اپنا لکھنا پڑنا
jab bhi qissa apnaa paDhnaa
لہو میں غرق ادھوری کہانیاں نکلیں دہن سے ٹوٹی ہوئی سرخ چوڑیاں نکلیں میں جس زمین پہ صدیوں پھرا کیا تنہا اسی زمین سے کتنی ہی بستیاں نکلیں جہاں محال تھا پانی کا ایک قطرہ بھی وہاں سے ٹوٹی ہوئی چند کشتیاں نکلیں مسل دیا تھا سر شام ایک جگنوں کو تمام رات خیالوں سے بجلیاں نکلیں چرا لیا تھا حویلی کا اک چھپا منظر اسی گناہ پر آنکھوں سے پتلیاں نکلیں وہ اک چراغ جلا اور وہ روشنی پھیلی وہ رہزنی کے ارادے سے آندھیاں نکلیں وہ بچ سکیں نہ کبھی بوالہوس پرندوں سے حصار آب سے باہر جو مچھلیاں نکلیں خدا کا شکر کہ اس عہد بے لباسی میں یہ کم نہیں کہ درختوں میں پتیاں نکلیں یہی ہے قصر محبت کی داستاں کاظمؔ گری فصیل تو انساں کی ہڈیاں نکلیں
lahu mein gharq adhuri kahaaniyaan niklin
ہر طرف لو ہے یہاں پروائیوں میں چل کہیں جل نہ جائے تیرے نازک جسم کا صندل کہیں منتظر ہیں دھوپ کا تحفہ لئے سب راستے آؤ چل کر بیٹھ لیں سائے میں پل دو پل کہیں گیت کچھ مدھم سروں میں گائیں موجوں سے کہو ہو نہ جائیں صبح تک مانجھی کے بازو شل کہیں اتنے لمبے ہیں سمندر سے یہاں تک فاصلے ایسا لگتا ہے کہ تھک کر رک گئے بادل کہیں یوں نہیں آتے کبھی یہ آندھیوں کے قافلے رہ گئی ہوگی درختوں میں کوئی کوپل کہیں آج کی شب مجھ کو سونا ہے ہواؤں سے کہو لوریاں گاتی رہیں بجتا رہے پیپل کہیں دیکھیے کاظمؔ ذرا یہ موسموں کی دھوپ چھاؤں ہیں کہیں پیاسی زمینیں اور ہے جل تھل کہیں
har taraf lau hai yahaan purvaaiyon mein chal kahin
گل نے جب اختیار کی آواز اور مہکی بہار کی آواز کب سنیں گی ہمارے رشتوں کی سوکھی شاخیں بہار کی آواز آنے والا ہے کون سا موسم گل سے آتی ہے خار کی آواز پتھروں پر اثر نہیں کرتی جھیل دریا چنار کی آواز جانے کس سمت کس سمندر میں سو گئی آبشار کی آواز کر گئی ہے سماعتیں مجروح ٹوٹتے اعتبار کی آواز کل انہیں بام و در سے آئے گی میرے نقش و نگار کی آواز اب تو آنے لگی ہے آنکھوں سے نیند کے انتظار کی آواز تو مقرر ہے کس زمانے کا تجھ سے آتی ہے دار کی آواز خنجروں کے بدل گئے لہجے اک غریب الدیار کی آواز قافلے کا پتا بتائے کون چپ ہے صحرا غبار کی آواز تیرے ہر شعر کا ہے اے کاظمؔ حرف تنہا ہزار کی آواز
gul ne jab ikhtiyaar ki aavaaz
قاتلو مانگیں تو سوغات سفر دے دینا میرے بچوں کو مرا کاسۂ سر دے دینا لوگ پوچھیں گے کہ پردیس سے کیا لائے ہو راستو ہم کو ذرا گرد سفر دے دینا سرحدیں جس کی ملیں دار سے زندانوں سے زندگی مجھ کو وہی راہ گزر دے دینا اہل لشکر جو کمیں گاہوں میں واپس جانا میرے ہاتھوں میں بھی بوسیدہ سپر دے دینا گھر سے مسموم ہواؤں کو گزرنے کے لئے کوئی روزن کوئی کھڑکی کوئی در دے دینا کوئی کہتا ہے یہ مقتل کی زمیں سے جا کر آسمانوں کو مرے شمس و قمر دے دینا اب جو گھبرا کے اندھیرے سے یہ دنیا کاظمؔ روشنی مانگے تو تابوت سحر دے دینا
qaatilo maangein to saughaat-e-safar de denaa





