SHAWORDS
Kazim Raza Rahi

Kazim Raza Rahi

Kazim Raza Rahi

Kazim Raza Rahi

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

dard-e-dil ne nai kasak paai

درد دل نے نئی کسک پائی آپ کی یاد جب کبھی آئی کون جانے جو دل پہ گزری ہے کس نے ناپی ہے غم کی گہرائی اب جنوں کا خدا ہی حافظ ہے وحشت دل نے لی ہے انگڑائی آشیانے کی خیر ہو یا رب پھر گھٹاؤں میں برق لہرائی اشک پھر آج ہو گئے ارزاں چھٹ گیا دامن شکیبائی کرتے رہتے ہیں جو غلط تنقید وہ سمجھتے ہیں اس کو دانائی راہیؔ پا کر سراغ منزل کا عزم میں آ گئی توانائی

غزل · Ghazal

meraa ho kar bhi mujh se barham hai

میرا ہو کر بھی مجھ سے برہم ہے دل کا عالم عجیب عالم ہے آپ نے ظلم عطا کئے مجھ کو آپ کا یہ کرم بھی کیا کم ہے دل پہ جس دن سے سایۂ غم ہے دھڑکنوں کی صدا بھی مدھم ہے جن میں آنسو کبھی نہ آئے تھے آج وہ آنکھ بھی تو پر نم ہے ہر طرف ہے غموں کا سناٹا ہر طرف زندگی کا ماتم ہے زندگی کی مسرتیں قرباں کتنا پر لطف درد پیہم ہے تیرا راہیؔ ہے منتظر آ جا کس قدر خوش گوار موسم ہے

غزل · Ghazal

zehn-o-dil ko judaa judaa rakhnaa

ذہن و دل کو جدا جدا رکھنا مجھ سے اتنا تو سلسلہ رکھنا قربتوں کی اگر ہو خواہش پھر تم کو لازم ہے فاصلہ رکھنا گر یہ چاہو بھرم رہے قائم اپنے پیوند کو چھپا رکھنا لاکھ غم کا دھواں رہے دل میں اپنا چہرہ کھلا کھلا رکھنا توڑ ڈالے ہیں جس نے سب رشتے اب تعلق بھی اس سے کیا رکھنا سب خوشی دوستوں میں مت بانٹو دشمنوں کے لئے بچا رکھنا اک نہ اک دن وہ آئے گا راہیؔ اپنا دروازہ تم کھلا رکھنا

غزل · Ghazal

nafrat qubul jo mile thoDaa saa pyaar bhi

نفرت قبول جو ملے تھوڑا سا پیار بھی پہلو میں گل کے شاخ پہ ہوتے ہیں خار بھی سب پر ہوا عیاں مرا حال شکست دل جب تک تھے اشک آنکھوں میں تھے رازدار بھی آ جا کہ ہے فسردہ ہر اک گل ترے بغیر ہے کس قدر اداس یہ فصل بہار بھی امید ختم تار نفس ٹوٹنے لگا کب ساتھ چھوڑ دے یہ ترا انتظار بھی وحشت نے نوچ ڈالا مرے جسم کا لباس باقی رہے کہاں وہ گریباں کے تار بھی ہوتی نہیں قبول مری کوئی بھی دعا شاید کہ ہے خفا مرا پروردگار بھی راہیؔ ملے گی منزل مقصود کیا خبر ہے قافلے کی راہ میں گرد و غبار بھی

غزل · Ghazal

jab apni aankhon se ashkon kaa qaafila niklaa

جب اپنی آنکھوں سے اشکوں کا قافلہ نکلا کنارے ٹوٹے تو دریا کا حوصلہ نکلا وہ میری بزم میں آئے رقیب کے ہم راہ چلو کہ ملنے کا کوئی تو سلسلہ نکلا ملیں نہ آج بھی بچوں کو روٹیاں شاید وہ گھر سے صبح یہی سوچتا ہوا نکلا وہ اک ورق کہ مرا نام جس پہ لکھا تھا تری کتاب میں وہ کیوں مٹا مٹا نکلا میں اپنے چہرے پہ خوشیاں سجا تو لایا مگر ہر ایک شخص مرے غم سے آشنا نکلا میں اپنا حال سنانے لگا جسے راہیؔ تو اس کا درد مرے درد سے سوا نکلا

غزل · Ghazal

tum mire saamne aao to koi baat bane

تم مرے سامنے آؤ تو کوئی بات بنے زخم اس دل پہ لگاؤ تو کوئی بات بنے آگ گھر کی تو زمانے میں بجھاتے ہیں سبھی آتش دل جو بجھاؤ تو کوئی بات بنے راہ ہستی میں کڑی دھوپ ہے میرے سر پر تم گھٹا بن کے جو چھاؤ تو کوئی بات بنے چڑھتے سورج کو تو ہر شخص ہی کرتا ہے سلام گرتے لوگوں کو اٹھاؤ تو کوئی بات بنے ہر مسافر کو جہاں پھل بھی ملے سایہ بھی پیڑ کچھ ایسے لگاؤ تو کوئی بات بنے گھر کے آنگن کی تو دیوار گرا دی راہیؔ دل کا مینار گراؤ تو کوئی بات بنے

Similar Poets