
Khadeeja Mariyam
Khadeeja Mariyam
Khadeeja Mariyam
Ghazalغزل
گزرتی ہے شب بھر غزل کہتے کہتے میں روتی ہوں اکثر غزل کہتے کہتے مجھے تجھ سے پہلے کوئی جانتا تھا بنی ہوں سخنور غزل کہتے کہتے سناتی ہوں دکھڑے زمانے کو اپنے نہ بدلا مقدر غزل کہتے کہتے سخن آشنا شہر میں مل نہ پایا میں بھٹکی ہوں در در غزل کہتے کہتے جنوں میں کہاں ہوش رہتا ہے مریمؔ نکل آئی باہر غزل کہتے کہتے
guzarti hai shab-bhar ghazal kahte kahte
1 views
ہے فقط یہی فسانہ مری عمر مختصر کا مری کیا بساط ہستی ہوں چراغ رات بھر کا بڑی حوصلے سے کھیلی ہوں یہ زندگی کی بازی مجھے کیا مٹا سکے گا کوئی غم ادھر ادھر کا مرے سینۂ جہاں کو مرے غم نے پھونک ڈالا مرا گھر جلایا جس نے وہ چراغ بھی تھا گھر کا مجھے راس ہی نہ آئے مرے نیم شب کے سجدے مجھے دیکھ لو نشاں ہوں میں دعائے بے اثر کا جو بہار گلستاں میں یوںہی بن سنور کے نکلیں یہ بتاؤ مجھ کو مریمؔ کہ ہے قصد اب کدھر کا
hai faqat yahi fasaana miri 'umr-e-mukhtasar kaa
تجھ سے اے میرے ستمگر معذرت معذرت در معذرت در معذرت جو مری جانب اچھالے تھے کبھی آج کرتے ہیں وہ پتھر معذرت انکساری سے کھڑے رہتے ہیں ہم تو گزر جاتا ہے کہہ کر معذرت زلف جاناں کے جو دیکھوں پیچ و خم مجھ کو آ جاتے ہیں چکر معذرت اک گزارش تھی ترے برباد کی کر لی تصویر جنوں پر معذرت رات کے نالوں کا مریمؔ کیا کہیں ہم سے کر لیتے ہیں اکثر معذرت
tujh se ai mere sitamgar maa'zarat
بولتا ہے ترے اشعار کا جادو دل میں آ رہی ہے ترے الفاظ کی خوشبو دل میں ایسا لگتا ہے تری یاد چلی آئی ہے روشنی پھیلتی جاتی ہے جو ہرسو دل میں پھر ترے ہونٹ ہنسے ہیں مری بربادی پر کیوں چمکنے لگے امید کے جگنو دل میں تیرگی پھیل گئی خانۂ غم میں شاید ہجر کی رات نے کھولے ہیں یہ گیسو دل میں حسرتیں تولنے آئے ہیں وہ مریمؔ کیونکہ لے کے بیٹھے ہیں کئی درد ترازو دل میں
boltaa hai tire ash'aar kaa jaadu dil mein
زمانہ ساز خداؤں سے ڈر گئے ہم تم قسم خدا کی محبت میں مر گئے ہم تم جہاں میں آئے تھے کچھ عاشقان غم کے لیے صدائے عشق لگا کر گزر گئے ہم تم کبھی تھے جشن بہاراں کبھی تھے رونق گل سو مثل برگ خزاں اب بکھر گئے ہم تم وبال گردش دوراں ہمیں بتائے تو کہاں سے آئے تھے اور اب کدھر گئے ہم تم خدیجہؔ عشق و محبت کی داستاں بن کر کوئی تو کام زمانے میں کر گئے ہم تم
zamaana-saaz khudaaon se Dar gae ham tum
حسرت دل تھی کہاں کی وہ کہاں تک پہنچے پھر بہاروں کے تمنائی خزاں تک پہنچے دشت سے ہم کو نکالا بڑی بے رحمی سے کیوں نہ پھر قصۂ غم سب کی زباں تک پہنچے تم کسی سے بھی ملو ہم نے کبھی کچھ نہ کہا تم فلانے سے ملے اور فلاں تک پہنچے آج بھی صاحب ادراک بہت ملتے ہیں ایسے بھی لوگ ہیں جو درد نہاں تک پہنچے کوچ کر جاتے ہیں گلشن سے کہیں ایسا نہ ہو ہاتھ ہر پھول کا میری رگ جاں تک پہنچے شاعری شوق نہیں بلکہ ضرورت ہے مری تاکہ مریمؔ کی صدا سارے جہاں تک پہنچے
hasrat-e-dil thi kahaan ki vo kahaan tak pahunche





