
Khaleel Husain Balooch
Khaleel Husain Balooch
Khaleel Husain Balooch
Ghazalغزل
haalaat ki chikhon pe kabhi kaan dhareinge
حالات کی چیخوں پہ کبھی کان دھریں گے ہر خوف میں سہمی ہوئی آواز سنیں گے یہ لازم و ملزوم نہیں ہوش میں آؤں کب خمر تھی آنکھیں ہیں کئی روز لگیں گے افلاک سے لوٹی ہے دعا آ کے ذرا دیکھ ہر حرف کے چہرے پہ تجھے سوگ دکھیں گے نا امن کی خواہش کو کبھی خوف سمجھنا میداں میں ہمیں دیکھ ترے ہوش اڑیں گے بانٹا ہے مجھے ہجر نے ٹکڑوں میں کہ میری آنکھیں ہیں کہیں پر تو کہیں خواب ملیں گے پہلو سے اٹھے درد نے آنکھوں میں جگہ لی افسوس تجھے نیند یہاں کون سی جا دیں دو چار قدم آنکھ کو آنکھوں سے ملا کر اب خواب حقیقت کی اسیری کا کہیں گے اے عشق ترے در پہ ملی مر کے بلندی شہ رگ پہ تجھے زندہ و جاوید لکھیں گے یہ جنگ عجب جنگ ہے لڑنا نہ کبھی بھی اس عشق کے میداں میں جئیں گے نہ مریں گے تم دل میں چھپاؤ نہ کہو آگ لگے گی اشعار کے دامن میں کہاں درد چھپیں گے ہم ضبط خلیلؔ اوڑھ کے زخموں پہ کئی بار ہر آہ کے سینے پہ قدم رکھ کے ہنسیں گے
raah-e-taarik mein karte hain ujaale le jaa
راہ تاریک میں کرتے ہیں اجالے لے جا ٹھہر دیتا ہوں تجھے پیر کے چھالے لے جا آمد وصل پہ بندش ہے انوکھی کوئی ہجر سرکار کے پھونکے ہوئے تالے لے جا میرے اشعار غم جاں کا ثمر ہیں آخر میں نے ہیں درد بہت ناز سے پالے لے جا فتوائے فسق لگا شوق سے لیکن مجھ سے اپنے دو چار گناہوں کے حوالے لے جا میں کبھی درد کو آؤں گا دلاسہ دینے تو ابھی ہجر کو سینے سے لگا لے لے جا تیرے وعدوں پہ بڑی گرد جمی ہے آ کر اپنی قسموں کے لٹکتے ہوئے جالے لے جا میرے اس طاق میں رکھا ہے اٹھا لے لے جا کے جا تو اب عشق کو ماتھے پہ سجا لے لے جا جا بجا بھوک نے ڈیرے ہیں جمائے ہمدم اپنے دامن میں تو روٹی کے نوالے لے جا تم کسی خواب کو آئے ہو سہارا دینے چشم بیمار نے پھینکے ہیں اٹھا لے لے جا میری اب جان کے در پے ہے ترا ہجر خلیلؔ اس سے پہلے کہ مجھے مار ہی ڈالے لے جا
dil-e-gustaakh ko laazim hai jalaayaa hotaa
دل گستاخ کو لازم ہے جلایا ہوتا عشق معصوم تھا جھگڑے میں نہ لایا ہوتا تیری تعظیم میں اٹھی ہیں جو آہیں فوراً اک نظر دیکھ کے ان کو تو بٹھایا ہوتا لوگ جو عشق پہ گھر بار لٹا کر آئے وارث شعر و سخن ان کو بنایا ہوتا میرے وجدان میں رہتے ہیں کسی یاد کے دکھ خواب کچھ بھیج کے یادوں کو سلایا ہوتا مجھ کو محروم وفا دیکھ کے نوحہ کہتے عشق مغموم پہ ماتم ہی منایا ہوتا ایک ابہام ہے گھومے گا مقدر پھر سے کاٹ کے ہاتھ لکیروں کو گھمایا ہوتا ان کو بیمار کے لہجے کی تھکن یاد نہیں تجھ سا بے غرض مسیحا نہ خدایا ہوتا یہ مری صفت خلیلؔ آج مجھے لے ڈوبی سچ نے سولی پہ چڑھایا نہ چڑھایا ہوتا
tere andaaz-e-takallum kaa sahaaraa le kar
تیرے انداز تکلم کا سہارا لے کر جیت آئیں گے جہاں شوق تمہارا لے کر قبلۂ اہل جنوں میری ریاضت کا اجر راہ پرخار کا لوٹا ہوں نظارا لے کر گور کن درد کا مرقد تو بنانا لیکن ہجر مہجور تو پہلو سے ہمارا لے کر لوح افلاک پہ روشن ہے ہمارا چہرہ عشق پر نور کی عزت کا ستارہ لے کر وہ مرے بعد زمانے کو رلا کر بولا دل برباد کا آیا ہوں خسارہ لے کر شہر کا شہر شرابوں سے سوا بہکا ہے آپ کی آنکھ سے ہلکا سا اشارہ لے کر درد دلگیر کی شدت کا نظارا کرنا سرسری ہجر منا لینا ادھارا لے کر ہجر معشوق ہے طولانی تو اب عمر خلیلؔ حضرت خضر کی آؤں گا دوبارہ لے کر
diip yaadon ke dafinon pe jalaa kar soe
دیپ یادوں کے دفینوں پہ جلا کر سوئے خود پہ افتاد نئی روز اٹھا کر سوئے دل کے ارمان کئی اہل سخن رات گئے ایک گمنام اداسی کو سنا کر سوئے پھر شب ہجر کے سینے پہ لگائی ٹھوکر شعر دو چار نئے پھر سے بنا کر سوئے مجھ کو اک بحر اذیت کا حوالہ دے کر شب کہیں وصل کے دریا میں نہا کر سوئے وہ تری ہاں میں سدا ہاں ہی ملانے والے خود پہ اب داغ منافق کا سجا کر سوئے کل گئے رات جوانی سے رہائی مانگی بچپنے دور کو پہلو میں لٹا کر سوئے رب الارباب کی جاری ہوں عطائیں مجھ پہ میرے احباب اگر مجھ کو دعا کر سوئے دن کسی یاد کے سائے میں گزارا لیکن رات ہم درد کے قدموں میں بچھا کر سوئے تیرے اطراف ہی گھومے ہے تخیل میرا میری ہر ایک غزل تجھ کو سلا کر سوئے رات بھر نیند سے رہتی ہے لڑائی میری تو مرے یار اگر مجھ کو بھلا کر سوئے عشق تو خیر خلیلؔ اب بھی بلائے لیکن کس میں ہمت ہے شب ہجر منا کر سوئے
be-rahm dil ki himaaqaton ke asiir hain
بے رحم دل کی حماقتوں کے اسیر ہیں تبھی سرنگوں ہیں ندامتوں کے اسیر ہیں شب وصل عشق کی چاندنی کا غرور تھے وہی لوگ ہجر کی وحشتوں کے اسیر ہیں ہوئے سر بکف ہیں جو آندھیوں کی اڑان پر یہ چراغ عشق کی حرمتوں کے اسیر ہیں جنہیں اپنی قوت ضبط پہ کبھی ناز تھا وہی اشک درد کی شدتوں کے اسیر ہیں کوئی عشق تھا جو کسی کے جانے سے مر گیا کوئی زخم ہجر کی عدتوں کے اسیر ہیں جنہیں اے خدا تری آیتوں سے ہی بغض ہے وہی بحر و بر کی نجاستوں کے اسیر ہیں کہاں وہ زمیں کو سنا سکے ہیں ندائے دل مرے لفظ عرش کی وسعتوں کے اسیر ہیں جنہیں دان کر کے چلے گئے ہو عذاب جاں وہ انا پرست سے عبرتوں کے اسیر ہیں ہمی شعر لکھتے ہیں تیر و نیزہ کی نوک پر ہمی سرپھرے ہیں بغاوتوں کے اسیر ہیں کبھی تم نیا کوئی زخم دو کہ سنا سکوں ابھی شعر غم کی سماعتوں کے اسیر ہیں وہ خدا پرست خلیلؔ جو سر دار ہیں ہم انہی کے قرب کی لذتوں کے اسیر ہیں





