
Khalid Azmi
Khalid Azmi
Khalid Azmi
Ghazalغزل
جذبۂ عشق و وفا میں اک کمی باقی رہی ہر خطا میں کر چکا بس خودکشی باقی رہی بے وفا کیسے کہوں مجبور کہنا ٹھیک ہے ہم گئے دو سمت لیکن دوستی باقی رہی مدتوں پہلے عطا تم نے کیا تھا جو مجھے آج تک آنکھوں میں میرے وہ نمی باقی رہی جھوٹ کہنے کا سلیقہ اس کو آیا ہی نہیں اس کی فطرت میں ابھی تک سادگی باقی رہی وہ سراپا نور آیا اور فوراً چل دیا بعد جانے کے بھی اس کے روشنی باقی رہی
jazba-e-'ishq-o-vafaa mein ik kami baaqi rahi
دغا فریب ستم قتل عام کیا کیا ہے امیر شہر بتا تیرا کام کیا کیا ہے ادب تمیز محبت خلوص کی باتیں تمہاری بزم میں آخر حرام کیا کیا ہے یہ چکلہ گھر بھی یہ میخانے بھی خصوصی ہیں تمہارے شہر میں بازار عام کیا کیا ہے غریبی فاقہ کشی درد اور مجبوری زندگی یہ تو بتا تیرا نام کیا کیا ہے نصیب سب کا بتاتے ہو کچھ بتاؤ مجھے مرے نصیب میں اس صبح و شام کیا کیا ہے
daghaa fareb sitam qatl-e-‘aam kyaa-kyaa hai
مزدور کے کسان کے حالات پہ لکھیں آؤ غزل کو اپنی نئی بات پہ لکھیں اب داستان شیریں و فرہاد چھوڑ کر اشفاق کے بھگت کے خیالات پہ لکھیں اپنی قلم کو رنگ سیاست سے موڑ کر کشمیر پہ اسام پہ گجرات پہ لکھیں انسانیت کے ذکر کا کچھ بھی ہے گر خیال اس ملک کے غریب کے جذبات پہ لکھیں انسان ہی تو پیاسا ہے انساں کے خون کا قاتل کے ڈر سے سہمی ہوئی رات پہ لکھیں
mazdur ke kisaan ke haalaat pe likhein
جب سے میرا مقدر خفا ہو گیا میں وفادار سے بے وفا ہو گیا میں نے ان کو بھلانے کی کھائی قسم اور حق دوستی کا ادا ہو گیا جس میں خود کو بچانے کی طاقت نہیں آج کے دور میں وہ خدا ہو گیا ہے لگی آگ نفرت کی چاروں طرف دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہو گیا عادت مانوں گا تیرا کبھی میں نہیں حق میں ان کے اگر فیصلہ ہو گیا
jab se meraa muqaddar khafaa ho gayaa
اگر ہے حوصلہ آؤ چلو اڑان بھی لو مگر ضروری ہے دشواریوں کو جان بھی لو قدم قدم پہ نیا پل صراط ملتا ہے بہت کٹھن ہے محبت کی راہ مان بھی لو چنا اکیلا کہاں بھاڑ پھوڑ پاتا ہے تمہارے ہاتھ میں ہے تیر تو کمان بھی لو یہ کھیت میرے ہیں محنت بھی میرے کنبے کی یہ بات ٹھیک نہیں مجھ سے تم لگان بھی لو
agar hai hausla aao chalo uDaan bhi lo
الم میں شاد ہو کر دیکھتے ہیں ذرا آزاد ہو کر دیکھتے ہیں حسد ہے ان کو خوشحالی سے میری چلو برباد ہو کر دیکھتے ہیں جہاں پہ جان کو خطرہ بہت ہے وہیں آباد ہو کر دیکھتے ہیں ضروری ہے نہیں مل جائے شیریں مگر فرہاد ہو کر دیکھتے ہیں اگرچہ خون میں ان کے ستم ہے ہمیں فولاد ہو کر دیکھتے ہیں
alam mein shaad ho kar dekhte hain





