
Khalid Fatehpuri
Khalid Fatehpuri
Khalid Fatehpuri
Ghazalغزل
dhokaa bhi nahin thaa koi unvaan bhi nahin thaa
دھوکا بھی نہیں تھا کوئی عنواں بھی نہیں تھا ایسے میں جئے جانے کا امکاں بھی نہیں تھا کیا جانئے کیا سوچ کے واں ڈوب گئے ہم دریا میں تو اس دم کہیں طوفاں بھی نہیں تھا آباد سرابوں سے سدا اس کا جہاں تھا صحرا مرے دل سا کبھی ویراں بھی نہیں تھا اک بات تھی یہ ہم اسے سوچیں کہ نہ سوچیں ہاں اس کے سوا مسئلۂ جاں بھی نہیں تھا یہ جان کے وہ رقص کیا اہل جنوں نے جو ہاتھ لگا ان کے گریباں بھی نہیں تھا ہر سانس نکلتی ہے تری یاد میں ڈوبی اور بھول کے جینا تجھے آساں بھی نہیں تھا کچھ پھول شگفتہ مرے ہونٹوں پہ سجے ہیں آئینہ مجھے دیکھ کے حیراں بھی نہیں تھا پھولوں کے لہو سے یہ چمن زار تھا روشن گلشن میں کہیں خار مغیلاں بھی نہیں تھا ہے بات بڑی جان مری کام تو آئی وہ قتل مجھے کر کے پشیماں بھی نہیں تھا ان مست نگاہوں کے اشاروں کو سمجھنا مشکل بھی نہیں تھا کوئی آساں بھی نہیں تھا دنیا یہ بھلا کیوں مرے قدموں میں پڑی ہے میں اس کے لئے اتنا پریشاں بھی نہیں تھا پلکوں کو سکھا دیتے رہ و رسم بھی خالدؔ تھی ہجر کی شب اور چراغاں بھی نہیں تھا
na vo dard hai na vo ranj hai na hujum zulmat-e-shaam hai
نہ وہ درد ہے نہ وہ رنج ہے نہ ہجوم ظلمت شام ہے مرے خشک ہونٹوں پہ یک بیک جو چمک اٹھا ترا نام ہے کبھی کہکشاں سے گزر گئے کبھی بزم گل میں اتر گئے جو سمجھ گئے تو ٹھہر گئے ترا در ہی اپنا مقام ہے مرے غم ہیں کتنے عجیب سے وہ ملا کہاں ہے نصیب سے یہاں قرب کی مجھے آرزو وہاں دور ہی سے سلام ہے جو چھپا کے پیاسوں سے میں پیوں جو کسی کے ہاتھ سے چھین لوں تو وہ پیاس مجھ سے گناہ ہے تو وہ جام مجھ پہ حرام ہے سنو سر پھرو مرے حاسدو مری زندگی کا ہے راز کیا مرا سر کہیں بھی جھکے تو کیوں مرا دل کسی کا غلام ہے ہمیں تھی خبر یہ تو پیشتر کہ ہے آستیں میں چھپی چھری ملے پھر گلے یہی سوچ کر چلو لب پہ اس کے تو رام ہے میں وہی ہوں خالدؔ نارسا مجھے جانتا ہے یہ مے کدہ مرا جام جام میں عکس ہے مرا بوند بوند میں نام ہے
shokh-o-gustaakh jab andaaz-e-sabaa hotaa hai
شوخ و گستاخ جب انداز صبا ہوتا ہے تب کہیں جا کے حسیں رنگ قبا ہوتا ہے رنگ بھرنے کی ہیں باتیں سبھی افسانے میں عشق میں کون بھلا کس سے جدا ہوتا ہے جب دہکتے ہوئے ہونٹوں کا تصور ابھرے دل میں سویا ہوا ہر زخم ہرا ہوتا ہے اس سے کیا کہئے سر راہ کوئی بات کبھی گر میں مل جاؤں مجھے ڈھونڈ رہا ہوتا ہے علم والو یہ ذرا پڑھ کے بتاؤ مجھ کو کیا رخ گل پہ یہ شبنم سے لکھا ہوتا ہے پھر خطا پوچھ لی تم نے تو سزا سے پہلے ایسی باتوں سے ہی خالدؔ وہ خفا ہوتا ہے
na kami koi tire naaz mein na kami hai zauq-e-niyaaz mein
نہ کمی کوئی ترے ناز میں نہ کمی ہے ذوق نیاز میں تو وفائیں میری ہی پیش کر مرے خون دل کے جواز میں مری خاک میں تری سانس ہے تری روشنی مرے پاس ہے مجھے دل دیا صنم آشنا مرا سر جھکا ہے نماز میں کبھی خط کو تیرے چھپا لیا کبھی اشک آئے تو پی لئے مری زندگی تو گزر گئی اسی پردہ دارئی راز میں کسی غزنوی کے نصیب میں کہاں وہ عروج نیاز تھا کئی غزنوی تھے جڑے ہوئے اسی اک لباس ایاز میں ہیں ترے سوا بھی بہت حسیں مجھے تو نظر سے گرا نہیں اسی آسمان کے سائے میں اسی خاکدان مجاز میں نہ یوں فخر کر نہ یوں سر اٹھا کہ یہ سچ ہے خالدؔ بے نوا تو یہ سوچ لے تو یہ جان لے کہ نشیب بھی ہیں فراز میں
mujh ko yuun mujh se milaa de koi
مجھ کو یوں مجھ سے ملا دے کوئی میں صدا دوں تو صدا دے کوئی میں نے پوچھا تو ہے انجام وفا اب یہ ڈر ہے نہ بتا دے کوئی آرزو یہ ہے کہ خوشبو اپنی میری سانسوں میں بسا دے کوئی اس کے رخسار شفق گوں کی چمک میرے ہونٹوں پہ سجا دے کوئی جو جفا پیار سے تو نے کی ہے اس کو کیوں کر نہ بھلا دے کوئی خون دل سے جو لکھا ہے میں نے کاش اشکوں سے مٹا دے کوئی نظریں پھر اس کو اٹھا بھی نہ سکیں خود کو اتنا نہ گرا دے کوئی عشق میں باندھ کے پیمان وفا مجھ کو جینے کی دعا دے کوئی سمجھیں ہم زہر تمنا اس کو اپنی آنکھوں سے پلا دے کوئی آس ہی ٹوٹ نہ جائے خالد جب دوا دے نہ دعا دے کوئی
zindagi khatm bhi hone pe kasak baaqi hai
زندگی ختم بھی ہونے پہ کسک باقی ہے اجڑے گھر میں تری سانسوں کی مہک باقی ہے میرے ہمدم مجھے بیداد سے محروم نہ کر دامن روح میں زخموں کی تپک باقی ہے مجھ کو دو چار گھڑی اور بھی جینے دیجے سسکیوں کی ابھی زخموں میں سنک باقی ہے آس کی شمع پگھلنے کو ہے اب تو آ جا رات باقی ہے ستاروں میں چمک باقی ہے میں کسی وعدہ فراموش کا آئینہ ہوں میری آنکھوں میں ابھی اس کی جھلک باقی ہے دل زخمی لئے بیٹھا ہوں عزیزان کرام آؤ کچھ اور چھڑک دو جو نمک باقی ہے





