SHAWORDS
K

Khalid Mahmood Zaki

Khalid Mahmood Zaki

Khalid Mahmood Zaki

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

اشکوں سے دھل کے آئنہ خانہ بدل گیا بارش ہوئی تو موسم رفتہ بدل گیا جب بھی سنبھالا چاند نے برباد شہر کو دیوار و در وہی رہے نقشہ بدل گیا اک دشت بے اماں میں سفر کر رہے تھے ہم سانسیں اکھڑ گئیں کبھی رستہ بدل گیا اتری نظر سے گرد تو منظر کچھ اور تھا یوں لگ رہا تھا جیسے وہ چہرہ بدل گیا ہر بار پہنچے ہم ترے معیار تک مگر ہر بار تیرا ہم سے تقاضا بدل گیا پہلے تو انتقام نے شل کر دئیے حواس پھر جانے کیا ہوا کہ ارادہ بدل گیا اس بار تیرے حرف تسلی نہ بن سکے اس بار تیری بات کا لہجہ بدل گیا کم کم رہا تھا دن کے سمے دل میں تیرا عکس شب آ گئی تو جیسے یہ شیشہ بدل گیا

ashkon se dhul ke aaina-khaana badal gayaa

غزل · Ghazal

گزری ہوئی وہ رت کبھی آنی تو ہے نہیں دل نے مگر یہ بات بھی مانی تو ہے نہیں اے قصہ گو یہ لہجہ ترا یوں کبھی نہ تھا کچھ تو بتا یہ کیا ہے کہانی تو ہے نہیں کچھ اس کے مسکرانے سے اندازہ ہو تو ہو اندر کی چوٹ ہے نظر آنی تو ہے نہیں پھر اس گلی نہ جانے پہ راضی ہوا تو ہے اب کے بھی دل نے بات نبھانی تو ہے نہیں وہ بات اب کہاں کہ دلوں کو کرے غلام بس اک چمک ہے آنکھ میں پانی تو ہے نہیں دنیا ترے لئے جو گزاری گزار دی اب یہ جو رہ گئی ہے گنوانی تو ہے نہیں

guzri hui vo rut kabhi aani to hai nahin

غزل · Ghazal

پہلے تو شہر بھر میں مثال آئنے ہوئے پھر گرد سے سراپا سوال آئنے ہوئے چہرہ چھپائے پھرتا ہے گہرے نقاب میں اک شخص کو تو لو کی مثال آئنے ہوئے ہم کو سزا ملی کہ اجالے تھے آئنے سو اپنی جاں پہ سارا وبال آئنے ہوئے پھر یوں ہوا کہ ضبط کی صورت نہیں رہی اور شہر بےنوا کے غزال آئنے ہوئے جن کے سبب سے ہم ہوئے معتوب شہر میں اک وقت آ گیا وہ خیال آئنے ہوئے وہ درد جی اٹھا کہ گریباں تھے تار تار وہ رت امڈ پڑی کہ نہال آئنے ہوئے

pahle to shahr bhar mein misaal aaine hue

غزل · Ghazal

ایک پیکر ہے کہ امسال میں آتا ہی نہیں جیسے آئینہ خد و خال میں آتا ہی نہیں آسماں کا یہ قفس قید کرے بھی کیسے دل وہ پنچھی کہ پر و بال میں آتا ہی نہیں ہم جسے دیکھتے ہیں اس کے علاوہ بھی ہے اک زمانہ جو مہ و سال میں آتا ہی نہیں اپنے رہنے کو بھی کیا شہر ملا ہے جس کا حال یہ ہے کہ کسی حال میں آتا ہی نہیں مانتا کب ہے کسی سود و زیاں کو یہ دل ایسا وحشی ہے کسی چال میں آتا ہی نہیں

ek paikar hai ki imsaal mein aataa hi nahin

غزل · Ghazal

تجھے پا کر بھی جب کوئی کمی محسوس ہوتی ہے تو پھر یہ سانس بھی رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جو کہنا ہی نہیں اس کا اشارہ کیوں دیا جائے کہ ایسی بات تو کچھ اور بھی محسوس ہوتی ہے عدیم الفرصتی شدت سے اس کا یاد آ جانا غنیمت ہے اگر یہ تشنگی محسوس ہوتی ہے پلٹ کر آ گئے ہو تم تو کیوں آئے نہیں لگتے تمہاری آنکھ میں کیوں گرد سی محسوس ہوتی ہے وگرنہ بوجھ ہے جس کو لئے پھرنا ہے کاندھے پر کریں محسوس تو یہ زندگی محسوس ہوتی ہے شجر وہ بھی جسے سینچا ہو اپنا خون دے دے کر کبھی اس کی بھی چھاؤں اجنبی محسوس ہوتی ہے یہ میرے خواب ہیں جو سایہ کرتے ہیں مرے سر پر مجھے اس دوپہر میں چھاؤں سی محسوس ہوتی ہے کسی کی گفتگو کے درمیاں اکثر نہ جانے کیوں کہیں گہری سی کوئی خامشی محسوس ہوتی ہے زمیں تیری طرح میں بھی سفر میں ہوں کہ جیسے تو کبھی ٹھہری نہیں ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی ہے

tujhe paa kar bhi jab koi kami mahsus hoti hai

غزل · Ghazal

وہ جو اعتبار جمال تھے وہ کہاں گئے وہ جو آپ اپنی مثال تھے وہ کہاں گئے کبھی ہر طرف کوئی دل کشی سی محیط تھی اسی دشت میں جو غزال تھے وہ کہاں گئے کہیں ایک پل کو بھی تو نظر نہیں آ رہا غم دل ترے مہ و سال تھے وہ کہاں گئے وہ جو خواب لے کے چلے تھے ہم وہ کہاں گیا وہ جو اس کے غم میں نڈھال تھے وہ کہاں گئے کبھی پہروں اس کا بس اک اسی کا خیال تھا وہ جو ہجر تھے جو وصال تھے وہ کہاں گئے کبھی پہلے جب وہ ملا تھا ویسا نہیں رہا کئی رنگ اس میں کمال تھے وہ کہاں گئے یہ جو لوگ میرے قریب ہیں یہ کہاں کے ہیں وہ جو حسن خواب و خیال تھے وہ کہاں گئے

vo jo e'tibaar-e-jamaal the vo kahaan gae

Similar Poets