
Khalid Sajjad
Khalid Sajjad
Khalid Sajjad
Ghazalغزل
جنہیں سفر کے لیے حوصلہ نہیں ملتا ہجوم میں بھی انہیں راستہ نہیں ملتا برا نہ مان اگر دیکھنے لگا ہوں تجھے میں کیا کروں کہ مجھے آئنہ نہیں ملتا لگی ہوئی ہے یوں ہی دل کو حرص دنیا کی وگرنہ ان سے جو مانگوں تو کیا نہیں ملتا میں اپنے گھر سے نکل کر کہاں چلا آیا کہ شہر بھر میں کوئی آشنا نہیں ملتا عذاب جان بنا ہے یہ شور شہر فشار سکوں کے واسطے اب میکدہ نہیں ملتا میں کیا کہوں کہ ہوا ہی خلاف ہے میرے پلٹ کے آؤں تو در بھی کھلا نہیں ملتا کہیں سے روشنی لا دو وگرنہ اب خالدؔ وہ گھر جلائیں گے جن کو دیا نہیں ملتا
jinhein safar ke liye hausla nahin miltaa
کام کا ایک یہی کام کیا عشق در عشق صبح و شام کیا دل جواباً دھڑک رہا تھا مرا تو نے آنکھوں سے جب سلام کیا مجھ کو تجھ سے بڑی محبت ہے لے یہ دل میں نے تیرے نام کیا بیعت عشق توڑ دی اس نے جس نے دنیا کا احترام کیا تب سمجھ آیا خال و خد کا کلام تجھ سے جب روبرو کلام کیا میری بد نامیوں سے پوچھ تجھے کتنی مشکل سے نیک نام کیا ہم پیمبر ہیں حسن جاناں کے اس شریعت کو ہم نے عام کیا درد کے اب وہاں خزانے ہیں میں نے خالدؔ جہاں قیام کیا
kaam kaa ek yahi kaam kiyaa
عشق جب سے عذاب ہو گیا ہے دل کا خانہ خراب ہو گیا ہے مجھ کو فرصت نہیں ہے پڑھنے کی اس کا چہرہ کتاب ہو گیا ہے پوچھ مت اس کے لمس کا نشہ جسم سارا شراب ہو گیا ہے دھوپ نکلی ہوئی ہے چاروں طرف کون یہ بے حجاب ہو گیا ہے اپنے حصے میں رات کیا آئی ہر کوئی آفتاب ہو گیا ہے عشق جس سے ہوا مجھے خالدؔ وہ کلی سے گلاب ہو گیا ہے
ishq jab se azaab ho gayaa hai
لہو میں جتنی جولانی رہے گی سفر میں اتنی آسانی رہے گی محبت سے گلے ملتے ہیں یارو کہاں نفرت پریشانی رہے گی تجھے دیکھے جو مدت ہو گئی ہے نگاہوں میں تو ویرانی رہے گی اے میرے چاند گہنائے گا تو بھی کہاں تک تجھ میں تابانی رہے گی
lahu mein jitni jaulaani rahegi
کون یہ آگ لیے روز یہاں آتا ہے سانس لیتا ہوں تو اندر سے دھواں آتا ہے ہم نے تو پیاس بجھانی ہے فقط اشکوں سے دشت ہجراں سے کہاں آب رواں آتا ہے یہ بھی کافی ہے کہ وہ یاد تو کرتا ہے مجھے کوئی ملنے کو بھلا روز کہاں آتا ہے ہجر اک ایسا علاقہ ہے کہ جس سے آگے گریۂ دل کے لیے شہر زیاں آتا ہے میں ترے جانے سے ناراض نہیں ہوں اے دوست پیڑ جھڑ جاتے ہیں جب دور خزاں آتا ہے کون سی راہ پہ تو چھوڑ گیا ہے مجھ کو ختم ہوتا ہے سفر اور نہ مکاں آتا ہے اس جگہ کیسے کوئی خواب محبت دیکھے رات کے وقت جہاں شور سگاں آتا ہے یہ زمیں اس لیے آباد ہے خالد سجادؔ ایک در ہے کہ جہاں سارا جہاں آتا ہے
kaun ye aag liye roz yahaan aataa hai
خاک میری بکھر گئی ہے کیا آسماں تک نظر گئی ہے کیا کس لیے تم اداس پھرتے ہو دل سے دنیا اتر گئی ہے کیا اپنی مرضی سے در بدر ہوں میں تو بتا اپنے گھر گئی ہے کیا اے صبا جس طرف ہے پھول مرا یہ بتا تو ادھر گئی ہے کیا یہ جو دن میں بدل گئی ہے رات زلف تیری سنور گئی ہے کیا تیرے ماتھے پہ کیوں پسینہ ہے خواب میں تو بھی ڈر گئی ہے کیا اس طرح کیوں اداس بیٹھے ہو کوئی دل میں اتر گئی ہے کیا ساری دنیا الٹ گئی میری تو ادھر سے ادھر گئی ہے کیا یہ جو منزل ہے پاؤں میں خالدؔ جستجو کام کر گئی ہے کیا
khaak meri bikhar gai hai kyaa





