SHAWORDS
Khalish Kalkatvi

Khalish Kalkatvi

Khalish Kalkatvi

Khalish Kalkatvi

poet
1Shayari
4Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کہاں سے آنا ہے ہر آدمی یہاں تنہا رلا کے ہم کو چلا جانا ہے کہاں تنہا یزید عصر نے گھیرا ہے یوں مجھے جیسے مقابلے میں ہو اک تیرے بے کماں تنہا لگے ہیں خیمے وہیں آج کاروانوں کے گیا تھا شہر میں تھک کر جہاں جہاں تنہا یہ کون رہتا ہے سائے کی طرح ساتھ مرے رہ طلب میں تو میں ہوں رواں دواں تنہا جو دیکھیے مرے ہمدم ہیں میرے ساتھ مگر اٹھا رہا ہوں میں بار غم جہاں تنہا سنو جو کہتے ہیں سرگوشیوں میں شہر کے لوگ امیر شہر سے کب میں ہوں بد گماں تنہا بجھاؤ جلد تمہاری بھی ورنہ خیر نہیں کبھی جلا ہے چمن میں اک آشیاں تنہا خلش کسی کا سہارا بنے کوئی کیوں کر یہاں ہر ایک کا ہونا ہے امتحاں تنہا

kahaan se aanaa hai har aadmi yahaan tanhaa

غزل · Ghazal

سبک ہوں اپنی نگاہوں میں عرض حال کے بعد کہ آبرو نہیں رہتی کبھی سوال کے بعد نہ پوچھو دل کو ہوئی ہیں اذیتیں کیا کیا کبھی سوال سے پہلے کبھی سوال کے بعد ضمیر کی وہ مسلسل ملامتیں توبہ ملا ہے دل کو سکوں اشک انفعال کے بعد قرار دل کو نہیں تھا قرار دل کو نہیں ترے وصال سے پہلے ترے وصال کے بعد ترے عتاب سہے صبر سے تو لطف ہوا ترا جمال بھی دیکھا ترے جلال کے بعد ظن و گماں سے گزر کر ترا خیال آیا کوئی خیال نہ آیا ترے خیال کے بعد میں دل تو ہار چکا جان و مال حاضر ہیں خلشؔ کے پاس ہے کیا اور جان و مال کے بعد

subuk huun apni nigaahon mein arz-e-haal ke baad

غزل · Ghazal

ہے دھوپ‌ چھاؤں کی مانند زندگی میری ثبات غم کو نہیں عارضی خوشی میری اسی کو اب مری ہر بات زہر لگتی ہے کبھی پسند نہ تھی جس کو خامشی میری تری نظر کا سہارا بڑا سہارا تھا جہاں میں کر نہ سکا کوئی ہمسری میری کبھی گناہ کبھی حسرت گناہ کا غم تمام کرب مسلسل ہے زندگی میری میں دل کا حال اسی کو سناتا رہتا ہوں چھپی نہ جس سے کوئی بات ان کہی میری میں مثل کرمک شب تاب جلتا رہتا ہوں کسی کے کام تو آئے گی روشنی میری جو میرے خدشۂ فردا پہ خندہ زن ہیں خلشؔ مری دعا ہے ملے ان کو آ گئی میری

hai dhup-chhaanv ki maanind zindagi meri

غزل · Ghazal

بھوک سے بچے بلکتے ہیں نہ جانے کتنے اور پانی میں بہا دیتے ہیں دانے کتنے اک تمنا کا ہوا خون تو کیا غم اے دوست دفن ہیں سینے میں ارمان نہ جانے کتنے کبھی اوروں کی کبھی اپنی حماقت کے طفیل ہاتھ آتے رہے ہنسنے کے بہانے کتنے زندگی ایک حقیقت بھی ہے افسانہ بھی ہر گلی کوچے میں بکھرے ہیں فسانے کتنے اک گل تازہ کی تخلیق میں اے گلچینو جانے قدرت نے لٹائے ہیں خزانے کتنے میری روداد کو سب اپنا فسانہ سمجھے اک فسانے میں ہیں پوشیدہ فسانے کتنے حوصلہ بخشا ہے جینے کا انہی خوابوں نے ہم نے دیکھے ہیں خلشؔ خواب سہانے کتنے

bhuuk se bachche bilakte hain na jaane kitne

Similar Poets