
Khan Ateeq Afridi
Khan Ateeq Afridi
Khan Ateeq Afridi
Ghazalغزل
ghar mein rahun to apni hi tanhaaiyaan Dasein
گھر میں رہوں تو اپنی ہی تنہائیاں ڈسیں نکلوں جو شہر میں تو شناسائیاں ڈسیں وہ لوچ وہ شباب وہ انداز دل کشی جاؤں جب اس کے پاس تو انگڑائیاں ڈسیں وہ پاس ہو تو صبح بہاراں ہے زندگی وہ دور ہو تو مجھ کو یہ انگنائیاں ڈسیں ترک تعلقات کا احساس جاگ جائے آ آ کے یاد اس کی جب اچھائیاں ڈسیں گمنام رہ کے جن کی دعائیں تھیں میرے ساتھ شہرت ملی مجھے تو وہ پرچھائیاں ڈسیں اس سے نظر ملے تو ابھر آئے دل کی چوٹ وہ پھیر لے نگاہ تو پروائیاں ڈسیں دل ٹوٹنے کے راز سے واقف نہیں کوئی پھر بھی قبیلے والوں کی دانائیاں ڈسیں کچھ لوگ بے حسی کے سمندر میں غرق ہیں مجھ کو شعور و فکر کی گہرائیاں ڈسیں جب اپنا خون بھی نہ ہو اپنا تو پھر عتیقؔ مجھ کو مرے خلوص کی رسوائیاں ڈسیں
maan mujhe apni du'aaon ke asar mein rakhnaa
ماں مجھے اپنی دعاؤں کے اثر میں رکھنا نام میرا سر فہرست ہنر میں رکھنا مانا دشوار صلیبوں کا سفر ہوتا ہے پھر بھی تم خود کو صلیبوں کے سفر میں رکھنا چاہتے ہو جو نمائش نہ ہو داغ دل کی سیکھ لو گھر کی ہر اک بات کو گھر میں رکھنا دشمنی جال بچھائے ہوئے بیٹھی ہے یہاں کتنا دشوار ہے چہروں کو نظر میں رکھنا جب بھی سائے کی ضرورت کا ہو احساس تمہیں اپنی آنکھوں کو فقط سبز شجر میں رکھنا سربلندی کا اگر شوق ہے دل میں یارو کچھ نہ کچھ طاقت پرواز بھی پر میں رکھنا شاعری کے لیے اب یہ بھی ضروری ہے عتیقؔ قوم کا درد بھی تم اپنے جگر میں رکھنا
ye shohraton ke safar bhi 'ajib hote hain
یہ شہرتوں کے سفر بھی عجیب ہوتے ہیں کہ غم گسار محبت رقیب ہوتے ہیں جو کاہلی میں قناعت نصیب ہوتے ہیں وہی زمانے میں دکھ کے نقیب ہوتے ہیں تلاش درد ہو جن کو سکون دل کے لیے وہ اہل غم بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں جو دل میں جذبۂ اخلاص ہی نہیں رکھتے نہ جانے کیوں وہی میرے حبیب ہوتے ہیں ہمیشہ سچ کی ترازو میں خود کو جو تولیں کسی بھی وقت وہ نذر صلیب ہوتے ہیں جو والدین کی خدمت سے مستفیض نہ ہوں وہ بچے کتنے بڑے کم نصیب ہوتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں زندگی میں عتیقؔ جو دور ہوتے ہوئے بھی قریب ہوتے ہیں
apne ghar se us ke ghar kaa faasla thaa mukhtasar
اپنے گھر سے اس کے گھر کا فاصلہ تھا مختصر زندگی درکار تھی گو راستہ تھا مختصر زندگی کا زندگی سے رابطہ تھا مختصر اس نے دیکھا میں نے دیکھا واقعہ تھا مختصر آپ بھی اپنے کیے پر کچھ پشیماں سے لگے میں بھی یہ سوچا کیا اک حادثہ تھا مختصر ایسی راتیں آج بھی آنکھوں میں کٹتی ہیں مری زندگی کا جن سے شاید واسطہ تھا مختصر میرے ماضی کا تعلق میرے مستقبل کے ساتھ اک حقیقت تھی مگر اک فاصلہ تھا مختصر اک حقیقت تھا مگر ہوں آج بے تعبیر خواب اب کہانی ہوں کبھی اک واقعہ تھا مختصر آج ان آنکھوں نے میرے دل میں پھر جھانکا عتیقؔ آج ان آنکھوں میں پھر اک حوصلہ تھا مختصر
kab samundar huun kahaan dariyaa huun main
کب سمندر ہوں کہاں دریا ہوں میں اپنے ہی کردار میں ڈوبا ہوں میں میری فطرت ہے صداقت کی امیں سچ کو سچ کہنے سے کب جھجکا ہوں میں رات دن کیوں ہو تعاقب میں مرے چھو نہ پاؤ گے بہت اونچا ہوں میں جس کہانی کا میں اک کردار تھا وہ کہانی اب سمجھ پایا ہوں میں ساری دنیا اک طرف میں اک طرف لو خریدو کس قدر سستا ہوں میں آج بھی انسانیت کے نام پر مل کے اک انسان سے رویا ہوں میں توڑنا یوں مجھ کو مشکل ہے عتیقؔ سچ کی اونچی شاخ پہ پھلتا ہوں میں
baraae-naam sahi saaebaan nahin miltaa
برائے نام سہی سائباں نہیں ملتا خلوص تجھ سا کہیں مجھ کو ماں نہیں ملتا پسند ہیں مجھے اب تک نصیحتیں اس کی کہ باپ جیسا کوئی مہرباں نہیں ملتا تعجب ان کو ہے کیوں میری خود کلامی پر کہ مجھ کو اپنے سوا راز داں نہیں ملتا پروں میں قوت پرواز ہی نہ ہو جس کے وہ لاکھ چاہے اسے آسماں نہیں ملتا نگاہیں ڈھونڈھتی رہتی ہیں اس کے لہجے کو غفور جیسا کوئی خوش بیاں نہیں ملتا تمام عالم اسلام منتظر ہے عتیقؔ ہو جس کے سینے میں عزم جواں نہیں ملتا





