SHAWORDS
Khan Janbaz

Khan Janbaz

Khan Janbaz

Khan Janbaz

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا دنیا سے ایک اور قلندر چلا گیا غربت کا اپنے حال تجھے اور کیا کہوں اک دن تو اک فقیر بھی اٹھ کر چلا گیا فرعون اپنے دور کا زندہ ہے آج بھی دنیا سمجھ رہی تھی ستم گر چلا گیا چاقو پہ ہے نشان کسی بے گناہ کا قاتل تو ہاتھ میں لئے خنجر چلا گیا وہ تنکا جوڑ کر کے نشیمن جو تھا بنا بستی کی آگ میں وہ مرا گھر چلا گیا امید کر چکا تھا نئے سال سے بہت اک اور زخم دے کے دسمبر چلا گیا لیلیٰ سے جو ملا تھا وہ پتھر لئے ہوئے جانبازؔ اپنے شہر سے باہر چلا گیا

aashiq jo is gali kaa bhi mar kar chalaa gayaa

غزل · Ghazal

میرے دل کو اس طرح لگتا تمہارا بوجھ ہے جس طرح بے نور آنکھوں کو نظارہ بوجھ ہے ہم کو کیا مطلب حسیں ہوگی تو ہوگی عمر یہ ہم یتیموں کے لیے بچپن ہمارا بوجھ ہے دونوں کندھے جھک گئے اٹھرہ برس کی عمر میں مجھ اکیلی جان پر سارے کا سارا بوجھ ہے آسمانوں پر بھی رائج ہے زمیں جیسا نظام دیکھ اوپر آج کل کوئی ستارہ بوجھ ہے سر پہ پھرتی ہے لئے وہ اپنے پہلے عشق کو کتنی پیاری لڑکی ہے اور کتنا پیارا بوجھ ہے سر پہ میرے پہلے سے تھیں گھر کی ذمہ داریاں اور اب یہ عشق یارو کتنا سارا بوجھ ہے

mere dil ko is tarah lagtaa tumhaaraa bojh hai

غزل · Ghazal

میں شکل دیکھ کے کیسے کہوں کہ کیا ہوگا حسین شخص ہے ممکن ہے بے وفا ہوگا تمہیں خیال بھی آیا سفر پہ جاتے ہوئے تمہارے بعد ہمارا یہاں پہ کیا ہوگا میں جھوٹ بول کے آیا تھا واپسی کا جسے وہ شخص اب بھی مری راہ دیکھتا ہوگا یہ دوستی نہ کہیں پیار میں بدل جائے اب اپنے درمیاں تھوڑا سا فاصلہ ہوگا یہ راز مجھ پہ کھلا اب کہ میرا کوئی نہیں میں سوچتا تھا مرے ساتھ بھی خدا ہوگا یہ شاعری کا تو خود شوق تھا اسے جانبازؔ ہاں شاعروں سے کوئی مسئلہ رہا ہوگا

main shakl dekh ke kaise kahun ki kyaa hogaa

غزل · Ghazal

مجھے بنانے میں سب کا خرچہ لگا ہوا ہے کسی کا لوہا کسی کا تانبا لگا ہوا ہے نہیں ہے اپنا کوئی بھی دنیا جہاں میں لیکن کسی کو کھونے کا مجھ کو خدشہ لگا ہوا ہے کبھی تھی ٹھنڈی زمین سائے سے جن کے لوگو ہمارا ایسے شجر سے شجرہ لگا ہوا ہے وہ شوخ لڑکی حسین چہرہ کمال باتیں سنا ہے اس کا کسی سے رشتہ لگا ہوا ہے مجھے ہمیشہ سے بیٹری کہہ کے ہنسنے والی تجھے ہی تکنے سے مجھ کو چشمہ لگا ہوا ہے کسی کی آنکھیں کسی کا دل اتنا کہہ کے جانبازؔ وہ پوچھتا ہے کہ تیرا کیا کیا لگا ہوا ہے

mujhe banaane mein sab kaa kharcha lagaa huaa hai

غزل · Ghazal

اس قدر تھا یہ گریبان مرا چاک میاں قیس بھی دیکھ کے کہتا تھا خطرناک میاں سرخ آنکھیں نا پھٹی آپ کی پوشاک میاں ہجر کاٹا ہے بھلا آپ نے کیا خاک میاں جاوداں عشق ہو اپنا یہ دعا مانگی تھی پھر ہوا عشق کا انجام المناک میاں پھینک آیا ہوں میں اک ریل کی پٹری پہ بدن گھر میں رکھتا بھلا کب تک خس و خاشاک میاں عمر بھر مجھ کو کسی ایک کا ہونے نہ دیا مجھ سے بڑھ کر تو مرا دل ہی تھا چالاک میاں

is qadar thaa ye garebaan miraa chaak miyaan

غزل · Ghazal

صیاد بتا تو سہی اس جال میں کیا ہے گر دل نہیں میرا تو ترے بال میں کیا ہے ویسے تو خود اس چاند کا قائل ہوں میں لیکن اک روشنی کو چھوڑ کر اس تھال میں کیا ہے مجنوں ہی بتا سکتا ہے لیلیٰ کی فضیلت یا سوہنی سے پوچھ کہ مہیوال میں کیا ہے میں حشر کے میدان میں کہہ دوں گا محبت پوچھے گا خدا جب ترے اعمال میں کیا ہے جی کرتا ہے ان کو تری تصویر دکھا دوں جو پوچھتے ہیں مجھ سے کہ بنگال میں کیا ہے اللہ بنا دے مرے اشکوں کو کبوتر سب پوچھ رہے ہیں ترے رومال میں کیا ہے

sayyaad bataa to sahi is jaal mein kyaa hai

Similar Poets