KHanjar Ajmerii
KHanjar ajmerii
KHanjar ajmerii
Ghazalغزل
kuchh ek main hi nahin teraa jaan-e-jaan mushtaaq
کچھ ایک میں ہی نہیں تیرا جان جاں مشتاق ہے تیری دید کا مدت سے اک جہاں مشتاق سگان کوچۂ دلبر کا اے ہما کب سے ہے جسم میں مرے ہر ایک استخواں مشتاق تم اشتیاق میں اس کو پڑا ہی رہنے دو تمہارا چھوڑ کے در جاوے یہ کہاں مشتاق خدا کے واسطے رخ سے نقاب کو الٹو کہ کر رہے ہیں بہت دیر سے فغاں مشتاق حرم میں دیر میں دشت و چمن میں ملتے نہیں کریں تلاش بتاؤ تمہیں کہاں مشتاق کنوئیں جھکاؤ نہ ان کو ذرا دکھاؤ جمال تمہارا غیرت یوسف ہے کارواں مشتاق دکھاؤ گے تم اگر کاکل مسلسل کو ہمارے پاؤں کی ہوویں گی بیڑیاں مشتاق روش پہ باغ میں تن کے تو چل ذرا لب جو ہوئی ہیں سرو رواں تیری قمریاں مشتاق اشاروں سے ہے ترے ابرو و مژہ کے عیاں شکار کے لئے ہیں تیر اور کماں مشتاق دل وصال میں ہو کیوں نہ انتظار فراق بہار کی بھی سدا رہتی ہے خزاں مشتاق ہمارا سر ترے خنجرؔ کے وار کا قاتل ہے آرزوئے شہادت میں ہر زماں مشتاق
khun-e-dil hai sharaab ke maanind
خون دل ہے شراب کے مانند اور جگر ہے کباب کے مانند ساقی یہ بھی ہے تیرا فیض عام پیتے ہیں مے جو آب کے مانند مئے گلگوں کو ساقیٔ گلفام پیتے ہیں ہم گلاب کے مانند برگ گل لب دہن گل سوسن گال ہیں بس گلاب کے مانند ہجر ساقی میں خون دل اپنا پیتے ہیں ہم شراب کے مانند ہیں برسنے میں وقت گریہ مرے دیدۂ تر سحاب کے مانند یہ بہار اور یہ چمن بلبل ہوں گے اک روز خواب کے مانند بے دلآرام راحت و آرام ہو گئے ہیں عذاب کے مانند کوئی شے تشنۂ شہادت کو نہیں خنجرؔ کی آب کے مانند
kisi din ghar mire aaya to hotaa
کسی دن گھر مرے آیا تو ہوتا تلطف مجھ پہ فرمایا تو ہوتا ذرا زلفوں کو دکھلایا تو ہوتا بلا سر پر مرے لایا تو ہوتا عیادت کو اگر آیا نہیں وہ جنازے پر مرے آیا تو ہوتا گل خوبی چمن میں مسکرا کر ذرا غنچہ کو شرمایا تو ہوتا بلا کر کان کی بجلی کو اپنے کبھی بجلی کو چمکایا تو ہوتا وفا پر بھی جفائیں کر رہا ہے ارے ظالم تو پچھتایا تو ہوتا گلستاں میں کسی دن دل پہ بلبل مرے مانند گل کھایا تو ہوتا مرے لاشے کو اے رشک مسیحا ذرا قم کہہ کے ٹھکرایا تو ہوتا ترے خنجرؔ سے قاتل میرے مانند کسی نے سر کو کٹوایا تو ہوتا
zulf suljhaai un ki shaane se
زلف سلجھائی ان کی شانے سے مجھ سے بگڑے اسی بہانے سے دل ہی قابو سے میرے جاتا ہے باز آیا میں دل لگانے سے لکھا تقدیر کا ارے ناداں کہیں مٹتا بھی ہے مٹانے سے مل گئے دل کو داغ ہائے درم خسرو عشق کے خزانے سے شب کو محفل میں دیکھ کر مجھ کو اٹھ گیا نیند کے بہانے سے کیا ملے گا فلک تجھے بتلا بیکسوں کے ارے ستانے سے دیکھ کر رات دن کی نیرنگی آ گیا تنگ میں زمانے سے در بدر پھرتے کس لئے لیکن سب ہیں ناچار آب و دانے سے اپنے قاتل کے روبرو خنجرؔ موڑنا منہ نہ سر جھکانے سے
diyaa hai dil tumhein apnaa samajh kar
دیا ہے دل تمہیں اپنا سمجھ کر امانت ہے اسے رکھنا سمجھ کر چڑھائی تیغ ابرو کیا سمجھ کر ہم آئے قتل کی ایما سمجھ کر نہ بل کھائے کہیں دست نزاکت اٹھائیے ذرا پردا سمجھ کر شراب شوق سے ساقئ مدہوش ہمارے زخم کو بھرنا سمجھ کر مجھے محراب ابرو بس ہے تیری کروں سجدہ تجھے کعبہ سمجھ کر نہیں مطلب ہمیں دیر و حرم سے جہاں جاتے ہیں گھر تیرا سمجھ کر چمن میں چہچہا اب شاخ گل پر تو کرنا بلبل شیدا سمجھ کر ہر اک کوچے میں میرے واسطے طفل لیے پتھر ہیں دیوانا سمجھ کر مہ گردوں پہ شب کو چاندنی میں نظر کرتا ہوں رخ تیرا سمجھ کر گلے پر قاتل بے رحم میرے چلایا تو نے خنجرؔ کیا سمجھ کر
jo surat dekh li us mah-laqaa ki
جو صورت دیکھ لی اس مہ لقا کی نظر آئی مجھے قدرت خدا کی ابھی قبروں سے مردے اٹھ کھڑے ہوں سنیں آواز گر رفتار پا کی مرا دل لے کے مجھ سے پھر گیا ہے وفا کے بدلے ظالم نے دغا کی کیے جاتے ہو مجھ سے ہے وفائی زباں میری نہیں اب تک ہے شاکی ہزاروں غیر کو دیتے ہو بوسے لیا گر ایک میں نے کیا خطا کی کیے جاتا ہے جور و ظلم مجھ پر کچھ آخر انتہا بھی ہے جفا کی مجھے کافی ہے تیرا سایۂ زلف نہیں خواہش ہے کچھ ظل ہما کی نہ آیا پر نہ آیا وہ ستم گر خوشامد کی بہت کچھ التجا کی تمہارے آب خنجرؔ کا ہوں پیاسا نہیں ہے آرزو آب بقا کی





