SHAWORDS
K

Khurshid Khawar Amrohvi

Khurshid Khawar Amrohvi

Khurshid Khawar Amrohvi

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

تو ہی نہیں گردش میں مورکھ گردش میں سنسار بھی ہے روگوں سے بھرپور ہے دنیا روگوں کی بھر مار بھی ہے ماہ وشوں کی الفت میں کچھ جیت بھی ہے کچھ ہار بھی ہے دل کی باتیں دل ہی جانے دل کو ہی آزار بھی ہے مشق ستم کیجے دل بھر کر حاضر ہوں ہر طرح سے میں چاہے جس سے گھائل کیجے ابرو بھی تلوار بھی ہے عشق حقیقی میں مرنا تو عین سعادت ہے بے شک کشتئ دل ڈوبے یا ابھرے ساحل بھی منجدھار بھی ہے حسن طلب ہے اپنا اپنا چاہے جسے اپنا لیجے گلشن ہستی میں سب کچھ ہے پھول بھی ہے اور خار بھی ہے یہ دنیا آنی جانی ہے پیارے کون ہے کس کا میت سب کو تو اپنا سمجھا ہے کوئی ترا غم خوار بھی ہے جائز ہے مذہب میں اس کے فکر سخن کے ساتھ میں وعظ خاورؔ کی بابت مت پوچھو زاہد بھی فنکار بھی ہے

tu hi nahin gardish mein murakh gardish mein sansaar bhi hai

1 views

غزل · Ghazal

ملا مجھ سے وہ اتنی بے رخی سے کہ جیسے اجنبی اک اجنبی سے مذمت صرف وہ کرتے ہیں اس کی نہیں واقف جو رمز عاشقی سے سر فہرست ہیں اہل خرد کی جنہیں نسبت نہیں کچھ آگہی سے جو تھا تقدیر میں وہ پیش آیا شکایت کیا کروں اب میں کسی سے سنانا چاہتا ہوں دل کی باتیں مگر ڈرتا ہوں ان کی برہمی سے غبار راہ سے کہہ دو کہ چھٹ جائے نہیں واقف یہ قیس عامری سے یہاں جب سیر کو بھی ہو سوایا تو پھر کم خود کو کیوں سمجھوں کسی سے سمجھتا ہے وہی روزی رساں ہے توقع اور کیا ہو آدمی سے مصیبت میں نہیں کوئی کسی کا ملا خاورؔ سبق یہ دوستی سے

milaa mujh se vo itni be-rukhi se

1 views

غزل · Ghazal

تمام عیش و طرب ہیں فقط اسی کے لئے خرد سے کام لیا جس نے زندگی کے لئے یہ ارتقائے خرد ہے کہ انتہائے جنوں جنوں نواز بنے ہیں جو آگہی کے لئے چمک رہے ہیں جو قطرات خوں سر مژگاں یہ اہتمام چراغاں ہے آپ ہی کے لئے جہاں گمان بھی ہو آپ کے گزرنے کا وہیں جھکا دیا سر میں نے بندگی کے لئے مہہ‌ و نجوم پہ ڈالی گئی کمند شعور یہ التزام ہے دو دن کی زندگی کے لئے یہ جشن عیش و طرب آپ ہی کے دم سے ہے ہوئے ہیں آپ تو پیدا ہی دلبری کے لئے لہو سے اپنے جلا کر چراغ آنکھوں میں حریم دل کو سجایا ہے آپ ہی کے لئے اسی کے واسطے چمکے ہیں کوکب تقدیر چراغ ہوش بھی روشن ہے آدمی کے لئے سمجھ سکا نہ انا الحق کے راز کو خاورؔ یہ ایک کھیل تھا عرفاں کے منتہی کے لئے

tamaam aish-o-tarab hain faqat usi ke liye

1 views

غزل · Ghazal

بہ فیض عشق ہر جا سینکڑوں دیوانے ملتے ہیں جہاں بھی شمع روشن ہو وہیں پروانے ملتے ہیں نہیں موقوف کچھ صحرا نوردی پر ہی اے ہمدم جہاں ہوتے ہیں فرزانے وہیں دیوانے ملتے ہیں یہ دل کی بستیاں آباد ہیں جو حسن فطرت سے انہی آبادیوں کے قلب میں ویرانے ملتے ہیں بتا دے کاش یہ کوئی حرم کے جانے والوں کو حرم کی راہ میں بھی انگنت بت خانے ملتے ہیں حدود عشق میں ہی عافیت ہے یہ سمجھ لیجے حدود عشق کے اس پار تو ویرانے ملتے ہیں نہیں لاتا ہوں اندیشوں کو خاطر میں کبھی ہرگز وہیں جاتا ہوں اڑ کر میں جہاں کچھ دانے ملتے ہیں جہاں ضدین یکجا ہوں وہی دنیا ہے اے خاورؔ جہاں ہوں جانے پہچانے وہیں بیگانے ملتے ہیں

ba-faiz-e-ishq har jaa sainkaDon divaane milte hain

غزل · Ghazal

رات کیوں مختصر نہیں ہوتی ہجر کی کیوں سحر نہیں ہوتی جو گزرتی ہے ہجر میں مجھ پر کیا انہیں کچھ خبر نہیں ہوتی زندگی کیوں وبال ہے یارو چین سے کیوں بسر نہیں ہوتی حسرتیں دل میں ہیں بہت لیکن کوئی بھی بار ور نہیں ہوتی لاگ سے جو پڑے کسی شے پر وہ نظر بے اثر نہیں ہوتی کب کیا ہے اسے نظر انداز اس کو یہ کیوں خبر نہیں ہوتی کچھ دعا میں اثر نہ ہو تو نہ ہو بد دعا بے اثر نہیں ہوتی خالق جزو و کل ادھر بھی دیکھ کیوں توجہ ادھر نہیں ہوتی تم سے آشفتہ سر کی اے خاورؔ بات کچھ معتبر نہیں ہوتی

raat kyon mukhtasar nahin hoti

غزل · Ghazal

کسی کے چہرے کی تابندگی کو کیا کہئے پھر اس پہ زلف کی اس برہمی کو کیا کہئے یہ کیا جگہ ہے کہ پرسان حال کوئی نہیں یہاں کے لوگوں کی اس بے رخی کو کیا کہئے نقوش حسن ابھرتے رہے ہیں ذہن میں کیوں تصورات کی اس آذری کو کیا کہئے نہ ہو سکون تو پھر لطف زندگی کیا ہے جہاں سکون ہو اس زندگی کو کیا کہئے نہیں ہے میری نگاہوں کو تاب نظارہ کسی کے حسن کی اس خیرگی کو کیا کہئے خود اپنے دیس میں پامال ہو گیا ہے کوئی چمن میں پھول کی بے حرمتی کو کیا کہئے کلی کو کر ہی دیا بے حجاب اے خاورؔ نسیم صبح کی بے رہ روی کو کیا کہئے

kisi ke chehre ki taabindagi ko kyaa kahiye

Similar Poets