SHAWORDS
K

Kokab Muradabadi

Kokab Muradabadi

Kokab Muradabadi

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

جھجک کیسی ہے تم بیداد پر بیداد کر لینا ستم ایجاد ہو تازہ ستم ایجاد کر لینا تمہیں مشق جفا منظور اگر ہے دل بھی حاضر ہے ابھی برباد کر دو پھر اسے آباد کر لینا رہائی ہو کہ پابندی اسیر ان کے انہیں کے ہیں ابھی پابند کر دینا ابھی آزاد کر لینا بجز اس کے کروں تو کیا کروں اے بے بسی میری کبھی خاموش رہ جانا کبھی فریاد کر لینا یہ ظاہر ہے کہ ہم مجبور ہیں کچھ کر نہیں سکتے ستم تجھ سے جہاں تک ہو سکے صیاد کر لینا اگر شہرت تمہیں منظور ہے اہل محبت میں سبق مہر و وفا کا دل لگا کر یاد کر لینا خدا ناکردہ تم کیوں پاس آؤ نا مرادوں کے جو ممکن ہو تو ان بھولے ہوؤں کو یاد کر لینا جفاؤں پر بھی شاداں ہوں وفاؤں پر بھی قرباں ہوں مجھے تم آزما کر اپنے دل کو شاد کر لینا کرو کوکبؔ وطن کی قدر کیا بیٹھے ہو تم غافل کبھی تو خدمت اہل مرادآباد کر لینا

jhijak kaisi hai tum bedaad par bedaad kar lenaa

غزل · Ghazal

لے لیا دل یہ دل لگی کیا ہے تم رلاتے ہو یہ ہنسی کیا ہے عشق بعد فنا بھی مٹ نہ سکا موت کیا شے ہے زندگی کیا ہے روز و شب ہیں عتاب و جور و ستم ان کے الطاف میں کمی کیا ہے اے بتو یہ غرور صورت پر تم خدا بن گئے خودی کیا ہے دل بے مایہ ہے خزینۂ غم مفلسی میں مجھے کمی کیا ہے خاک کو آسماں سے کیا نسبت میری اور ان کی دوستی کیا ہے نشۂ دید میں جو ہو بے خود پھر اسے لطف مے کشی کیا ہے چارہ گر وقف چارہ سازی ہیں اک مصیبت ہے دوستی کیا ہے نور الفت کی ہے یہ جلوہ گری ورنہ کوکبؔ میں روشنی کیا ہے

le liyaa dil ye dil-lagi kyaa hai

غزل · Ghazal

اے خدا عشق میں محنت مری برباد نہ ہو دل گرفتار وفا ہے کہیں آزاد نہ ہو وعدۂ وصل انہیں یاد دلاؤں تو کہیں بات تم ایسی کہو کیوں جو مجھے یاد نہ ہو دل آفت زدہ اب دیکھ چکا عیش کے دن یہ وہ ویرانہ ہے جو پھر کبھی آباد نہ ہو در قفس کا ہے کھلا کچھ سر پرواز نہیں اس قدر بھی اثر الفت صیاد نہ ہو جس کو تو لطف سمجھتا ہے ستم نکلے گا اے دل آغاز محبت ہے ابھی شاد نہ ہو وصل کے ذکر سے کیا کام سمجھ جاؤں گا اک اشارا ہی سہی منہ سے کچھ ارشاد نہ ہو ظلم بے جا سے تو خود باز نہیں آتے ہیں اور مجھ پر ہے یہ تاکید کہ فریاد نہ ہو تیرے قامت نے اٹھائی ہے قیامت کیسی مجھ کو ڈر ہے یہ کوئی مصرعۂ استاد نہ ہو آج کیوں نغمۂ لے میں ہے فغاں کا انداز تیری محفل میں کہیں کوکبؔ ناشاد نہ ہو

ai khudaa ishq mein mehnat miri barbaad na ho

غزل · Ghazal

ضبط فغاں بجا سہی غم کے اثر کو کیا کروں نالۂ شب کو کیا کروں آہ سحر کو کیا کروں صبح شب فراق بھی شام الم سے کم نہیں جس میں نہ کوئی نور ہو ایسی سحر کو کیا کروں فطرت عشق نے مجھے دولت درد بخش دی طاعت شب سے کام کیا ذکر سحر کو کیا کروں صبح ازل کی روشنی میری نظر میں ہے ابھی نور سحر تو آپ ہیں نور سحر کو کیا کروں شام الم کی ظلمتیں کافی ہیں میرے واسطے میں تو بلا نصیب ہوں لے کے سحر کو کیا کروں صبح میں اب کہاں وہ حسن شام میں اب کہاں وہ کیف عالم انتظار کے شام و سحر کو کیا کروں عیش میں بھی خیال غم مانع ذوق و شوق ہے اے شب وصل دل نواز وہم سحر کو کیا کروں میرے نصیب میں نہیں جلوۂ صبح آرزو کوکبؔ شام غم ہوں میں نجم سحر کو کیا کروں

zabt-e-fughaan bajaa sahi gham ke asar ko kyaa karun

غزل · Ghazal

عشق صادق ان کو بھی کر دے نہ دیوانہ کہیں شمع جلتے جلتے بن جائے نہ پروانہ کہیں کہہ نہ دے رند سبو کش راز مے خانہ کہیں محتسب بھی سن کے ہو جائے نہ مستانہ کہیں مستیاں چھائی ہوئی ہیں میکدہ میں چار سو جلوۂ ساقی کہیں ہے دور پیمانہ کہیں جوش وحشت بڑھتے بڑھتے ہو نہ جائے پردہ در خلق میں مشہور ہو میرا نہ افسانہ کہیں چشم مست ساقیٔ مخمور ہے مے کش نواز بھر نہ جائے عمر دو روزہ کا پیمانہ کہیں مے پرستی کا مزا آئے نشہ بڑھتا رہے آج ساقی دے جو پیمانے پہ پیمانہ کہیں کان اس آواز دل کش سے ہوں کیونکر آشنا غم کدہ میرا کہیں ان کا طرب خانہ کہیں سن کے میرے جذبۂ وحشت کو وہ کہنے لگے نذر شوق دید ہو جائے نہ دیوانہ کہیں ضبط لازم ہے تمہیں کوکبؔ فروغ عشق میں ہر کس و نا کس سے کہہ دینا نہ افسانہ کہیں

ishq-e-saadiq un ko bhi kar de na divaana kahin

غزل · Ghazal

اس پہ کچھ بھی اثر نہیں ہوتا بے خبر با خبر نہیں ہوتا دل میں کب جلوہ گر نہیں ہوتا کب وہ پیش نظر نہیں ہوتا تجھ سے دل بے خبر نہیں ہوتا نہیں ہوتا مگر نہیں ہوتا کیا کٹھن منزل محبت ہے خضر بھی ہم سفر نہیں ہوتا حال مہجور پوچھتے کیا ہو ہوش دودو پہر نہیں ہوتا کیا کہوں بدگمانیاں دل کی اعتبار نظر نہیں ہوتا اس پہ رحمت کو ناز ہوتا ہے جس دعا میں اثر نہیں ہوتا پھر دوبارہ نظر نہیں اٹھتی عشق بار دگر نہیں ہوتا نور کوکبؔ نے وہ ضیا پائی کہ مقابل قمر نہیں ہوتا

us pe kuchh bhi asar nahin hotaa

Similar Poets