
Kuber Kaafir
Kuber Kaafir
Kuber Kaafir
Ghazalغزل
روشنی میری نگاہوں کی بڑھا دی جائے اک جھلک صورت جاناں جو دکھا دی جائے زینت حسن نہیں روٹھ کے جانے والی ان کی تصویر اگر دل میں لگا دی جائے ماں کے ہی فیض سے روشن ہے مرا گھر آنگن یہ حقیقت ہے چراغوں کو بتا دی جائے دستکوں سے نہیں کھلتا ہے ترا دروازہ سوچتا ہوں تجھے اب کیسے صدا دی جائے میں ادب کے جو سمندر میں ابھی اترا ہوں موج دریا میں ہوں مجھ کو بھی دعا دی جائے
raushni meri nigaahon ki baDhaa di jaae
1 views
شجر اصولوں کے سارے جلا دئے ہم نے نشان شرم و حیا کے مٹا دئے ہم نے نیا زمانہ نئی نسل کے نئے بچہ انہیں بھی خواب پرانے دکھا دئے ہم نے ہمارے بعد کوئی اس مقام تک نہ گیا نشان قدموں کے سارے مٹا دئے ہم نے بہت برا ہے نظارہ ہمارے کوچہ کا سبھی دریچوں کے پردے گرا دئے ہم نے غموں کی دھوپ کا بچو ملال کیا کرنا رضا و صبر کے برگد لگا دئے ہم نے ہوا کا شور بہت زور سے تھا آنگن میں چراغ جلتے ہوئے خود بجھا دئے ہم نے
shajar usulon ke saare jalaa diye ham ne
1 views
تن کیے تار تار پھولوں کے کیسے تھے غم گسار پھولوں کے خوف کانٹوں کا بھی نہیں تھا جنہیں ہو گئے وہ شکار پھولوں کے اب وہی کاٹنے لگے ہیں گلا جن کو پہنائے ہار پھولوں کے خون سے اپنے گلستاں سینچا چھن گئے اختیار پھولوں کے میرے دامن میں کانٹے ہی کانٹے چاہیے مجھ کو ہار پھولوں کے
tan kiye taar-taar phulon ke
1 views
احساس کی دیوار اٹھانے سے رہا میں افسوس اسے اپنا بنانے سے رہا میں اب تو اسی رستے سے گزرنا ہی پڑے گا رستہ تو نیا کوئی بنانے سے رہا میں اس بار بھی چھٹی نہ ملی ہجر سے اس کے اس بار بھی بس جان سے جانے سے رہا میں جس شخص نے مجھ کو کئی رنگوں سے نوازا اس شخص کی تصویر بنانے سے رہا میں بڑھتی ہوئی یہ آگ لہو سے ہی بجھے گی اس آگ کو اشکوں سے بجھانے سے رہا میں جب میرا مقدر ترے ہاتھوں میں ہے صاحب پھر ہاتھ برہمن کو دکھانے سے رہا میں گردش نے مجھے پھر سے نیا روپ دیا ہے قدرت کی روایت تو مٹانے سے رہا میں
ehsaas ki divaar uThaane se rahaa main
1 views
بکھر گیا جو زمیں پر مکان مٹی کا لو آج ختم ہوا سب گمان مٹی کا کمال حسن تجھے خاک ہونا ہے اک دن گمان اتنا نہ کر میری جان مٹی کا امان میں وہ جسے اپنی رکھ لے نعمت ہے کسی کو ملتا نہیں سائبان مٹی کا بہت گماں تھا جسے ایک بوند گرتے ہی زمیں پہ ڈھیر ہوا آسمان مٹی کا ہر ایک شے کو بنانے میں اور مٹانے میں رہا ہے اس میں فقط یوگدان مٹی کا گلاب ہجر کے مہکیں گھٹا ہو آنکھوں میں خرید لایا ہوں میں پھول دان مٹی کا لٹا کے جان بچائی ہے ملک کی عظمت بڑھا دیا ہے سپوتوں نے مان مٹی کا
bikhar gayaa jo zamin par makaan miTTi kaa
مری سمت تیر نظر وہ چلا ہے دل مضطرب پہ نشانہ لگا ہے ابھی ہے گری برق غم میرے دل پر ابھی دشت تنہائی کا سلسلہ ہے کسی اور کا نام اس کو تھا لینا مرا نام لب پر مگر آ گیا ہے یہ کمرہ سجایا کسی کے لیے تھا کوئی اور اس میں مگر رہ رہا ہے تپا ہے بہت فکر کی آنچ پر یہ سو اب شعر جا کے مکمل ہوا ہے رمانی پڑے گی ہی سادھو سے دھونی غزل گوئی پیارے بس اک سادھنا ہے مجھے چھوڑ کر اس کو جانا نہیں تھا مرے گھر کا سامان بکھرا پڑا ہے مجھے دیکھ کر مجھ سے نظریں چرا لیں یہ کیا سامنا میرا اس سے ہوا ہے
miri samt tir-e-nazar vo chalaa hai





