SHAWORDS
Kuldeep Gauhar

Kuldeep Gauhar

Kuldeep Gauhar

Kuldeep Gauhar

poet
13Ghazal

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

kam kisi taur na hogi ye giraani sar se

کم کسی طور نہ ہوگی یہ گرانی سر سے اب نہیں جائے گا آزار نہانی سر سے کیوں ابھرتا ہی نہیں جذبۂ اخلاص و وفا کیوں نکلتی ہی نہیں ریشہ دوانی سر سے ابھی ٹوٹی ہی کہاں آہنی دیوار رسوم ابھی نکلا ہی کہاں جوش جوانی سر سے میری غیرت کا تقاضا ہے کہ امداد نہ لوں اونچا ہوتا ہے تو ہوتا رہے پانی سر سے ہو چکا عہد وفا ختم ہمارا کب کا اب تو واللہ نکالو یہ کہانی سر سے ہم نے گرنے نہ دیا پرچم انوار خودی جب تلک جاری رہی خوں کی روانی سر سے جب بھی ہوتا ہے سخن گوئی پہ مائل گوہرؔ خود چھلک پڑتے ہیں الفاظ و معانی سر سے

غزل · Ghazal

tan par ahbaab ke ham khunin qabaa dekhte hain

تن پر احباب کے ہم خونیں قبا دیکھتے ہیں کون اس جرم کی پاتا ہے سزا دیکھتے ہیں ناخدا نے ہمیں منجھدار میں لا کر چھوڑا کیا ہے اپنے لیے فرمان خدا دیکھتے ہیں ہمیں کر دیتا ہے احساس ندامت زخمی نطق جب اوڑھے خموشی کی ردا دیکھتے ہیں گل شرر بار ہیں شبنم بھی لہو روتی ہے مژدہ کیا لائے ہے اب موج صبا دیکھتے ہیں پھر ہے معصومیت حسن پہ یلغار گناہ پھر لہو رنگ ہوا دست حنا دیکھتے ہیں دین و ایماں کے پرستار بچارے دن رات سہمے سہمے ہوئے تاثیر دعا دیکھتے ہیں عشق ہی بخشے ہے خوش منظری ہم کو گوہرؔ ورنہ یاں سلسلۂ رقص قضا دیکھتے ہیں

غزل · Ghazal

safar mein zindagi ke ham unhein rahbar samajhte hain

سفر میں زندگی کے ہم انہیں رہبر سمجھتے ہیں جو سنگ راہ کو پھولوں ہی کا بستر سمجھتے ہیں بشر نے ہی نہیں سمجھے رموز گردش پیہم رموز گردش پیہم مہ و اختر سمجھتے ہیں الٰہی راز ہستی ایک ایسا راز ہے جس کو نہ دیوانے سمجھتے ہیں نہ دانشور سمجھتے ہیں خیالوں سے ہی سچائی کا اندازہ نہیں ہوتا کہ منظر دیکھنے والے ہی پس منظر سمجھتے ہیں حقیقت کو سمجھنے میں خودی کا زعم حائل ہے حقیقت ہم متاع بے خودی پا کر سمجھتے ہیں بشر نے جنگ کا میداں بنایا ہے انہیں ورنہ پرندے مندر و مسجد کو اپنا گھر سمجھتے ہیں جنون عشق کے ماروں کی خوبی ہے یہی گوہرؔ وہ ہر بیداد گر کو اپنا چارہ گر سمجھتے ہیں

غزل · Ghazal

tajdid-e-ltifaat kaa imkaan nahin rahaa

تجدید لتفات کا امکاں نہیں رہا عیش و نشاط زیست کا ساماں نہیں رہا اک ایک کر کے دل کے سب ارمان مٹ گئے صد شکر دل میں اب کوئی ارماں نہیں رہا فصل بہار آ کے بھی کیا گل کھلائے گی وہ گل نہیں رہے وہ گلستاں نہیں رہا دینے لگی ہے موت مرے در پہ دستکیں اب زندگی کا مجھ پہ کچھ احساں نہیں رہا ہندو بھی اپنے دھرم کے رستے سے ہٹ گئے ایماں پرست کوئی مسلماں نہیں رہا دیتا تھا جو حیات وفا کو تسلیاں وہ غم بھی زندگی کا نگہباں نہیں رہا جینے کا ولولہ ہے نہ کھٹکا ہے موت کا اب امتیاز ساحل و طوفاں نہیں رہا ایسا ہے کون جس کو ہمیشہ خوشی ملی ایسا بھی کوئی ہے جو پریشاں نہیں رہا گوہرؔ یہ اضطراب شب و روز ہے فضول کیا اعتبار رحمت یزداں نہیں رہا

غزل · Ghazal

jo farz aaed huaa hai ham par use khushi se adaa kareinge

جو فرض عائد ہوا ہے ہم پر اسے خوشی سے ادا کریں گے ہمارا شیوہ یہی رہا ہے جفا کے بدلے وفا کریں گے شکستہ کشتی مہیب طوفان اور ساحل نظر سے اوجھل عذاب کتنے ہی آئیں ہم پہ نہ منت ناخدا کریں گے رسائی کیسے وفا کی منزل پہ ہوگی یہ راز ہم سے پوچھو جہاں سفر ختم سب کا ہوگا وہیں سے ہم ابتدا کریں گے خوشی کے جھولے ہیں جھولنے والے کیا سمجھ پائیں زندگی کو یہ راز ان پر کھلے گا جس دم وہ دل کو غم آشنا کریں گے شجر ہے بے برگ کلیاں روندی ہوئی گل و لالہ ہیں فسردہ یہی ہے منظر بہار کا تو چمن میں ہم جا کے کیا کریں گے رہے ہیں ذات خدا سے منکر گناہ تسلیم ہے مگر اب حیات کی سرزنش سے ڈر کر بلند دست دعا کریں گے ازل سے دستور ہے یہ قائم نہ اس میں ترمیم ہو سکے گی چراغ ہائے حیات گوہرؔ جلا کریں گے بجھا کریں گے

غزل · Ghazal

puchh lete hain vo aksar ki hai haalat kaisi

پوچھ لیتے ہیں وہ اکثر کہ ہے حالت کیسی ہم پہ ہو جاتی ہے ان کی یہ عنایت کیسی عہد حاضر میں تو ہے ذکر بھی ان کا بے سود کیسا آئین وفا اور مروت کیسی غیر کے غم میں بھی بے ساختہ رو دیتے ہیں ہم کو اللہ نے بخشی ہے طبیعت کیسی عشق صادق ہے ہمارا تو ہمیں کیا معلوم شکوہ کیا ہوتا ہے ہوتی ہے شکایت کیسی دست قدرت کا کرشمہ اسے سمجھیں ورنہ خار اور گل میں بھلا باہمی صحبت کیسی آپ آئے ہیں عیادت کو تو دم بھر ٹھہریں حال دل پوچھنے میں ایسی بھی عجلت کیسی ہم تو ہر حال میں راضی بہ رضا ہیں گوہرؔ ہم نہیں جانتے ہوتی ہے عبادت کیسی

Similar Poets