do-chaar baar ham jo kabhi hans-hansaa liye
saare jahaan ne haath mein patthar uThaa liye

Kunwar Bechain
Kunwar Bechain
Kunwar Bechain
Popular Shayari
2 totalus ne pheinkaa mujh pe patthar aur main paani ki tarah
aur unchaa aur unchaa aur unchaa ho gayaa
Ghazalغزل
پیاسے ہونٹوں سے جب کوئی جھیل نہ بولی بابو جی ہم نے اپنے ہی آنسو سے آنکھ بھگو لی بابو جی پھر کوئی کالا سپنا تھا پلکوں کے دروازوں پر ہم نے یوں ہی ڈر کے مارے آنکھ نہ کھولی بابو جی بھولے سے جانے انجانے وار نہ کرنا تم ان پر جن جن کے کندھوں پر ہے یہ پریت کی ڈولی بابو جی یہ مت پوچھو اس دنیا نے کون سے اب تیوہار دیئے دی ہم کو اندھی دیوالی خون کی ہولی بابو جی دل نکلے ہی محنت کے گھر ہاتھ جو ہم نے بھیجے تھے وہ ہی خالی لے کر لوٹے شام کو جھولی بابو جی ہم پر کتنے ظلم ہوئے ہیں کون بتائے دنیا کو بندوقوں میں باقی ہے کیا ایک بھی گولی بابو جی وہ بھی اپنی آنکھوں میں ناخون ہی لے کر بیٹھے تھے دکھنے میں جن کی صورت تھی بہت ہی بھولی بابو جی یہ کہہ کہہ کر کل ہم کو ساری خوشیاں مل جائیں گی کرتے رہتے ہو کیوں ہم سے روز ٹھٹھولی بابو جی اس میں کچھ ٹوٹے سپنے تھے کچھ آہیں کچھ آنسو تھے جب جب بھی ہم نے یہ اپنی جیب ٹٹولی بابو جی اب کی بار تو راکھی پر بھی بھی دے نہ سکی کچھ بھیا کو اب اس کے سونے ماتھے پر صرف ہے رولی بابو جی
pyaase honTon se jab koi jhiil na boli baabu-ji
جب میرے گھر کے پاس کہیں بھی نگر نہ تھا تو اس طرح کا راہ میں لٹنے کا ڈر نہ تھا جنگل میں جنگلوں کی طرح کا سفر نہ تھا صورت میں آدمی کی کوئی جانور نہ تھا آنسو سا گر کے آنکھ سے میں سوچتا رہا اتنا تو اپنے آپ سے میں بے خبر نہ تھا اک بار خود کو غور سے دیکھا تو یہ ملا میں صرف ایک دھڑ تھا مرے دھڑ پہ سر نہ تھا ہونٹوں پہ آئی اور کنورؔ کانپتی رہی اک بات جس کا دل پہ کوئی بھی اثر نہ تھا
jab mere ghar ke paas kahin bhi nagar na thaa
وہ مری راتیں مری آنکھوں میں آ کر لے گئی یاد تیری چور تھی نیندیں چرا کر لے گئی زندگی کی ڈائری میں ایک ہی تو گیت تھا کوئی میٹھی دھن اسے بھی گنگنا کر لے گئی سردیوں کی گنگنی سی دھوپ کے احساس تک میرے من کی چاندنی مجھ کو بلا کر لے گئی ایک خوشبو سا میں اپنی پنکھڑی میں بند تھا آئی اک پاگل ہوا مجھ کو اڑا کر لے گئی راہ میں تھک کر جہاں بیٹھی اگر یہ زندگی موت آئی بانہہ تھامی اور اٹھا کر لے گئی ورنہ تو بھی راہ میں گرتا چلا جاتا کنورؔ وہ تو اک ٹھوکر تھی جو تجھ کو بچا کر لے گئی
vo miri raatein miri aankhon mein aa kar le gai
ہم سے مت پوچھو کہ اک وہ چیز کیا دونوں میں ہے جو ملاتا ہے ہمیں وہ فاصلہ دونوں میں ہے اس کے ملنے کی خوشی ہو یا بچھڑ جانے کا غم ہوش رہتا ہی نہیں ایسا نشہ دونوں میں ہے اس کی آنکھیں کان ہیں اور میری آنکھیں بھی ہیں ہونٹ اپنی اپنی کہنے سننے کی ادا دونوں میں ہے گیت کے سانچے میں ڈھالوں یا غزل کے روپ میں پر ترے ہی نام کا اک قافیہ دونوں میں ہے یوں کسی آواز کا چہرا نہیں ہوتا مگر جس میں آوازیں دکھیں وہ آئنہ دونوں میں ہے اس کو آستکتا کہو چاہے ناستکتا کنورؔ دونوں خط اس کے ہی ہیں اس کا پتہ دونوں میں ہے
ham se mat puchho ki ik vo chiiz kyaa donon mein hai
آنکھوں میں جو ہماری یہ جالوں کے داغ ہیں یہ تو ہمارے اپنے خیالوں کے داغ ہیں میری ہتھیلیوں پہ جو مہندی سے رچ گئے یہ آنسوؤں میں بھیگے رومالوں کے داغ ہیں باہر نکل کے جسم سے جاؤں تو کس طرح سانکل کہیں کہیں پہ یہ تالوں کے داغ ہیں تم جن کو کہہ رہے ہو مرے قدموں کے نشاں وہ سب تو میرے پاؤں کے چھالوں کے داغ ہیں کاجل میں گھل کے اور زیادہ نکھر گئے اشکوں کو یہ نہ کہنا خیالوں کے داغ ہیں حل ہوتے ہوتے اس کی نتیجے پہ آ گئے جتنے جواب ہیں وہ سوالوں کے داغ ہیں آتے ہی میرے پاس جو اکثر چھلک پڑے ہونٹوں پہ میرے ایسے ہی پیالوں کے داغ ہیں ایسے بھی لوگ ہیں جو ستاروں کو دیکھ کر کہتے ملیں ہیں یہ تو اجالوں کے داغ ہیں جو مجھ میں دیکھتے ہیں مرے بھی ہیں اے کنورؔ کچھ ان میں مجھ کو دیکھنے والوں کے داغ ہیں
aankhon mein jo hamaari ye jaalon ke daagh hain
اس وقت اپنے تیور پورے شباب پر ہیں سارے جہاں سے کہہ دو ہم انقلاب پر ہیں ہم کو ہماری نیندیں اب چھو نہیں سکیں گی جس تک نہ نیند پہنچے اس ایک خواب پر ہیں ان قاتلوں کے چہرے اب تو اگھاریے گا تازہ لہو کے دھبے جن کے نقاب پر ہیں اپنی لڑائی ہے تو کیول اسی محل سے اپنے لہو کی بوندیں جس کے گلاب پر ہیں کیسے مٹا سکے گا ہم کو کنورؔ زمانہ ہم دستخط سمے کے دل کی کتاب پر ہیں
is vaqt apne tevar puure shabaab par hain





