SHAWORDS
Laiq Siddiqi

Laiq Siddiqi

Laiq Siddiqi

Laiq Siddiqi

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

یہ دیکھ زندگی کے لئے ہے پیام کیا دن کیا ہے رات کیا ہے سحر کیا ہے شام کیا منزل کی جستجو ہے تو چلتے چلے چلو غربت میں تھوڑی دیر ٹھہر کر قیام کیا جب نیک اور بد میں نہ رہ جائے امتیاز ہوگا کسی کا ایسے میں پھر احترام کیا آپ اپنے دشمنوں کو بھی دشمن نہ جانیے پڑ جائے کل انہیں سے خدا جانے کام کیا انسان اپنے آپ کو پہچانتا نہیں یہ سوچتا نہیں کہ ہے اس کا مقام کیا دنیائے زندگی میں مساوات چاہئے اس سلسلہ میں شرط خواص و عوام کیا دنیا میں کوئی نام اچھوتا نہیں رہا بدلو گے اپنا نام تو رکھوگے نام کیا جس حال میں بھی گزرے گزر جائے گی لئیقؔ تھوڑی سی زندگی کے لئے اہتمام کیا

ye dekh zindagi ke liye hai payaam kyaa

غزل · Ghazal

کون بتلائے کہ کس کو کیا ملا جس کی قسمت میں جو لکھا تھا ملا ترک مے نوشی تو میں نے کی مگر یہ بتا زاہد کہ تجھ کو کیا ملا مر مٹی دنیا خوشی کے نام پر غم نہ کوئی چاہنے والا ملا فکر میں انداز میں آواز میں ہر بشر اپنی جگہ تنہا ملا اب نہیں بے لوث ملنے کا رواج جو ملا وہ اپنے مطلب کا ملا سمٹی سمٹی ہر خوشی آئی نظر بکھرا بکھرا غم کا شیرازہ ملا بانکپن شاید اسی کا نام ہے حسن رنگینی میں بھی سادہ ملا صحن گلشن میں وہ کہلائے گلاب خون جن پھولوں کو شبنم کا ملا اپنا ماضی یاد آیا ہے لئیقؔ زخم دل کو جب کوئی تازہ ملا

kaun batlaae ki kis ko kyaa milaa

غزل · Ghazal

وفا سے آشنا کوئی نہیں ہے اگرچہ بے وفا کوئی نہیں ہے خدا ہے اور طوفاں میں سفینہ ہمارا ناخدا کوئی نہیں ہے فسانوں کی طرف مائل ہے دنیا حقیقت آشنا کوئی نہیں ہے وہاں تک اس بشر کی ہے رسائی جہاں تیرے سوا کوئی نہیں ہے بڑھی جاتی ہے اپنی دھن میں دنیا پلٹ کر دیکھتا کوئی نہیں ہے ابھی گلشن کا ہے ماحول اچھا ابھی پتا ہرا کوئی نہیں ہے محبت خود دوا ہے زندگی کی محبت کی دوا کوئی نہیں ہے جنوں کی ابتدا ہے ہوشمندی جنوں کی انتہا کوئی نہیں ہے نگاہوں کی حدوں میں صرف تو ہے نظر میں دوسرا کوئی نہیں ہے وہ کچھ بھی ہو لئیقؔ انساں نہ ہوگا اگر اس سے خفا کوئی نہیں ہے

vafaa se aashnaa koi nahin hai

غزل · Ghazal

دن ملے رات ملے صبح ملے شام ملے عشق صادق ہو تو تکلیف میں آرام ملے دو کنارے کبھی دریا کے نہ مل پائیں گے کیسے پھر زیست کے آغاز سے انجام ملے زندگی درد محبت سے سجا رکھی ہے گھٹ کے مر جاؤں جو دل کو مرے آرام ملے نظم میخانے کا قائم ہے انہیں سے ساقی تیرے خم خانے میں جو لوگ تہی جام ملے سب ہیں بیتاب تری ایک نظر کی خاطر دیکھیے کس کو محبت میں یہ انعام ملے میں محبت میں ترے نام سے آگے نہ بڑھا مجھ کو اس راہ میں ہر چند کئی نام ملے دشمنوں سے تو کسی جرم کی پائی نہ سند دوستوں سے مجھے الزام ہی الزام ملے درد کو اس لئے سینے سے لگا رکھا ہے حد سے بڑھ جائے تو کچھ جسم کو آرام ملے اپنی تقدیر پہ وہ ناز کرے کیوں نہ لئیقؔ جس کو دنیا نہ ملے آپ کا پیغام ملے

din mile raat mile subh mile shaam mile

غزل · Ghazal

منہ اندھیرے چمنستان کا پیکر لے کر کون گزرا ہے دبے پاؤں گل تر لے کر مجھ کو شاہی میں فقیری کا مزا آتا ہے کیا کروں گا میں سکندر کا مقدر لے کر کون آیا ہے بیاباں میں کہ سناٹا ہے اپنی آنکھوں میں چمن زار کا منظر لے کر تیرے کوچے میں بصد شوق لٹا آیا ہوں اپنا سرمایۂ دل تیرے برابر لے کر کوچۂ شہر نگاراں میں پھرا ہے برسوں شوق آوارہ مزاجی مجھے در در لے کر ہم نے جگنو کو اندھیروں میں بھٹکتے دیکھا اپنی مٹھی میں اجالوں کا مقدر لے کر قدر محنت نہ ہوئی سارے زمانے میں لئیقؔ لوٹ آیا میں خیالات کے جوہر لے کر

munh andhere chamanistaan kaa paikar le kar

غزل · Ghazal

اپنی عظمت کا نگہبان نہیں ہے کوئی کیا اب اس دور میں انسان نہیں ہے کوئی جس طرف دیکھیے عشرت کی فراوانی ہے ایسا لگتا ہے پریشان نہیں ہے کوئی جو سمجھتا ہی نہ ہو حق و صداقت کیا ہے آج کل اتنا بھی نادان نہیں ہے کوئی اپنا ہر عیب نظر آتا ہے آئینے میں دیکھ کر پھر بھی پشیمان نہیں ہے کوئی پاؤں جب رکھئے زمیں پر تو رہے دھیان اس کا خاک کے ذروں میں بے جان نہیں ہے کوئی حوصلہ سانسوں سے ملتا ہے تو جی لیتا ہوں زندگی پر مرا احسان نہیں ہے کوئی سب کو معلوم ہے بدلی ہوئی صورت اپنی آئنہ دیکھ کے حیران نہیں ہے کوئی زندگی غم میں بسر کرنا ہے مشکل لیکن مسکرا دینا بھی آسان نہیں ہے کوئی کوئی کشتی نہیں محفوظ کنارے پہ لئیقؔ جب سے دریاؤں میں ہیجان نہیں ہے کوئی

apni azmat kaa nigahbaan nahin hai koi

Similar Poets