SHAWORDS
Lateef Nazi

Lateef Nazi

Lateef Nazi

Lateef Nazi

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

gham-e-jaanaan ayaan na ho jaae

غم جاناں عیاں نہ ہو جائے زندگی رائیگاں نہ ہو جائے تو نظر ہی نہ آ خدا کے لئے پھر تمنا جواں نہ ہو جائے دل جو جلتا ہے تیری فرقت میں یہ دھواں آسماں نہ ہو جائے مٹ نہ جائے یہ چاشنی غم کی ہم پہ وہ مہرباں نہ ہو جائے گفتگو میں ہو احتیاط تجھے راز دل کا عیاں نہ ہو جائے کر رہا ہے مقابلہ دشمن یا خدا کامراں نہ ہو جائے کیوں حسینوں سے ملتے ہو نازیؔ وہ کہیں بد گماں نہ ہو جائے

غزل · Ghazal

kyaa shab-e-gham miri basar na hui

کیا شب غم مری بسر نہ ہوئی تم نہ آئے تو کیا سحر نہ ہوئی شام غم کی کبھی سحر نہ ہوئی جو دعا کی وہ کارگر نہ ہوئی شب فرقت طویل تھی جتنی اور کوئی رات اس قدر نہ ہوئی تھی نگاہ کرم رقیبوں پر عمر بھر وہ کبھی ادھر نہ ہوئی کیا کہوں اپنی نا مرادیٔ دل کہ محبت بھی معتبر نہ ہوئی مری بربادیوں کے قصوں پر کب زمانے کی آنکھ تر نہ ہوئی شب وعدہ وہ آ گئے نازیؔ شکر ہے کچھ اگر مگر نہ ہوئی

غزل · Ghazal

asiron kaa ajab kuchh haal ye sayyaad karte hain

اسیروں کا عجب کچھ حال یہ صیاد کرتے ہیں کبھی دل شاد کرتے ہیں کبھی ناشاد کرتے ہیں جنہیں دل میں بسایا تھا جنہیں ہم یاد کرتے ہیں ہمارے دل کی دنیا کو وہی برباد کرتے ہیں ہماری یاد تو دل سے بھلا رکھی تھی مدت سے نہ جانے کس لئے ہم کو وہ پھر سے یاد کرتے ہیں ستم بھی ہے کرم ان کا سمجھ کر کچھ یہی دل میں جہان عشق کو ہم شوق سے آباد کرتے ہیں ہمارے قصر دل کو ڈھا رہے ہو کچھ خبر بھی ہے اسے برباد کرتے ہو جسے آباد کرتے ہیں زمین و آسماں روتے ہیں لیکن وہ نہیں روتے تڑپ کر شدت غم سے جو ہم فریاد کرتے ہیں قمر بے نور ہوتا ہے ستارے ماند پڑتے ہیں رخ روشن کو اس کے ہم جو نازیؔ یاد کرتے ہیں

غزل · Ghazal

dost milte rahe manzil pe guzar hone tak

دوست ملتے رہے منزل پہ گزر ہونے تک کوئی ساتھی نہ رہا ختم سفر ہونے تک یا الٰہی مجھے توفیق عطا کر ایسی ہر برائی سے بچوں عمر بسر ہونے تک خاک ہونے سے بچایا نہ کسی کے گھر کو دیکھتے رہ گئے سب نذر شرر ہونے تک گڑگڑاؤ کہ خدا رحم پہ مائل ہو جائے مانگتے جاؤ دعاؤں میں اثر ہونے تک آنکھ نم ناک دم سرد لبوں پر نازیؔ کس طرح صبر کروں خون جگر ہونے تک

غزل · Ghazal

aa ke mahfil mein tiri gham se kinaaraa na huaa

آ کے محفل میں تری غم سے کنارا نہ ہوا مجھ سا دنیا میں کوئی درد کا مارا نہ ہوا آخر اشکوں نے ہی سب حال دل زار کہا کچھ زباں سے مری اظہار کا یارا نہ ہوا یہ کہا تھا کہ مرے گھر میں وہ آئیں یک دن آ گئے طیش میں شاید یہ گوارا نہ ہوا کس طرح میرے مقدر کا ستارا چمکے ان کی جانب سے کوئی ایسا اشارا نہ ہوا ڈر سے توہین محبت کے میں خاموش رہا نام پھر لے کے پکاروں یہ گوارا نہ ہوا درد و غم جور و ستم آہ و فغاں رنج و ملال یہ تو سب مل گئے نازیؔ وہ ہمارا نہ ہوا

غزل · Ghazal

un se jab bhi kalaam hotaa hai

ان سے جب بھی کلام ہوتا ہے دل کو دل سے پیام ہوتا ہے اس کی نظروں میں جو سما جائے بس وہی شاد کام ہوتا ہے حسن کا دبدبہ تعالیٰ اللہ بادشہ بھی غلام ہوتا ہے ہم نے دیکھا نماز الفت میں مقتدی بھی امام ہوتا ہے ہم نے دیکھا ہے مرنے والوں کے لب پہ تیرا ہی نام ہوتا ہے درد ہوتا ہے بس وہیں دل میں تیرا جس جا مقام ہوتا ہے وہ ستم گر بھی حضرت نازیؔ کہیں باتوں میں رام ہوتا ہے

Similar Poets