M Kothiyavi Rahi
M Kothiyavi Rahi
M Kothiyavi Rahi
Ghazalغزل
ik anjaan raah par donon
اک انجان راہ پر دونوں مل گئے آج بے خطر دونوں پھول ہے ایک ایک پتھر ہے بن گئے کیسے ہم سفر دونوں فاصلے ایسے کم نہیں ہوں گے چھوڑ دیں اپنا اپنا گھر دونوں ٹکریں لے رہے ہیں دنیا سے دل میں رکھتے نہیں ہیں ڈر دونوں تاڑ لیتے ہیں تاڑنے والے گو ملاتے نہیں نظر دونوں رات اک دوسرے میں ڈوب گئے ہو گئے خود سے بے خبر دونوں ہو کے گمراہ آج کل راہیؔ پھر رہے ہیں نگر نگر دونوں
tumhaare paikar se phuTne vaali raushni meri raah mein hai
تمہارے پیکر سے پھوٹنے والی روشنی میری راہ میں ہے یہ فاصلہ اس لئے گوارا کہ اک حقیقت نگاہ میں ہے فصیل غم گر گئی تو کس سے لپٹ کے روئیں گے شہر یاراں یہ سوچ کر جھوم اٹھا ہوں یارو کہ غم خود اپنی پناہ میں ہے میں زندگی تج کے آ رہا ہوں اسی لئے مسکرا رہا ہوں ذرا بتاؤ کہ کس لئے اب کجی تمہاری کلاہ میں ہے تمہارے باغوں سے دور ویران ریگزاروں میں گل کھلے ہیں شفق افق کے حصار میں ہے شگفتگی شاہراہ میں ہے ندی ندی بے کراں خموشی شجر شجر سوگوار سائے یہ رات بیمار ہو گئی ہے کہ مبتلا پھر گناہ میں ہے اداس یادوں نے باب افکار پر کئی بار دستکیں دیں مگر قلم ہے کہ گل فشاں بنت شب کی آرام گاہ میں ہے کوئی قلندر ہے کوئی درویش کوئی وحشی ہے کوئی راہیؔ ہر ایک شوریدہ سر برائے سحر تری خانقاہ میں ہے
gumun nahin to kyaa main kahin jaa ke paD rahun
گھوموں نہیں تو کیا میں کہیں جا کے پڑ رہوں بیمار آدمی کی طرح رات کاٹ دوں دیکھے گا آج میری طرف کون پیار سے بجھتا ہوا چراغ ہوں پت جھڑ کا چاند ہوں تصویر بن کے دیکھ رہا ہوں جہان کو تو ہی بتا کہ اور میں اب کیسے چپ رہوں شیریں ہے زہر موت کا اے تلخیٔ حیات جی چاہتا ہے آج ترا جام توڑ دوں اس بارے میں تو آپ سے بہتر ہوں میں ضرور پینا بھی پڑ گیا تو پیا ہے خود اپنا خوں خط لکھ کے پھاڑ دینا مرے مشغلوں میں ہے پڑھتی رہی ہے آگ مرا نامۂ زبوں گر جائے گی یہ چھت جو چلی جھوم کر ہوا راہیؔ مری حیات ہے اک قصر بے ستوں
hijr kaa chaand dard ki naddi
ہجر کا چاند درد کی ندی یہی صورت ہے اپنی دنیا کی ریگزاروں میں سنگ کھلتے ہیں جیسے باغوں میں شاخ شاخ کلی میرا گھر ہے کہ میرؔ صاحب کا اف یہ ہونٹوں پہ تلخ تلخ ہنسی آ گیا موسم زمستاں کیا آگ کی جستجو میں رات کٹی کو بہ کو در بہ در بھٹکتے ہوئے دیکھ لی آج موت کی بھی گلی قفل ہونٹوں کا ٹوٹ کر ہی رہا دل افسردہ رات بیت چلی ایک چلتی ہوئی غزل پر رات راہیؔ غمزدہ نے نظم کہی
dard ko dard se nisbat hogi
درد کو درد سے نسبت ہوگی کیوں سوچیں کہ محبت ہوگی جان کسی کو دی تھی تم نے اب جو جئے تو ندامت ہوگی تم سے مجھے کچھ کام نہیں ہے تم کو میری ضرورت ہوگی آؤ خدا کی بستی ہے یہ کسی کھنڈر میں عبادت ہوگی کٹیاؤں کا لٹیرا ہوگا جس کی نئی عمارت ہوگی بیٹھا ہوں پھر دیا جلائے پروانوں کی ضیافت ہوگی جسم کسی کا گرم نہیں ہے راہیؔ تم کو حرارت ہوگی
rasta kisi vahshi kaa abhi dekh rahaa hai
رستہ کسی وحشی کا ابھی دیکھ رہا ہے یہ پیڑ جو اس راہ میں صدیوں سے کھڑا ہے غربت کے اندھیرے میں تری یاد کے جگنو چمکے ہیں تو راہوں کا سفر اور بڑھا ہے دنیا سے الگ ہو کے گزرتی ہے جوانی حالاں کہ یہ ممکن نہیں پرکھوں سے سنا ہے چاہت جو جنوں کے لیے زنجیر بنی تھی آج اس کو بھی وحشت نے مری توڑ دیا ہے یارو نہ ابھی اپنے ٹھکانوں کو سدھارو کچھ بات کرو رات کٹے سرد ہوا ہے اک غم کا الاؤ ہے جسے گھیر کے سب لوگ بیٹھے ہیں کہ راہیؔ نے نیا گیت لکھا ہے





