
Madhu Madhuman
Madhu Madhuman
Madhu Madhuman
Ghazalغزل
تھے کبھی ہم کو بھی ہنگامے عزیز اب مگر لگتے ہیں سناٹے عزیز جو ہمیں ہیں جان کے جیسے عزیز کاش ہوتے ہم بھی یوں ان کے عزیز زندگی محفوظ ہو جن کے تلے کس قدر ہوتے ہیں وہ سائے عزیز جن سے ہیں منسوب یادیں آپ کی ہم کو ہیں وہ سب گلی کوچہ عزیز زندگی کٹتی نہیں ان کے بنا لوگ کچھ ہوتے ہیں کیوں اتنے عزیز دل کو چھو جاتے تھے جو بھیتر تلک آج بھی ہیں ہم کو وہ نغمے عزیز جام خوشیوں کے مبارک آپ کو ہم کو تو ہیں غم کے پیمانے عزیز اہل دنیا کو ہیں پیاری منزلیں اور مدھومنؔ ہم کو ہیں رستے عزیز
the kabhi ham ko bhi hangaame 'aziz
بزم فرحت راس آئی ہی نہیں جگ سے نسبت راس آئی ہی نہیں ہم نبھانا چاہتے تو تھے مگر رسم الفت راس آئی ہی نہیں شوق سے ہم بھی مناتے جشن پر کوئی ساعت راس آئی ہی نہیں ہم نے تو قربان کر دی جان تک ان کو شفقت راس آئی ہی نہیں چل پڑی دنیا بدی کی راہ پر اس کو جودت راس آئی ہی نہیں پھول ہم نے بھی کھلائے تھے مگر ہم کو نکہت راس آئی ہی نہیں ایسی قسمت تھی کہ ہم کو زندگی تا قیامت راس آئی ہی نہیں آخرش خلوت میں مدھومنؔ رم گئے ہم کو جلوت راس آئی ہی نہیں
bazm-e-farhat raas aai hi nahin
ہم پہ کچھ یوں ہے زندگی کا قرض جیسے لمحے پہ ہو صدی کا قرض وقت محدود اور سانسیں کم کیسے چکتا کریں سبھی کا قرض یہ جو ہیں وسعتیں سمندر کی اس کے سر پر ہے ہر ندی کا قرض دو گنا کر کے سب کو لوٹایا ہم نے رکھا نہیں کسی کا قرض آنسوؤں سے ادا کیا ہم نے ایک چھوٹی سی بھی خوشی کا قرض دور نو کے سخنوروں پر ہے میرؔ و غالبؔ کی شاعری کا قرض چاہ کر بھی نہیں اتر سکتا ہم پہ مدھومنؔ جو ہے نبی کا قرض
ham pe kuchh yuun hai zindagi kaa qarz
چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی ہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئی ہمیں جو راہ دکھلاتا تھا جیون کے اندھیروں میں ہمارے آسماں سے وہ ستارہ لے گیا کوئی بہت ویران رہتا ہے فلک آنکھوں کا یہ جب سے چرا کر اس سے اس کا ماہ پارہ لے گیا کوئی بھلا اب زندگی میں دیکھنے کو کیا رہا باقی جو بھاتا تھا ہمیں وہ ہر نظارہ لے گیا کوئی لگے گی پار کیسے ناؤ اب یہ خدا جانے اسے منجدھار میں رکھ کر کنارہ لے گیا کوئی بدل دیتا تھا جو مینڈک کو اک راجہ کی صورت میں جہاں سے اب وہ جادو کا پٹارا لے گیا کوئی دل بیتاب کو مدھومنؔ قرار آئے بھی تو کیسے سکوں تو چھین کر ہم سے ہمارا لے گیا کوئی
chaman se khushbuon kaa isti'aara le gayaa koi
ماضی کے گلستاں میں جب لے چلیں گی آنکھیں لمحوں کی خوشبوؤں سے مہکا کریں گی آنکھیں یادوں کے ابر جب بھی چھائیں گے ذہن و دل پر بے ساختہ جھما جھم بہنے لگیں گی آنکھیں الفاظ جب نہ ہوں گے ہونٹوں پہ ہوں گے تالے ایسے میں دل کی ساری باتیں کہیں گی آنکھیں معلوم ہے کہ اس نے آنا نہیں ہے واپس ہر وقت پھر بھی اس کا رستہ تکیں گی آنکھیں کتنے بھی ہوں سمندر اشکوں کے ان میں چاہے دنیا کے سامنے پر ہنستی رہیں گی آنکھیں دیوار تاکتے ہی گزرے گی رات شاید نیندیں ہی روٹھ جائیں تو کیا کریں گی آنکھیں ضدی ہیں اس قدر یہ سنتی نہیں ہے کہنا بوجھل ہوں چاہے پلکیں پھر بھی جگیں گی آنکھیں مجبور ہیں یہ شاید فطرت سے اپنی مدھومنؔ مایوسیوں میں بھی کچھ سپنے بنیں گی آنکھیں
maazi ke gulsitaan mein jab le chaleingi aankhein
پل خوشی کے تو کبھی آنکھ میں پانی دے گا وقت ہر روز نئی ایک کہانی دے گا دل مرے چھیڑ نہ تو پھر وہ پرانے قصے ذکر ماضی مجھے بس اشک فشانی دے گا پیڑ کیکر کے بھی آئیں گے کہیں راہوں میں ہر جگہ تو وہ نہیں رات کی رانی دے گا زندگی ایک جگہ پر ہی رکی ہے کب سے جانے اب کب وہ اسے آ کے روانی دے گا بس اسی آس پہ اٹکی ہے مری جان اب تک کوئی تو رت وہ کبھی مجھ کو سہانی دے گا لوٹ آئے گا وہ موسم ہے بھروسہ یہ مجھے پھر مرے باغ کو وہ رنگ فشانی دے گا دل سے کہنے کی تو کوشش تو ذرا کر مدھومنؔ تیرے الفاظ کو پھر خود وہ معانی دے گا
pal khushi ke to kabhi aankh mein paani degaa





