
Maher Chand Kausar
Maher Chand Kausar
Maher Chand Kausar
Ghazalغزل
yuun shab-e-hijr teri yaad aai
یوں شب ہجر تیری یاد آئی دور بجتی ہو جیسے شہنائی آپ اپنی ہنسی اڑاتا ہوں خود تماشہ ہوں خود تماشائی جب زمانے نے ساتھ چھوڑ دیا اپنی دیوانگی ہی کام آئی کل جنوں کا مذاق اڑاتی تھی اب جنوں سے خجل ہے دانائی آئنہ دل کا چور چور ہوا اور آواز تک نہیں آئی کتنا اٹھلا کے چل رہی ہے صبا تیرا پیغام تو نہیں لائی شاعروں میں شمار ہو جس سے مجھ میں وہ بات ابھی نہیں آئی
tark-e-ulfat kaa iraada bhi nahin
ترک الفت کا ارادہ بھی نہیں ان سے اظہار تمنا بھی نہیں وقت کٹتا ہی نہ تھا جس کے بغیر اس کو مدت ہوئی دیکھا بھی نہیں جیسی گزری ہے غنیمت ہے مگر زندگی تیرا بھروسہ بھی نہیں دل میں رکھتا ہے بہت کچھ لیکن بات کہنے کی وہ کہتا بھی نہیں خوب سج دھج ہے تمہاری پھر بھی دیکھنا کیسا وہ تکتا بھی نہیں گھور کر دیکھتا رہتا ہے مجھے میں نے اس کو کبھی دیکھا بھی نہیں باتیں کرتا ہے مسلسل کوثرؔ روز ملتا ہے شناسا بھی نہیں
na jaane kaun hai dekhaa huaa saa lagtaa hai
نہ جانے کون ہے دیکھا ہوا سا لگتا ہے اک اجنبی ہے مگر آشنا سا لگتا ہے تضاد صورت و سیرت پہ اب یقیں آیا وہ بے وفا ہے مگر باوفا سا لگتا ہے گراں نہ گزرا تھا ایسا یہ انتظار کبھی اب ایک لمحہ بھی صبر آزما سا لگتا ہے انہیں امید ہو تعمیل کی تو کیوں کر ہو کہ ان کا حکم ہی کچھ التجا سا لگتا ہے یہ پھول سادہ و بے رنگ ہی سہی لیکن تمہارے جوڑے میں کیا خوش نما سا لگتا ہے وہ بھائی بھائی ہیں رہتے ہیں ایک ہی گھر میں مگر دیوں میں بڑا فاصلہ سا لگتا ہے وہ تم وہ میں وہ لب جو وہ رات اور وہ چاند یہ ایک خواب ہی کتنا بھلا سا لگتا ہے نہ مجھ میں وصف نہ خوبی نہ کچھ ہنر پھر بھی تمام شہر مرا ہم نوا سا لگتا ہے یہ آج شہر میں کیا بات ہو گئی کوثرؔ جسے بھی دیکھیے سہما ہوا سا لگتا ہے
bhare jahaan mein koi raazdaar bhi na milaa
بھرے جہاں میں کوئی رازدار بھی نہ ملا قرار ڈھونڈنے نکلے قرار بھی نہ ملا یہ میری سوختہ بختی نہیں تو پھر کیا ہے وہ پھول لائے تو میرا مزار بھی نہ ملا نہ جانے کیسی کرامت تھی دست ساقی میں بہ قید ہوش کوئی ہوشیار بھی نہ ملا چمن چمن میں اداسی کا بول بالا ہے بہار کیسی نشان بہار بھی نہ ملا بہت تھے عیش کے لمحوں میں جاں نثار اپنے پڑا جو وقت کوئی غم گسار بھی نہ ملا میں اپنے گاؤں میں رہ کر بھی اجنبی ہی رہا مجھے تو اپنوں سے تھوڑا سا پیار بھی نہ ملا خراب ہی رہی قسمت خزاں نصیبوں کی بہار آئی تو لطف بہار بھی نہ ملا ہنسی تو اپنا مقدر نہ تھی مگر کوثرؔ ہمیں تو رونے پہ کچھ اختیار بھی نہ ملا
vaa'da-e-subh tiraa shaam tak aa pahunchaa hai
وعدۂ صبح ترا شام تک آ پہنچا ہے شوق کس حسرت ناکام تک آ پہنچا ہے پیش خیمہ ہے کسی رنج دگر کا شانہ درد کچھ صورت آرام تک آ پہنچا ہے میری وحشت کو نہ راس آئی یہ قید آداب ذکر پھر میرا ترے نام تک آ پہنچا ہے پھول کھلتے ہی بڑھا دست دراز گلچیں کیف آغاز ہی انجام تک آ پہنچا ہے جس کی وسعت کے لیے تنگ تھے دونوں عالم وہ جنوں طوف در و بام تک آ پہنچا ہے شوق سلجھاتا ہے پھر زلف پریشاں کوثرؔ یعنی پھر طائر دل دام تک آ پہنچا ہے
aain-e-asiri ke ye meaar nae hain
آئین اسیری کے یہ معیار نئے ہیں زنداں تو وہی ہے در و دیوار نئے ہیں اخلاص مکینوں کا تو دیکھا نہیں اب تک ہاں شہر کے سب کوچہ و بازار نئے ہیں دشمن سے تو کچھ خوف نہ اب ہے نہ کبھی تھا ڈر یہ ہے کہ اب میرے طرفدار نئے ہیں باقی نہیں پہلی سی وہ تقدیس محبت اب حسن نیا اس کے پرستار نئے ہیں پہچان لیا ہم نے تمہیں راہ نماؤ باتیں وہی پیرایۂ اظہار نئے ہیں سہما ہوا سناٹا ہے مخدوش فضائیں اب دیکھ کے چلے گا یہ آثار نئے ہیں بازار کی رونق وہی پہلی سی ہے کوثرؔ اتنا ہے کہ اس بار خریدار نئے ہیں





