aaj rone ki jagah par jin ko aati hai hansi
kal vahi hansne ke mauqe par lahu ro jaaeinge

Mahir Abdul Hayee
Mahir Abdul Hayee
Mahir Abdul Hayee
Popular Shayari
2 totalraat ki ranginiyaan munh dekhti rah jaaeingi
ham thakan se chuur nange farsh par so jaaeinge
Ghazalغزل
روز اول ہی سے تفریق یہ اوقات میں ہے کوئی ہے دن کے اجالے میں کوئی رات میں ہے میں بھی مجموعۂ اضداد ہوں دنیا کی طرح کہیں صحرا کہیں گلزار مری ذات میں ہے ہے مرے گرد مری ماں کی دعاؤں کا حصار غم نہیں ہے کوئی دشمن جو مری گھات میں ہے میں تہی دست ہوں لیکن یہ پتہ ہے مجھ کو وہ مرے نام ہے جو چیز ترے ہات میں ہے دامن شب میں چمکتے ہیں ستاروں کی طرح عکس کس کا یہ مری خاک کے ذات میں ہے تیرگی خوف کی پہلو میں بسی ہے لیکن کچھ امیدوں کی چمک دل کے مضافات میں ہے مل ہی جائے گی کہیں پاؤں ٹکانے کی جگہ اب ستاروں کا جہاں میری فتوحات میں ہے مری پستی پہ بہت طنز نہ کر چشم فلک اس کو بھی دیکھ بلندی جو خیالات میں ہے ایک ہی رنگ میں رہتی ہے طبیعت ہر دم فرق جاڑے میں نہ گرمی میں نہ برسات میں ہے دل لرزتا ہے پس پردہ نہ ہو زہر کوئی کچھ زیادہ ہی مٹھاس اب کے تری بات میں ہے دیکھنا وہ بھی کہیں چھوٹ نہ جائے ماہرؔ جو چمکتا ہوا اک رنگ روایات میں ہے
roz-e-avval hi se tafriq ye auqaat mein hai
تنہائی کا غم روح کے اندر سے نکالوں آواز کوئی دے تو قدم گھر سے نکالوں دنیا اسے پوجے گی بصد حسن عقیدت میں اپنی شباہت کو جو پتھر سے نکالوں کھو جاؤں کہیں تیرہ خلاؤں میں تو کیا ہو خود کو جو ترے درد کے محور سے نکالوں جو دوست نظر آتے ہیں بن جائیں گے دشمن کیا منہ سے نہ سچ بات بھی اس ڈر سے نکالوں حساس ہو دنیا تو جو نشتر سے ہے مخصوص وہ کام بھی میں برگ گل تر سے نکالوں دشوار سہی پھر بھی کوئی صلح کا پہلو حالات کے بگڑے ہوئے تیور سے نکالوں صدیوں سے لگی پیاس کو ماہرؔ جو بجھا دے وہ جرعۂ زہراب سمندر سے نکالوں
tanhaai kaa gham ruuh ke andar se nikaalun
سراب دیکھتا ہوں میں کہ آب دیکھتا ہوں میں سمجھ میں جو نہ آ سکے وہ خواب دیکھتا ہوں میں لہوں میں تیرتی ہے کوئی شے تری امید سی اگا ہوا شفق میں آفتاب دیکھتا ہوں میں مری نظر کے سامنے ہے آئنہ رکھا ہوا تری نظر کا حسن انتخاب دیکھتا ہوں میں یہ کس مقام پر ہے آج رخش فکر و آگہی کہ جبرئیل کو بھی ہم رکاب دیکھتا ہوں میں یہ کوئی نذر تو نہیں نگاہ دل نواز کی کھلا ہوا جو دل میں اک گلاب دیکھتا ہوں میں کسی کا دامن طلب کشادہ اس قدر نہیں تری عطا کو بے حد و حساب دیکھتا ہوں میں سمجھ سکے گا کون اے خدا تری کتاب کو بدل گیا ہے سب کا سب نصاب دیکھتا ہوں میں ابھی تو سن رہا ہوں میں گڑھی ہوئی کہانیاں کھلے گا کب حقیقتوں کا باب دیکھتا ہوں میں دل و نظر کی روشنی ہے جس کے حرف حرف میں رکھی ہوئی وہ طاق پر کتاب دیکھتا ہوں میں جو کھیلنے میں تیز تھا نواب ہو گیا ہے وہ پڑھے لکھے کو خستہ و خراب دیکھتا ہوں میں وہ ہوشیار آدمی کہ جاگتا ہے رات دن کبھی کبھی اسے بھی مست خواب دیکھتا ہوں میں جو ماہرؔ الم زدہ کے لب پہ آ گئی ہنسی تو کھا رہا ہے کوئی پیچ و تاب دیکھتا ہوں میں
saraab dekhtaa huun main ki aab dekhtaa huun main
آوارہ آوارہ خوشبو ہم دونو جانے کس دن ہوں گے یکسو ہم دونوں تازہ تازہ پھولوں کی رت کہتی ہے کر لیں کچھ تفریح لب جو ہم دونوں پھر کیا شے ہے مانع ساتھ نبھانے میں رکھتے تو ہیں یکساں خوشبو ہم دونوں میں چلتا ہوں دل پر عقل و ہوش پہ تو جس کا توڑ نہیں وہ جادو ہم دونوں اپنی اپنی پہچانوں کے شیدائی تاریکی میں اڑتے جگنو ہم دونوں ٹکرائے تو ٹوٹیں گے مٹ جائیں گے اپنے آپ پہ رکھیں قابو ہم دونوں رسموں کے بندھن سے بازو کھلتے تو آزادی سے اڑتے ہر سو ہم دونوں اس میں رہ کر اس سے بچنا مشکل ہے دنیا ناوک افگن آہو ہم دونوں تصویروں کا البم لاؤ دیکھیں تو کتنے تھے خوش قامت خوش رو ہم دونوں
aavaara aavaara khushbu ham dono
زخم پر رکھتا ہے مرہم آسماں نشتر سمیت امن کا پیغام دیتی ہے ہوا خنجر سمیت جب مرے ہمدرد نے بے دست و پا دیکھا مجھے لے گیا میرے سمندر سے صدف گوہر سمیت چار جانب آگ بھڑکائی گئی اس طور سے اہل بینش کی نظر بھی جل گئی منظر سمیت آسماں کی چھت زمیں کا فرش بخشتا جائے گا گھر اجاڑے جائیں گے بنیاد کے پتھر سمیت تیز رفتاری نے دنیا کی اڑایا یہ غبار ہر سماں دھندلا گیا اس آئنہ پیکر سمیت جل رہے ہیں جو لہو سے ان دیوں کے سامنے ہار بیٹھے ہیں پرستاران شب صرصر سمیت دیکھنا یہ آنسوؤں کی چند بوندوں کا کمال لہلہا اٹھی ہے پتھریلی زمیں بنجر سمیت میں نے تیرا نام لے کر جب رکھا تکیے پہ سر سارا کمرہ خوشبوؤں سے بھر گیا بستر سمیت مرغ کم ہمت فضائے بیکراں ہوتے ہوئے آشیانے تک رہا محدود بال و پر سمیت کل زمیں میرے مقابل وزن میں ہلکی پڑی مجھ کو جب رکھا گیا پلرے میں چشم تر سمیت اس تہی دستی میں ماہرؔ آبرو کا کیا سوال ہم گنوا بیٹھے ہیں دستار فضیلت سر سمیت
zakhm par rakhtaa hai marham aasmaan nashtar samet
میں ترے شہر میں آیا تو ٹھہر جاؤں گا سایۂ ابر نہیں ہوں کہ گزر جاؤں گا جذبۂ دل کا وہ عالم ہے تو انشا اللہ درد بن کر ترے پہلو میں اتر جاؤں گا محض بے کار نہ سمجھیں مجھے دنیا والے زندگی ہے تو کوئی کام بھی کر جاؤں گا دے کے آواز تو دیکھے شب تاریک مجھے روشنی بن کے فضاؤں میں بکھر جاؤں گا چھوڑ اے رونق بازار مرا دامن دل شام آنگن میں اتر آئی ہے گھر جاؤں گا میں مجاہد ہوں کسی سے نہیں ڈرتا لیکن سامنا خود کا جو ہو جائے تو ڈر جاؤں گا راستے صاف ہیں سب فضل خدا سے ماہرؔ کوئی دیوار نہ روکے گی جدھر جاؤں گا
main tire shahr mein aayaa to Thahar jaaungaa





