SHAWORDS
Mahir Bilgrami

Mahir Bilgrami

Mahir Bilgrami

Mahir Bilgrami

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

hosh manzil kho ke manzil kaa pataa paate hain log

ہوش منزل کھو کے منزل کا پتا پاتے ہیں لوگ ترک لذت میں تو کچھ لذت سوا پاتے ہیں لوگ درد کے ماروں کو ہی درد آشنا پاتے ہیں لوگ بے وفاؤں میں کہاں بوئے وفا پاتے ہیں لوگ نطق قاصر ہے بیاں سے وہ مزا پاتے ہیں لوگ مجھ سے پوچھو عشق میں گم ہو کے کیا پاتے ہیں لوگ بعد استغراق ہاتھ آئی ہے بس مطلب کی بات ڈوب کر گہرے میں در بے بہا پاتے ہیں لوگ کرتے اپنے سے بڑوں کا ہیں جو دل سے احترام رہتے ہیں خوش یوں بزرگوں کی دعا پاتے ہیں لوگ منزل دار و رسن ہو یا صلیب سرفراز اپنے ہی نقش کف پا جا بجا پاتے ہیں لوگ بھول کر خود کو خدا کی یاد میں ہوتے ہیں محو ناخدا کو بھی بھنور میں با خدا پاتے ہیں لوگ بے خودی میں راز دل کہہ ڈالتے ہیں بے جھجک پینے والوں کو نشے میں پارسا پاتے ہیں لوگ چھاؤں کی دھوپ اور بارش میں ہے کھلتی اہمیت سر چھپاتے ہیں جہاں سایہ ذرا پاتے ہیں لوگ خود میں آتی ہیں نظر حرص و ہوس کی بستیاں دیدۂ بینا کبھی جب اپنے وا پاتے ہیں لوگ لطف خاص اس کا سمجھ کر دل سے کرتے ہیں قبول جو بھی دست ناز سے اچھا برا پاتے ہیں لوگ لگتا خالی ذہن شیطاں کی دکاں ہو جس طرح گھر میں گھستے ہیں جو دروازہ کھلا پاتے ہیں لوگ قدر و قیمت درد دل کی اہل دل سے پوچھئے درد کو درمان درد لا دوا پاتے ہیں لوگ جوہر ذاتی محبت ضبط ہے اس کا شعار حسن خود بیں کو ازل سے خود نما پاتے ہیں لوگ خانۂ دل تو محبت میں رہا باغ و بہار اور گھر ہوں گے جنہیں وحشت سرا پاتے ہیں لوگ دست اقدس سے جو ہاتھ آئے غنیمت جانیے بد دعا کو بھی بزرگوں کی دعا پاتے ہیں لوگ بھائی کو کر دے جدا بھائی سے روٹی کیا عجب کھانے میں خود اپنے ہونٹوں کو جدا پاتے ہیں لوگ اس کا لطف خاص جو یہ استطاعت ہے نصیب بار غم جز ابن آدم کیا اٹھا پاتے ہیں لوگ چاندنی راتوں میں موج آب جو کے ساتھ ساتھ ماہرؔ خوش گو کو بھی نغمہ سرا پاتے ہیں لوگ

غزل · Ghazal

agar na dard se is dil ko aashnaa karte

اگر نہ درد سے اس دل کو آشنا کرتے غم حیات کا کس طرح تجزیا کرتے خدا نخواستہ کشتی جو ڈوبنے لگتی سوا خدا کے بھلا کیا یہ ناخدا کرتے عجب نہیں تھا کہ آ جاتا ہوش میں بیمار قریب آ کے جو دامن سے وہ ہوا کرتے کٹی تصور حوران خلد میں جن کی ہمارے ان کے بھلا کیا وہ تصفیہ کرتے ہم ایسے رند پس مرگ بھی وہاں جاتے نہ پینا جرم ہو حکماً جہاں پیا کرتے سخی کے سامنے پھیلے ہوئے ہیں جن کے ہاتھ ہم ایسے لوگوں سے کیا عرض مدعا کرتے نہ ہوتے دل سے جو مجبور کر کے ترک وفا اسے بھی ہم ذرا تڑپا کے تجربہ کرتے تنک مزاجیٔ خوباں کا گر پتا ہوتا مناتے پھر انہیں پہلے تو ہم خفا کرتے گئے ہیں دیر و حرم ہو کے لا مکاں کی طرف قیام رہرو منزل یوں جا بجا کرتے اٹھایا مصلحتاً ہم نے خون کا دعویٰ کسی کی آنکھ سر حشر نیچی کیا کرتے نہ پاس لغزش آدم اگر ہمیں ہوتا علاج تیرا بھی اے دیو اشتہا کرتے نہ ہوتی اپنے پرائے کی پھر ہمیں تمییز دغا نہ مل کے اگر یار آشنا کرتے نیاز و ناز نہ یوں ہوتے لازم و ملزوم نہ یوں کسی کے اشاروں پہ ہم چلا کرتے درون دل کی صدا ہے مگر غزل ماہرؔ کہ شعر شعر پہ سامع ہیں واہ وا کرتے

غزل · Ghazal

tere divaane ne divaar mein dar kholaa hai

تیرے دیوانے نے دیوار میں در کھولا ہے سر افلاک نیا باب قمر کھولا ہے ڈھل گیا دن بھی وہیں رات نے ڈیرا ڈالا تھک کے رہرو نے جہاں رخت سفر کھولا ہے میرے چپ رہنے پہ بھی بات وہاں تک پہنچی راز دل تو نے مگر دیدۂ تر کھولا ہے ہم کبھی تہہ سے سمندر کے ہیں موتی لائے کبھی پرچم سر مہ سینہ سپر کھولا ہے در شبنم مہ و انجم ہیں کبھی جلوہ فروش کس نے گنجینہ یہ ہر شام و سحر کھولا ہے کوہ کن بن کے کبھی ہم نے برنگ مجنوں عشق کا باب بہ انداز دگر کھولا ہے حسد و حرص و ہوس ایسے کئی چور ملے میں نے چپ چاپ کبھی اپنا جو گھر کھولا ہے سیکڑوں خواہشوں کی ناگنیں ڈسنے کو بڑھیں ہم نے جب بھی در گنجینۂ زر کھولا ہے جس کو دیکھو وہی وارفتۂ منزل ہے یہاں واہ کیا مکتبۂ فکر و نظر کھولا ہے کس کو فرصت جو سنے تیری کہانی ماہرؔ دفتر اک شکوؤں کا یہ تو نے مگر کھولا ہے

غزل · Ghazal

munfarid to hai tiraa koi muqaabil na huaa

منفرد تو ہے ترا کوئی مقابل نہ ہوا کوئی مخلوق بھی کونین میں کامل نہ ہوا اک تماشا وہ بھی دیدار کے قابل نہ ہوا رقص بسمل جو سر کوچۂ قاتل نہ ہوا دل جو قربانیٔ پروانہ کا حامل نہ ہوا درخور انجمن شمع شمائل نہ ہوا کون ہے تیری عنایت کا جو قائل نہ ہوا کس کے دکھ سکھ میں تو وقت آنے پہ شامل نہ ہوا جاں بحق ہو گیا تسلیم الگ بات ہے یہ رہرو عشق یوں آسودۂ منزل نہ ہوا آنکھ کیا آنکھ نہیں تاب نظارہ جس کو دل وہ کیا درد محبت کا جو حامل نہ ہوا روز اول سے ہیں سرگرم تلاش محبوب ہم سا کوئی مگر آوارۂ منزل نہ ہوا خودکشی شدت ایذائے وفا میں توبہ بزدلی کہیے اسے یہ حل مشکل نہ ہوا ایسا لگتا ہے اسیران قفس چھوٹ گئے آج ہر دن کی طرح شور سلاسل نہ ہوا جز دل اہل سخن لحن میں ڈھل کر الہام دہر میں ہر کس و ناکس پہ تو نازل نہ ہوا کروٹیں لیں تو بہت حسن کی رعنائی نے عشق کا رنگ پہ ماہرؔ کبھی زائل نہ ہوا

غزل · Ghazal

lutf-e-hayaat-e-nau hai har ik inqalaab mein

لطف حیات نو ہے ہر اک انقلاب میں ہیں اصل زندگی کے مزے پیچ و تاب میں یوں تو بہت سی باتیں ہیں دل کی کتاب میں لیکن ہے غم کا تذکرہ ہر ایک باب میں لگ جائیں چار چاند ابھی آفتاب میں تحلیل کر کے دیکھے تو کوئی گلاب میں اف یہ عتاب پہلے ہی خط کے جواب میں دھوکا مجھے ضرور ہوا انتخاب میں پھر کیوں نہ تو بہ غرق ہو جام شراب میں ہے آفتاب رقص کناں ماہتاب میں پھر بھی مگر نگاہ کسی کی اسی پہ ہے کیا رہ گیا ہے اب دل خانہ خراب میں عاشق خوشی سے مر نہ کہیں جائے سنتے ہی تصویر دل ہے آئی ادھر سے جواب میں اس طرح گل شگفتہ ہے شبنم سے بھیگ کے بیٹھا ہو کوئی جیسے کوئی نہا کر شراب میں تر دامنی میں آئے نظر ہم ہی پیش پیش اعمال زندگی کے حساب و کتاب میں نفرت کا بھی جواب محبت سے دیجئے لکھا یہی ہے دل کی مقدس کتاب میں انمول دل سا گوہر نایاب دیکھیے تحفہ ہے پیش خدمت عالی جناب میں جنت کا تذکرہ کبھی کوئے صنم کی بات دونوں جہاں کا لطف ہے جام شراب میں اس فتنہ زا کو کون زمانے میں منہ لگائے بد بوئے شر ہے آ رہی نام شراب میں عہد جمود جیتے جی بے موت کی ہے موت ہے لطف زندگی کا تو بس انقلاب میں اللہ کہہ کے یاد کریں یا صنم کہیں رہنے دیں حسن کو یوں ہی لیکن حجاب میں ضبط غم وفا کا رہے ہر گھڑی خیال پہلا سبق یہی ہے محبت کے باب میں ماہرؔ غم حبیب کا اللہ بھلا کرے اکثر غزل ہوئی ہے اسی پیچ و تاب میں

غزل · Ghazal

lab-e-naazuk pe jab hansi aai

لب نازک پہ جب ہنسی آئی آگ ہر سو بکھیرتی آئی جانے کیا بیٹھے بیٹھے یاد آیا رخ عاشق پہ تازگی آئی شام غم درد دل بڑھانے کو چاند کے ساتھ چاندنی آئی آ گئے یاد غم زمانے کے کبھی بھولے سے جو ہنسی آئی بن گئی جان پر محبت میں دوستی بن کے دشمنی آئی لذت ظلم کے ہیں سب مداح راس ان کو ستم گری آئی آنکھ لڑتے ہی مچ گئی ہلچل بات سننے میں تو یہی آئی جانے کیوں دیکھ کر تجھے ساقی آج پھر یاد مے کشی آئی ماہرؔ آیا جو ذکر حب وطن یاد چکبستؔ لکھنوی آئی

Similar Poets