SHAWORDS
M

Mahir Chandpuri

Mahir Chandpuri

Mahir Chandpuri

poet
1Shayari
10Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

وہ نہ آئے تو دیکھو ہر طرف اداسی ہے پھول بھی ہیں نم دیدہ چاندنی خفا سی ہے واقعی مری وحشت کچھ تو رنگ لے آئی مجھ پہ ہنسنے والوں کے رخ پہ بد حواسی ہے جام دے نہ دے رخ سے بس نقاب سرکا دے ہر نگاہ اے ساقی میکدے میں پیاسی ہے مصلحت شعارو ہاں دار ہے مری منزل جرم عہد حاضر میں صرف حق شناسی ہے باغباں بہاروں پر کیوں نظر نہیں تیری شوخ شوخ پھولوں کا رنگ کیوں کپاسی ہے وہ مرے خیالوں میں ہنس رہے ہیں اے ماہرؔ صبح خوب صورت ہے شام دل ربا سی ہے

vo na aae to dekho har taraf udaasi hai

غزل · Ghazal

کیا کہے گا سماج مت پوچھو مرا مجھ سے مزاج مت پوچھو آج کیا ہوگا سوچنا ہے یہ کل کی باتوں کو آج مت پوچھو حادثہ دل پہ کون سا گزرا کیوں ہوا اختلاج مت پوچھو میرے دشمن تو پوچھ سکتے ہیں دوستو تم مزاج مت پوچھو کیا بتانا تمہیں ضروری ہے کس کا دل پہ ہے راج مت پوچھو ہنس کے کہنا کسی کا اے ماہرؔ ہم سے غم کا علاج مت پوچھو

kyaa kahegaa samaaj mat puchho

غزل · Ghazal

گمراہ کہہ رہے ہو مجھے یہ پتا نہیں یہ راہ وہ ہے جس میں کوئی نقش پا نہیں میں ہوں قصوروار سزا دیجئے مجھے میں یہ سمجھ رہا ہوں محبت خطا نہیں جس روز بھی وہ سیر چمن کو نہ آ سکے اس روز کوئی پھول چمن میں کھلا نہیں معصومیت تو دیکھیے دل توڑنے کے بعد وہ کہہ رہے ہیں کوئی ہماری خطا نہیں ماہرؔ کیا ہے طنز کسی بے وفا نے آج ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں پاس وفا نہیں

gumraah kah rahe ho mujhe ye pataa nahin

غزل · Ghazal

کب کسی کو میں پیار کرتا ہوں عذر ان سے ہزار کرتا ہوں جیسے سچ مچ وہ آنے والے ہیں ان کا یوں انتظار کرتا ہوں دل پہ گرتی ہے ایک بجلی سی ان سے نظریں جو چار کرتا ہوں جن کو نفرت ہے مجھ سے میں ان کو ایک مدت سے پیار کرتا ہوں خود جلا کر میں آشیاں اپنا انتظار بہار کرتا ہوں جھوٹی قسموں کا ان کی اے ماہرؔ آج تک اعتبار کرتا ہوں

kab kisi ko main pyaar kartaa huun

غزل · Ghazal

قفس میں آج کوئی غم گسار بھی تو نہیں عجیب وقت ہے ذکر بہار بھی تو نہیں نگاہ ناز کو الزام کس طرح دیجے خود اپنے دل پہ ہمیں اختیار بھی تو نہیں یہ مانتے ہیں کہ اب وہ گھٹن نہیں لیکن خزاں کے بعد کا عالم بہار بھی تو نہیں بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں کارواں اب بھی کوئی چراغ سر رہ گزار بھی تو نہیں سبھی کو میری تباہی پہ آ رہا ہے ترس مگر کسی کی نظر شرمسار بھی تو نہیں ہمارے غم پہ جہاں ہنس رہا ہے کیوں ماہرؔ ہماری طرح کوئی بے قرار بھی تو نہیں

qafas mein aaj koi gham-gusaar bhi to nahin

غزل · Ghazal

اہل فن کی نظر میں آیا ہوں جب سے شہر جگر میں آیا ہوں قدر آئی ہے ظلمت شب کی جب حدود سحر میں آیا ہوں سنگ باری کا مدعا یہ ہے میں تری رہ گزر میں آیا ہوں اے جنوں لاج میری رہ جائے بعد مدت کے گھر میں آیا ہوں کشتئ دل ترا خدا حافظ کچھ دنوں سے بھنور میں آیا ہوں رات کو کہہ رہا ہوں دن ماہرؔ میں فریب نظر میں آیا ہوں

ahl-e-fan ki nazar mein aaya huun

Similar Poets