Mahmood Beg Saaz
Mahmood Beg Saaz
Mahmood Beg Saaz
Ghazalغزل
gham-e-ulfat ne lutf-e-zindagi ki aabru rakh li
غم الفت نے لطف زندگی کی آبرو رکھ لی یہ وہ دشمن ہے جس نے دوستی کی آبرو رکھ لی سیہ زلفوں نے لہرا کر نکھارا حسن چہرے کا اندھیروں نے بکھر کر روشنی کی آبرو رکھ لی ہنسی آ تو رہی ہے دل کے زخموں کو یہ کیا کم ہے ترے بخشے ہوئے غم نے خوشی کی آبرو رکھ لی نگاہ ناز کے انداز تو دیکھو کہ چپکے سے کسی کی آبرو لے لی کسی کی آبرو رکھ لی یہ میرا ظرف ہے جو میں نے کڑوے گھونٹ پی کر بھی سر محفل تری ساقی گری کی آبرو رکھ لی نہ آتی رنگ پر یہ بزم ہستی وہ تو یہ کیسے کہ ساز دل نے نغمہ پروری کی آبرو رکھ لی
khushi hai na gham hai
خوشی ہے نہ غم ہے یہ کیسا ستم ہے بھرم ہی بھرم ہے کسے کس کا غم ہے ابھی دم میں دم ہے خدا کا کرم ہے وفا ہے جہاں میں مگر کالعدم ہے دگر گوں زمانہ نگوں جام جم ہے کرم اور مجھ پر ستم گر ستم ہے ہے جس سر میں سودا وہ خم تھا نہ خم ہے خدا پھر خدا ہے صنم پھر صنم ہے ہر آنسو شرارہ خدا کی قسم ہے ہوئے گھر سے بے گھر یہ ایثار کم ہے پڑھو سازؔ اس کو جو دل پر رقم ہے
apne hi ghar mein yuun hai mujhe apne ghar ki qaid
اپنے ہی گھر میں یوں ہے مجھے اپنے گھر کی قید درکار جیسے چھت کو ہو دیوار و در کی قید یوں زندگی کے ساتھ رہی عمر بھر کی قید لازم ہو جیسے بہر نظارہ نظر کی قید آزاد ہو کے اپنا اثر ڈھونڈھتی پھرے منظور گر نہیں ہے دعا کو اثر کی قید اس دہر کے ازل سے یہ لیل و نہار ہیں سورج کو دن کی چاند کو ہے رات بھر کی قید آزاد ہیں پرند تو پرواز کے لئے یہ تو بتاؤ ہے کہ نہیں بال و پر کی قید اے ساز کیوں نہ موت کو آواز دیجئے گر آپ کو قبول نہیں عمر بھر کی قید
jab aql ne kar Daalaa jazbaat se samjhauta
جب عقل نے کر ڈالا جذبات سے سمجھوتہ ہم کیوں نہ کریں اپنے حالات سے سمجھوتہ جینے کے لیے آخر کرنا ہی پڑا مجھ کو دن رات کی گردش میں دن رات سے سمجھوتہ حالات بدلنے میں کچھ دیر نہیں لگتی بہتر ہے ابھی کر لیں حالات سے سمجھوتہ جب اس نے جھلک دیکھی پستی میں بلندی کی سورج نے کیا بڑھ کر ذرات سے سمجھوتہ آسان نہیں اپنی اوقات سمجھ لینا مشکل ہے بہت اپنی اوقات سے سمجھوتہ کی یوں تو مرے نفس سرکش نے بہت کوشش ٹوٹا نہ مرے سر کا سجدات سے سمجھوتہ ہر سمت فضاؤں سے برسے تو لہو برسے یہ کس نے کیا چھپ کر برسات سے سمجھوتہ جب دل کے تقاضوں کو خود عقل ہی ٹھکرا دے تب ہو بھی تو کیسے ہو جذبات سے سمجھوتہ حالات نے سمجھوتہ اے سازؔ کیا مجھ سے میں نے نہ کیا اپنے حالات سے سمجھوتہ
din ke siine pe raat kaa patthar
دن کے سینہ پہ رات کا پتھر کس کے ہے التفات کا پتھر روک دیتا ہے بڑھتے قدموں کو ہو کے حائل حیات کا پتھر سنگ بنیاد ہے محبت کا یا مری کائنات کا پتھر مجھ کو دنیا نے آزمایا ہے پھینک کر حادثات کا پتھر ٹکڑے ٹکڑے صفات کی مورت ریزہ ریزہ ہے ذات کا پتھر ہے یہ امداد باہمی کا بھون پانچ کی اینٹ سات کا پتھر کیا اٹھائیں گے ناتواں کاندھے دہر کے التفات کا پتھر ہاتھ آ جاؤ گے رنگے ہاتھوں پھینک دو اپنے ہاتھ کا پتھر ہونے والا ہے نذر آندھی کی اک نہ اک دن حیات کا پتھر سازؔ کل واردات کہہ دے گا موقع واردات کا پتھر
jo apni zabaan par hai qissa paraayaa
جو اپنی زباں پر ہے قصہ پرایا وہ ہے تیرا اپنا نشانہ پرایا ذرا کوئی یہ دھوپ چھاؤں تو دیکھے کڑی دھوپ میری تو سایہ پرایا کبھی دب گئے بوجھ سے آپ اپنے کبھی بوجھ کاندھے پہ لادا پرایا تعجب ہے گنگا بہی بھی تو الٹی پرایا تو اپنا ہے اپنا پرایا نہ جانے کوئی کینچلی کب بدل لے نگاہوں کا دھوکا ہے اپنا پرایا اسی کا میں ہو کر رہا زندگی بھر مجھے عمر بھر جس نے سمجھا پرایا مجھے سازؔ اپنوں نے دیکھا تو بولے یہ اپنا نہیں ہے پرایا پرایا





