SHAWORDS
Mahmood Shahid

Mahmood Shahid

Mahmood Shahid

Mahmood Shahid

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

ho gayaa hai khuun ThanDaa aag do

ہو گیا ہے خون ٹھنڈا آگ دو ایک تازہ ایک زندہ آگ دو لمحہ لمحہ کانپتا ہے میرا دل رات کالی خوف گہرا آگ دو سانس لینا کس قدر دشوار ہے منجمد ہے میرا سینہ آگ دو دست و پا کو صبح تک رکھنا ہے گرم سرد صحرا سرد خیمہ آگ دو بادلوں سے آسماں آلود ہے اور سمندر برف آسا آگ دو بستیوں نے اوڑھ رکھا ہے کفن اور یہاں ہر فرد مردہ آگ دو مجھ میں شاہدؔ حجرۂ تاریک ہے جسم و جاں ہیں شمع کشتہ آگ دو

غزل · Ghazal

ek zanjir hai silsila jism kaa

ایک زنجیر ہے سلسلہ جسم کا ختم ہوتا نہیں رابطہ جسم کا جذبۂ ناتواں کو میسر نہیں مانگتا ہے لہو ذائقہ جسم کا لمحہ لمحہ عجب کیفیت موجزن تجربوں سے جدا تجربہ جسم کا دست و پا چاندنی چشم و لب چاندنی صاف و شفاف ہے آئینہ جسم کا باعث قربت رشتۂ جان و دل فرد اور فرد سے رابطہ جسم کا تنہا عریاں بدن اور وحشی زغن خوف انگیز ہے واقعہ جسم کا میری آنکھوں میں شاہدؔ ٹھہرتا نہیں کتنا پر پیچ ہے زاویہ جسم کا

غزل · Ghazal

paabandiyaan hain mere hi izhaar par

پابندیاں ہیں میرے ہی اظہار پر زاغ و زغن کا شور ہے مردار پر تاثیر ہے کس کے لہو کو دیکھیے سبزہ اگا ہے آہنی تلوار پر دل کش حسیں پوشاک ہو یا جسم ہو مرکوز ہے میری نظر بازار پر میرے لئے کوئی خبر آتی نہیں اور سامنے اخبار ہے اخبار پر موسم عجب حالات سے دو چار ہے بادل نہیں طائر نہیں اشجار پر دل سے جگر سے خون سے واقف کیا احسان ہے امراض کا بیمار پر یہ شہر ہے یا کوئی زنداں کیا کہیں شاہدؔ یہاں دیوار ہے دیوار پر

غزل · Ghazal

miri muTThi mein miTTi hai mohabbat ki

مری مٹھی میں مٹی ہے محبت کی یہ دولت کائناتی ہے محبت کی میں پتھر کو بدل دیتا ہوں ریشم میں مرے ہاتھوں میں نرمی ہے محبت کی تمہیں دیکھوں تو نفرت سے نہیں فرصت مجھے دیکھو تو جلدی ہے محبت کی چراغ دل کبھی بجھتا نہیں میرا مزاج خوں میں گرمی ہے محبت کی رگ و پے میں اترتا ہے عجب نشہ تری آنکھوں میں مستی ہے محبت کی اسی میں ہے ہماری سر خوشی آخر اسے تھامو یہ رسی ہے محبت کی نہیں ہے ترش اس کا ذائقہ شاہدؔ بہت میٹھی یہ املی ہے محبت کی

غزل · Ghazal

kahaani ki kahaani ho gayaa huun

کہانی کی کہانی ہو گیا ہوں طوالت میں مثالی ہو گیا ہوں یہ بستی میری خاطر اجنبی تھی کہ صدیوں میں مقامی ہو گیا ہوں غرض کوئی نہیں دنیا سے مجھ کو میں صد فیصد کتابی ہو گیا ہوں مقابل جو بھی انساں ہے عدو ہے میں سرحد کا سپاہی ہو گیا ہوں میں جبراً کاٹ لیتا ہوں لب اس کے محبت میں فسادی ہو گیا ہوں مرا غم میرے آنسو میری ہستی میں حد درجہ ہی ذاتی ہو گیا ہوں نہیں امکان شاہد بہتری کا خرابی کی خرابی ہو گیا ہوں

غزل · Ghazal

musaafir huun masaafat chaahtaa huun

مسافر ہوں مسافت چاہتا ہوں سفر کی رہ میں شدت چاہتا ہوں بہت یکسانیت ہے روز و شب میں میں فطرت سے بغاوت چاہتا ہوں کوئی آئے مجھے شرمندہ کر دے میں احساس ندامت چاہتا ہوں مجھے اپنی ہی صورت دیکھنی ہے بس اک لمحہ کی فرصت چاہتا ہوں عجب سنجیدگی ماحول میں ہے میں تھوڑی سی شرارت چاہتا ہوں کہانی در کہانی در کہانی میں قصہ میں طوالت چاہتا ہوں نہ اپنوں سے نہ ہی غیروں سے شاہدؔ میں خود سے ہی عداوت چاہتا ہوں

Similar Poets