SHAWORDS
M

Mahmood

Mahmood

Mahmood

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

رقص بسمل سہی زنجیر کی جھنکار سہی ہم نشیں راہ جنوں میں رسن و دار سہی زندگی بھر نہیں جانے کی مری کج کلہی سر پہ ہر لمحہ چمکتی ہوئی تلوار سہی آپ کہتے ہیں تو سچ ہوگی ضرور آپ کی بات ہم وفادار نہیں لاکھ وفادار سہی دل گرفتہ ہے بہت آج کا انساں یارب یہ جہاں تیرا دل آرا سہی دلدار سہی عمر بھر کے لیے پیمان وفا ہوتا ہے اے مرے دوست تو بے کار و جفا کار سہی کیا ترا نام کبھی میری زباں پر آیا دل خطاوار سہی آنکھ گنہ گار سہی

raqs-e-bismil sahi zanjir ki jhankaar sahi

غزل · Ghazal

کیا ہے مری خطا سبب بے رخی ہے کیا میرے جنون شوق میں کوئی کمی ہے کیا کرنا ذرا شمار کبھی میرے دل کے زخم یہ دوستی تری ہے تو پھر دشمنی ہے کیا ہے لالہ رنگ خون جگر سے قبائے زیست بے رنگ زندگی بھی کوئی زندگی ہے کیا روشن سواد دل ہے محبت کے نور سے ہم کیا کریں گے جان کے نیکی بدی ہے کیا ہوتی نہیں تلاش مجھے اپنے آپ کی گر جانتا عقوبت خود آگہی ہے کیا رکھنا مرے خدا مجھے اپنی پناہ میں وحشت زدہ ہوں سوچ کے یہ آدمی ہے کیا

kyaa hai miri khataa sabab-e-be-rukhi hai kyaa

غزل · Ghazal

پہنچ گیا ہوں کہاں کس کی رہگزر آئی کہ آرزوئے لب‌ و چشم آج بر آئی چھپائے رکھتا ترے غم کو سات پردوں میں برا ہوا مری دیوانگی نکھر آئی پتہ ہی کچھ نہ ملا مفلسی کے آنگن میں کہ ختم کب ہوئی شب اور کب سحر آئی تری جفاؤں کو سوچا تو دل ملول ہوا خیال آیا وفا کا تو آنکھ بھر آئی حصار سود و زیاں سے کہاں نکل پاتا مگر جنوں میں عجب دلکشی نظر آئی

pahunch gayaa huun kahaan kis ki rah-guzar aai

غزل · Ghazal

وفا کی راہ میں کس کا یہ نقش پا نکلا جبین شوق ترا آج حوصلہ نکلا سکوت آخر شب اور فسردگی دل کی بجھا بجھا سا تری یاد کا دیا نکلا کمی تھی کچھ تری بزم طرب میں کیا ساقی کہ جرعہ جرعہ بھلا کس کا حوصلہ نکلا کبھی برستے تھے لعل و گہر اسی گھر میں اسی مکاں سے مگر کاسۂ گدا نکلا کٹھن تھی راہ وفا دور منزل جاناں قدم بڑھائے تو لمحوں کا فاصلہ نکلا مرا فسانہ تو ہر عہد کا فسانہ ہے کہ لفظ لفظ محبت کا ماجرا نکلا

vafaa ki raah mein kis kaa ye naqsh-e-paa niklaa

غزل · Ghazal

رنگ گل اور لگا موج صبا اور لگی کس کے آنے سے گلستاں کی فضا اور لگی آج مائل ہے وہ اکرام و عنایات پہ کیا کیوں ہمیں کوچۂ جاناں کی ہوا اور لگی لڑکھڑانے پہ کسے رقص کا ہوتا ہے گماں فصل گل آئی تو پھر لغزش پا اور لگی دل دھڑکنے کے ہیں آداب مگر تیرے حضور جانے کیوں سینے میں دھڑکن کی ادا اور لگی کس طرح کہتا کوئی تجھ کو ستم گر اے دوست سچ تو یہ ہے کہ ہمیں تیری جفا اور لگی

rang-e-gul aur lagaa mauj-e-sabaa aur lagi

غزل · Ghazal

جب سے جنون شوق کے محور بدل گئے چہروں کے پھول قد کے صنوبر بدل گئے کیوں اپنے ساتھ دیدۂ حیراں کو لے گیا بچپن گیا تو حسن کے پیکر بدل گئے زہراب عشق پی نہ سکے بوالہوس کبھی کہنے کی بات ہے خم و ساغر بدل گئے سویا تو آنکھ میں ترے سپنے سما گئے جاگا تو رنگ خواب کے یکسر بدل گئے اے عمر رفتہ لوٹ کے آ جا بس ایک بار آ جا کہ صبح و شام کے تیور بدل گئے

jab se junun-e-shauq ke mehvar badal gae

Similar Poets