baat karnaa hai karo saamne itraao nahin
jo nahin jaante us baat ko samjhaao nahin

Majid
Majid
Majid
Popular Shayari
10 totalbiis baras se ik taare par man ki jot jagaataa huun
divaali ki raat ko tu bhi koi diyaa jalaayaa kar
sukhe patte sab ikaTThe ho gae hain
raaste mein ek divaar aa gai hai
honT ki surkhi jhaank uThti hai shishe ke paimaanon se
miTTi ke bartan mein paani pi kar pyaas bujhaayaa kar
lohe aur patthar ki saari tasvirein miT jaaeingi
kaaghaz ke parde par ham ne sab ke ruup jamaae hain
qarib dekh ke us ko ye baat kis se kahun
khayaal dil mein jo aayaa gunaah jaisaa thaa
mujhi se puchh rahaa thaa miraa pataa koi
buton ke shahr mein maujud thaa khudaa koi
'maajid' ne bairaag liyaa hai koi aisi baat nahin
idhar udhar ki baatein kar ke logon ko samjhaayaa kar
insaan mein kyaa bharaa huaa hai
honTon se dimaagh tak sile hain
aandhe moD ko jo bhi kaaTe aahista guzre
cyclein Takraa jaati hain akasr motor se
Ghazalغزل
یہ زور و شور سر آبشار کیسا ہے خموش کب سے ہے یہ کوہسار کیسا ہے کوئی ہے اور بھی آئے گا جو اسی جیسا وہ آ چکا ہے مگر انتظار کیسا ہے جو چاہتے ہیں کسی کو یہاں نہ آنے دیں بتاؤ شہر طلب میں حصار کیسا ہے یہ کیسی شاخ کے پیوند ہیں درختوں پر یہ کیسے پھل ہیں یہ رنگ بہار کیسا ہے ہمیشہ سوچ سے کم ہی رہا ہے ہر حاصل خیال و خواب کا یہ انتشار کیسا ہے کسی بھی گھر میں وہ پہلی محبت ہے ہی نہیں کوئی بھی کہتا نہیں یہ دیار کیسا ہے ہر ایک لفظ کے معنی بدل گئے ماجدؔ جہان شعر میں یہ خلفشار کیسا ہے
ye zor-o-shor sar-e-aabshaar kaisaa hai
جب جدا پیڑوں سے کٹ کر ڈالی ڈالی ہو گئی اک تیرے جنگل کی ماجد گود خالی ہو گئی کوئی موسم ہو بہ ہر صورت ہوا چلتی رہی بڑھ گیا اتنا دھواں ہر شکل کالی ہو گئی میرے چہرے پر لکھی تھیں سرخیاں اخبار کی جو بھی صورت سامنے آئی سوالی ہو گئی ہیں وہی الفاظ لیکن وہ معانی ہی نہیں بات صلح و آشتی کی آج گالی ہو گئی تیری تصویروں پہ بھی اپنا نہیں ہے اختیار فاصلہ اتنا بڑھا صورت خیالی ہو گئی خوں کا خط استوا ماجدؔ تعصب میں گھرا پیار کی باد صبا باد شمالی ہو گئی
jab judaa peDon se kaT kar Daali Daali ho gai
چاند کی کرنوں کی چادر نے سب کے روپ چھپائے ہیں آنکھوں والے سب ہی جا کر نگری سے لوٹ آئے ہیں تاریکی کا نام ہو روشن آگے پیچھے ایک دیا روشنیوں کے ویرانے میں آگے پیچھے سائے ہیں کرنوں کے دھاگوں کو سمیٹے اون کا گولا ڈوب گیا ننگی دھرتی لمبی راتیں دیکھ کے ہم تھرائے ہیں جھاڑی جھاڑی سونگھ رہا ہوں کوئی بھی خرگوش نہیں کتوں جیسے پیر کہاں سے ہر جھاڑی تک آئے ہیں لوہے اور پتھر کی ساری تصویریں مٹ جائیں گی کاغذ کے پردے پر ہم نے سب کے روپ جمائے ہیں گھنٹی کی آوازیں سچ ہیں چیخ پہ کوئی کان نہ دو لوہے کے تابوت میں ماجدؔ انسانوں کے سائے ہیں
chaand ki kirnon ki chaadar ne sab ke ruup chhupaae hain
اندھے موڑ کو جو بھی کاٹے آہستہ گزرے سائکلیں ٹکرا جاتی ہیں اکثر موٹر سے اندھیارے میں ہنستے روتے کالے گیت سنے جو سورج کے آگے آئے وہ آخر چمکے دن کے ورق پر انساں کیا تھے آڑے ترچھے لفظ رات ہوئی تو دیکھ رہا ہوں کاغذ پر نقطے میں بکھرے لمحے کا موتی صدیوں سے مربوط میرے جسم سے ہو کر گزرے برسوں کے دھاگے ماجدؔ کی دو غزلیں بھی بھاری ہیں دو سو پر ساری غزلوں کو اب کوئی چھاپے نا چھاپے
andhe moD ko jo bhi kaaTe aahista guzre
آنسوؤں کی ایک چادر تن گئی ہے دیکھنے میں روشنی ہی روشنی ہے سوکھے پتے سب اکٹھے ہو گئے ہیں راستے میں ایک دیوار آ گئی ہے غم کا ریلا ذہن ہی کو لے اڑا ہے سوچئے تو آندھیوں کی کیا کمی ہے چلّو چلّو روشنی کو پی رہا ہوں موج دریا قطرہ قطرہ چاندنی ہے رات میں دھنکا ہوا سورج پڑا تھا دن میں ماجدؔ دھوپ کالی ہو گئی ہے
aansuon ki ek chaadar tan gai hai
سوچ کے بے سمت دروازوں پہ جب پتھر لگا میں سمٹ کر اڑ گیا خالی بدن کا گھر لگا گھورتی ہیں ہر طرف بے نور آنکھیں کس لیے آئینہ خانے میں اندھے سے کہو چکر لگا یاد میں کپڑے بدلنے کے لیے مجھ سے چھپا وہ کہیں بھی تھا مجھے کچھ دیر دریا پر لگا جن منڈیروں سے کبوتر جھانکتے تھے رات دن اتنی اونچی ہو گئی ہیں دیکھتے ہی ڈر لگا اتفاقاً گھنٹیاں سی کان میں بجنے لگیں میں اکیلا ہی تھا گھر میں سارا گھر مندر لگا
soch ke be-samt darvaazon pe jab patthar lagaa





