
Manik Vishwakarma Navrang
Manik Vishwakarma Navrang
Manik Vishwakarma Navrang
Ghazalغزل
nahin hotaa jahaan kuchh bhi khayaal-e-khaam hotaa hai
نہیں ہوتا جہاں کچھ بھی خیال خام ہوتا ہے اسے سنتا نہیں کوئی جو قصہ عام ہوتا ہے تمہاری بزم میں جانے سے میرا قد نہیں بڑھتا مرے آنے سے محفل میں تمہارا نام ہوتا ہے عجب دستور ہے دیپک تلے پلتا ہے اندھیارا کسی کی جان جاتی ہے کسی کا کام ہوتا ہے حقیقت آ ہی جاتی ہے نگاہوں میں زمانے کی برائی کا ہمیشہ سے برا انجام ہوتا ہے بھلے بن کر رہا کرتے ہیں میٹھا بولنے والے کھرا کہتا ہے جو اکثر وہی بدنام ہوتا ہے
vo fazaa kyaa jahaan bahaar na ho
وہ فضا کیا جہاں بہار نہ ہو دید ہوتے ہی جاں نثار نہ ہو ایک بھی گل نظر نہیں آتا جس پہ مالی کا اعتبار نہ ہو ایسے پینے کا فائدہ کیا ہے جس کا کچھ دیر تک خمار نہ ہو عاشقی میں مزہ نہیں رہتا گر محبت میں انتظار نہ ہو وہ فقط آنکھ ہے نگاہ نہیں جو کسی دل کے آر پار نہ ہو میں اسے سینچتا نہیں نورنگؔ جس گلستاں پہ اختیار نہ ہو
zindagi kaa safar 'ajib rahaa
زندگی کا سفر عجیب رہا ساتھ میرے مرا رقیب رہا پاس منزل تھی چھو نہیں پایا بد سے بد تر مرا نصیب رہا جب عدالت کا فیصلہ آیا ایک میں ہی وہاں مجیب رہا خوب دولت کما کے دیکھ لیا پھر بھی دنیا میں میں غریب رہا غم اٹھانا لکھا تھا قسمت میں بے وفاؤں کا میں حبیب رہا مرض بڑھتا گیا سکوں نہ ملا میرا قاتل مرا طبیب رہا
koi kisi kaa hotaa nahin is jahaan mein
کوئی کسی کا ہوتا نہیں اس جہان میں کانٹے ملے ہیں ہم کو سبھی کی زبان میں پہچانتے نہیں در و دیوار ان دنوں بن کر کرایے دار ہیں اپنے مکان میں یادیں بچی ہوئی ہیں فقط بیتے وقت کی تالا لگا کے بیٹھے ہیں اپنی دکان میں ہم سے جڑی ہوئی ہیں زمانہ کی تلخیاں نورنگؔ فیل ہو گئے ہر امتحان میں
bahut chhoTaa safar hai zindagi kaa
بہت چھوٹا سفر ہے زندگی کا مقدر شمع کی ہے روشنی کا سبھی دل توڑ دیں گے دیکھ لینا جھمیلا پال رکھے ہو صدی کا خوشی میں بھی چھپا ہوتا ہے ماتم لیا ہے لطف کس نے ہر خوشی کا نہیں گھٹتی محبت بانٹنے سے کرو گے کیا جٹا کر دشمنی کا رہے گا چاند جب تک آسماں میں تبھی منظر دکھے گا چاندنی کا سیاستدانوں میں کرسی کی خاطر نشہ چڑھنے لگا ہے بندگی کا وفا کی راہ میں بھی آج نورنگؔ بھروسہ کر نہیں سکتے کسی کا
log baiThe rahe raushni ke liye
لوگ بیٹھے رہے روشنی کے لیے کوئی نکلا نہیں تیرگی کے لیے عمر بھر ہم نبھاتے رہے دشمنی وقت کم پڑ گیا دوستی کے لیے دل کی ہر بات سنتے ہیں ہم دھیان سے عشق کرتے نہیں عاشقی کے لیے یاد کرتے ہیں ایشور کو چاروں پہر ڈھونگ کرتے نہیں بندگی کے لیے جو بھی کہنا ہے کہتے ہیں ہم بے دھڑک رنج رکھتے نہیں ہم کسی کے لیے موت سے ہو نہ پایا کبھی سامنا مر رہے ہیں مگر زندگی کے لیے سانس لے دو گھڑی بیٹھ کر باغ میں یہ مناسب نہیں آدمی کے لیے دوار پر کوئی ہم درد آیا نہیں غم اٹھاتے رہے ہم خوشی کے لیے





