
Mannan Bijnori
Mannan Bijnori
Mannan Bijnori
Ghazalغزل
خراب ہوتے ہی ہیٹر مکاں میں برف گلی کمی پرال کے بستر کی ساری رات کھلی ترے بنے ہوئے سوئیٹر کی دھوپ یاد آئی تو اور باد زمستاں اکڑ اکڑ کے چلی کہاں ہو آؤ کہ ہے سرد شب کا پہلا پہر خرید لیتے ہیں مل کر کراری مونگ پھلی کڑا رہا ہے کندوئی بڑے کڑھاؤ میں دودھ ملائی جم کے چھوہاروں پہ لگ رہی ہے بھلی لحاف بانٹنے والو، ہیں سردیاں سب کی مراری لعل ہو جوزف ہو یا غلام علی
kharaab hote hi heater makaan mein barf gali
2 views
ذائقے پیدا طبیعت میں لچک کرتے ہیں آ تجھے واقف قند اور نمک کرتے ہیں آؤ چلتے ہیں جہاں سازش احباب نہ ہو دشمنی کا یہ سفر دوستی تک کرتے ہیں وہ جو انسان کے ہی بس میں ہے اس پر انساں جانے کس منہ سے شکایات فلک کرتے ہیں کھلنے ہی والا ہے بس اندھی عقیدت کا بھرم ہم سے کچھ لوگ بہت چھان پھٹک کرتے ہیں شرک تو خواب میں بھی ہم سے نہیں ہو سکتا ہم تو یارب تری قدرت پہ بھی شک کرتے ہیں
zaaiqe paidaa tabiat mein lachak karte hain
1 views
آرزوؤں نے اچھل کود مچائی ہوئی ہے جب سے تجھ تک مری چاہت کی رسائی ہوئی ہے مجھ سے اصرار ہے دل کا کہ بنوں صحرائی خاک نادان نے سینے میں اڑائی ہوئی ہے دور سے تاپنے والے بھی جھلس سکتے ہیں تیری رعنائی نے وہ آگ لگائی ہوئی ہے رہ کے سینے میں مرے تیرا طرفدار ہے دل ساری پٹی تری آنکھوں کی پڑھائی ہوئی ہے خوش نما منظرو اتراؤ نہ اتنا خود پر یار نے زلف حسیں رخ پہ گرائی ہوئی ہے اہل تخئیل تصور میں جسے چھو نہ سکیں میں نے وہ شکل نگاہوں میں بسائی ہوئی ہے
aarzuon ne uchhal-kud machaai hui hai
1 views
قدم سو من کے لگتے ہیں کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے کوئی امید جب بر آتی آتی ٹوٹ جاتی ہے دریچے بند ذہنوں کے نہیں کھلتے ہیں طاقت سے لگا ہو زنگ تالے میں تو چابی ٹوٹ جاتی ہے تری الفت میں ایسا حال ہے جیسے کوئی مچھلی نگل لیتی ہے کانٹا اور لگی ٹوٹ جاتی ہے جدھر کے ہو ادھر کے ہو رہو دل سے تو بہتر ہے کہ لوٹا بے تلی کا ہو تو ٹونٹی ٹوٹ جاتی ہے اکڑ کر بولنے والے نہ ہو گر تان آٹے میں توے سے قبل ہی ہاتھوں میں روٹی ٹوٹ جاتی ہے چونی کے نہ تڑوانے پہ ہم سے روٹھنے والے کہاں ہے تو کہ آ اب سو کی گڈی ٹوٹ جاتی ہے
qadam sau man ke lagte hain kamar hi TuuT jaati hai
1 views
درد کے بیج بو لئے رنج و الم اگا لئے عشق میں دل کی مان کر ہم نے یہ گل کھلا لئے تیلی دکھا تو دی مگر جلدی سے پھر بجھا کے آگ اس نے مرے تمام خط جھاڑ کے دھول اٹھا لئے قلت اشک اب کبھی ہوگی نہ عمر بھر ہمیں ہم نے خوشی کے شوق میں اتنے تو غم کما لئے تنہا رہیں گے کس طرح ہائے یہ ہم نے کیا کہا اپنوں کو بھی پرکھ لیا غیر بھی آزما لئے
dard ke biij bo liye ranj-o-alam ugaa liye
وہ ہمیں کیسے بھلا اہل وفا مانے گا خود پہ نازاں ہے اداؤں کا صلہ مانے گا بے یقیں ہے ہم اگر اس کے لئے جان بھی دیں قبر کو شعبدہ بازوں کا گڑھا مانے گا عقل اکبر ہے تو کیا دل بھی ہے شہزادہ سلیم عشق میں کون بزرگوں کا کہا مانے گا پرسش حال نہیں ہے کوئی صحرا کی طرح کیوں نہ بستی کو جنوں دشت نما مانے گا جو بھی دیتا ہے کسی اور سے دلواتا ہے ہر کوئی کیسے بھلا رب کی عطا مانے گا
vo hamein kaise bhalaa ahl-e-vafaa maanegaa





