
Mannan Qdeer Mannan
Mannan Qdeer Mannan
Mannan Qdeer Mannan
Ghazalغزل
انکار کے پہلو میں ہے انکار کم و بیش دیوار کے آگے بھی ہے دیوار کم و بیش دشمن سے رہا برسر پیکار میں تنہا سب اپنی بچاتے رہے دستار کم و بیش یہ ملک ہنر والوں کے حق میں نہیں صاحب غربت میں یہاں مرتے ہیں فن کار کم و بیش مہکے ہوئے اجسام میں رہتا ہوں ہمیشہ رہتی ہے مرے چار سو مہکار کم و بیش یہ شہر کسی خوف میں رہتا ہے مسلسل اس شہر کے کھلتے نہیں بازار کم و بیش میں دیکھنے میں دوست پرندوں کی طرح ہوں اب مجھ سے گلے ملتے ہیں اشجار کم و بیش اب صبح سے منانؔ نہیں ملنا ملانا اب دیر سے ہوتا ہوں میں بیدار کم و بیش
inkaar ke pahlu mein hai inkaar kam-o-besh
جدائیوں سے جو پیمان کر رہا ہوں میں یہ مشکلیں تری آسان کر رہا ہوں میں بلا جواز لگائی نہیں ہے خود کو آگ بجھے چراغ پہ احسان کر رہا ہوں میں ذرا بھی خاک اڑائی نہیں ہے وحشت میں گزرنے والوں کو حیران کر رہا ہوں میں لگا رہا ہوں جو میں بار بار دل سے تجھے یہ اپنے جسم کو گلدان کر رہا ہوں میں مجھے خبر تھی جدائی میں فائدہ ہے مگر سبھی نے سمجھا کہ نقصان کر رہا ہوں میں ہے میرے پاس اک اچھی خبر برائے جنوں ذرا رکو کوئی اعلان کر رہا ہوں میں جواز کوئی نہیں دوسری محبت کا یہ اور بات کہ منانؔ کر رہا ہوں میں
judaaiyon se jo paimaan kar rahaa huun main
آ بیٹھ تو میرے سامنے او دل دار پلاننگ کرتے ہیں دنیا سے بچانا ہے کیسے اب پیار پلاننگ کرتے ہیں ہر ایک پہ کب کھلتے ہیں یہ اے دوست تمہیں معلوم تو ہے کچھ خاص پرندوں سے مل کر اشجار پلاننگ کرتے ہیں سو شک کی کوئی گنجائش نئیں یہ بات عیاں تو سب پر ہے جب مل بیٹھیں تو ظاہر ہے پھر یار پلاننگ کرتے ہیں لگتا ہے اثر نہیں کرتی اب کوئی بھی دوا ان پر صاحب ہر روز مسیحا سے مل کر بیمار پلاننگ کرتے ہیں یہ دشت ہے اتنا سہل نہیں اس ویرانے میں رہ جانا کچھ سوچ کے ہی ہم وحشت میں ہر بار پلاننگ کرتے ہیں جو سوچتے ہیں وہ ہوتا نئیں جو نئیں ہوتا وہ سوچتے ہیں یوں لگتا ہے منانؔ کہ ہم بے کار پلاننگ کرتے ہیں
aa baiTh to mere saamne o dildaar planning karte hain
سارے نہیں جنون میں ایسے پڑے ہوئے ہم لوگ ہیں زمین پہ جیسے پڑے ہوئے آپ آئے ہیں تو اٹھا ہوں اتنا رہے خیال اک عمر ہو گئی مجھے ویسے پڑے ہوئے شہرت نے کر دیا مرا جینا بھی اب محال یہ لوگ میرے پیچھے ہیں کیسے پڑے ہوئے خوابوں کی ریز گاری لئے پھر رہا ہوں میں ہیں میری جیب میں یہی پیسے پڑے ہوئے ممکن اگر ہو کوئی کیا جائے انتظام خالی سبو ہیں دوستو مے سے پڑے ہوئے کوشش کے باوجود بھی کھلتا نہیں کہ ہیں جذبات لگ کے کون سی شے سے پڑے ہوئے
saare nahin junun mein aise paDe hue
ہے مجھ کو اندازہ کھل بھی سکتا ہے دستک پر دروازہ کھل بھی سکتا ہے ہجر میں تم محتاط رہو تو بہتر ہے کیونکہ زخم ہے تازہ کھل بھی سکتا ہے سونے والوں کو معلوم نہیں شاید خوابوں کا خمیازہ کھل بھی سکتا ہے اتنا بھی محتاط نہیں ہوتا یہ دوست رخساروں پر غازہ کھل بھی سکتا ہے سناٹا اب اتنا بھی بے درد نہیں چپ پر یہ آوازہ کھل بھی سکتا ہے کیسے عشق کا ہر جانب منان قدیرؔ بکھرا ہے شیرازہ کھل بھی سکتا ہے
hai mujh ko andaaza khul bhi saktaa hai
دکھ ہے کئی وبال مجھے نوچتے رہے وحشت میں ماہ و سال مجھے نوچتے رہے میں احتجاج کر نہ سکا احترام میں اور اس کے خد و خال مجھے نوچتے رہے زخمی ہوا ہوں حسن کے ہاتھوں تمام عمر کچھ لوگ بے مثال مجھے نوچتے رہے ان کو بھی دے رہا ہوں دعائیں مرے عزیز جو کر کے پائمال مجھے نوچتے رہے یا شہر میں حسین رلاتے تھے رات دن یا دشت میں غزال مجھے نوچتے رہے منانؔ جو ملاتا رہا میری ہاں میں ہاں اس شخص کے سوال مجھے نوچتے رہے
dukh hai kai vabaal mujhe nochte rahe





