
Mansha Ur Rahman Khan Mansha
Mansha ur Rahman Khan Mansha
Mansha ur Rahman Khan Mansha
Ghazalغزل
خصوصی لطف فرمائی نہ چھوڑی ان آنکھوں نے مسیحائی نہ چھوڑی رہیں پابندیاں جب تک زباں پر خموشی نے بھی گویائی نہ چھوڑی ہوئے پیراہن گل چاک در چاک صبا نے ناز فرمائی نہ چھوڑی ہمیں بھی آرزوئے نیک نامی ہوائے کوئے رسوائی نہ چھوڑی اسی سے چشم و دل کی زندگی تھی متاع نا شکیبائی نہ چھوڑی ہزاروں رنج و غم ہیں پھر بھی دل نے ترے غم کی پذیرائی نہ چھوڑی خرد نے لاکھ سمجھایا ڈرایا جنوں نے حشر آرائی نہ چھوڑی حوادث سے گزرنے پر بھی منشاؔ غزل نے شان رعنائی نہ چھوڑی
khususi lutf-farmaai na chhoDi
1 views
محبت کا قرینا آ گیا ہے ہمیں مر مر کے جینا آ گیا ہے بہ فیض غم ہم اہل دل کے ہاتھوں دو عالم کا خزینہ آ گیا ہے تری شادابیوں کا ذکر سن کر گلوں کو بھی پسینہ آ گیا ہے بھڑک اٹھتی ہے جس میں آگ دل کی وہ ساون کا مہینہ آ گیا ہے مسافر اب کہیں تو جا لگیں گے تلاطم میں سفینہ آ گیا ہے سمجھے بیٹھے ہیں خود کو رند کامل جنہیں دو گھونٹ پینا آ گیا ہے جنوں اب تک تھا منشاؔ چاک داماں اب اس کو چاک سینا آ گیا ہے
mohabbat kaa qarinaa aa gayaa hai
1 views
دل پہ زخم کھانے سے اشک خوں بہانے تک ہم نے غم سہے کیا کیا کیف زیست پانے تک فصل نو بہاراں کو کیا خبر کہ غنچوں پر کتنے حشر گزرے ہیں کھل کے مسکرانے تک دل نے عزم و ہمت سے کام لے لیا ورنہ ہم پہ کیا نہیں بیتی آرزو بر آنے تک اضطراب پئےہم سے زندگی عبارت ہے دل کی قدر و قیمت ہے ناز غم اٹھانے تک منزلوں کی دشواری راستوں کے سناٹے ہیں تمام اندیشے اک قدم بڑھانے تک ہو فضا کی وسعت کا اس کو خاک اندازہ حد فکر ہو جس کی اپنے آشیانے تک سچ تو ہے یہی منشاؔ زندگی کی راہوں میں تیرگی کا خطرہ ہے شمع دل جلانے تک
dil pe zakhm khaane se ashk-e-khun bahaane tak
1 views
سوز دل آہ شرربار سے پہچانتے ہیں لوگ طوفان کو آثار سے پہچانتے ہیں حوصلہ کہتے ہیں اک راہ عمل دیتا ہے حشر کو ہم تری رفتار سے پہچانتے ہیں رنگ مے رنگ شفق رنگ گہر رنگ گلاب تیرے رنگ لب و رخسار سے پہچانتے ہیں اپنی قسمت کے خم و پیچ کو ہم دیوانے تیرے ہی گیسوئے خم دار سے پہچانتے ہیں اہل دل اہل جگر اہل نظر اہل وفا ہم کو شوق رسن و دار سے پہچانتے ہیں گردش چرخ کا رخ ہو کہ زمانے کا مزاج صرف ہم دیدۂ بے دار سے پہچانتے ہیں اور ہیں وہ جو زر و سیم پہ رکھتے ہیں نظر ہم تو انسان کو کردار سے پہچانتے ہیں حسن والوں کی یہ خوبی ہے کہ دل والوں کو اک نظر ہی میں بڑے پیار سے پہچانتے ہیں شاعری کا یہ کرم کم تو نہیں ہے منشاؔ لوگ تجھ کو ترے اشعار سے پہچانتے ہیں
soz-e-dil aah-e-sharar-baar se pahchaante hain
1 views
عشق کو بار زندگی نہ کہو بات اتنی بھی بے تکی نہ کہو دل کو جس میں ہو فکر سود و زیاں اس تجارت کو عاشقی نہ کہو کچھ تو مرنے کا حوصلہ دکھلاؤ صرف جینے کو زندگی نہ کہو دل لگی کے سوا بھی کچھ ہے عشق عشق کو محض دل لگی نہ کہو کچھ نہ کہہ کر بھی اپنے دل کی بات یوں بہ انداز خامشی نہ کہو سب کہو پر ہمیں خدا کے لئے اپنے محفل میں اجنبی نہ کہو جس کو کچھ آدمی کا درد نہ ہو ایسے ظالم کو آدمی نہ کہو دل کو بخشے جو زندگی منشاؔ تم تو اس غم کو غم کبھی نہ کہو
ishq ko baar-e-zindagi na kaho
1 views
زیست میں رنگ بھر گئی آخر وہ نظر کام کر گئی آخر جذب وحشت کی کارسازی سے دل کی قسمت سنور گئی آخر چیر کر پردۂ مہ و انجم آپ ہی پر نظر گئی آخر جو قیامت گزرنی تھی ہم پر دل کے ہاتھوں گزر گئی آخر ہائے وہ اک نگاہ دزدیدہ کیا کیا الزام دھر گئی آخر جو خلش دل میں تھی نہاں پہلے رگ و پے میں اتر گئی آخر عزم تاباں سے برسر منزل روشنی سی بکھر گئی آخر سوز دل کے طفیل اے منشاؔ شاعری بھی نکھر گئی آخر
ziist mein rang bhar gai aakhir
1 views





