SHAWORDS
M

Mansoor Ejaz

Mansoor Ejaz

Mansoor Ejaz

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

یوں ہی سوتے سے کبھی جاگ کے اٹھنے کا سبب یاد تو ہوگا تمہیں دل کے دھڑکنے کا سبب دل کی راہوں سے خلاؤں کے سفر تک کی گھٹن اور کچھ سوچ کے آئینے کو تکنے کا سبب اس گزر گاہ سے ہرگز وہ گزرنے کا نہیں پھر اسی موڑ پہ تنہا ترے رکنے کا سبب الوداع کہنے جو آیا تھا ترا کیا تھا بتا اس سے مل کر یہ تیرے پھوٹ کے رونے کا سبب کوئی چہرہ کوئی خوشبو نہ کہیں کوئی سراب ایسی تنہائی سے منصورؔ الجھنے کا سبب

yunhi sote se kabhi jaag ke uThne kaa sabab

غزل · Ghazal

میں وفا کی آنکھ سے ٹپکا ہوا ایک آنسو تھا بہت رسوا ہوا پر جھٹک کر ہو گیا ہے تازہ دم اک پرندہ قید سے چھوٹا ہوا مدتیں گزریں اسے بچھڑے ہوئے لمحہ لمحہ پھر بھی ہے ٹھہرا ہوا پیار بھی ہوتا ہے کیا مجبور کا ایک وعدہ ریت پر لکھا ہوا اجنبی تو بھی پرائے دیس میں میں بھی اپنے شہر میں بھٹکا ہوا میں کسی مفلس کے در کی دھول ہوں وو بھی اک پتھر بہت پوجا ہوا اک تری دیوانگی منصورؔ کیا اس گلی میں ہر کوئی رسوا ہوا

main vafaa ki aankh se Tapkaa huaa

غزل · Ghazal

میں بھی خاموش اجالوں کی ضیا ہوں جیسے اپنی دھرتی پہ خدا تیرا پتا ہوں جیسے اس کی آنکھوں میں قیامت کی حیا روشن ہے نیم خوابیدہ اسے سوچ رہا ہوں جیسے میرا مسکن نہ ٹھکانہ نہ کوئی راہ گزر میں کوئی سر پھری آوارہ ہوا ہوں جیسے میرا در چھوڑ کے جاتی ہی نہیں ہے کم بخت تیری رسوائی کو اک میں ہی ملا ہوں جیسے زندگی تو بھی تو مجھ سے کبھی کھل کر نہ ملی اجنبی تیرے لئے میں بھی رہا ہوں جیسے خود سے مل کر مجھے شدت سے لگا ہے منصورؔ اب تلک مردہ ضمیروں میں رہا ہوں جیسے

main bhi khaamosh ujaalon ki ziyaa huun jaise

غزل · Ghazal

سخت جاں اور بے حس ہوا ہوں غم کے احساس سے بچ گیا ہوں دوستوں سے بھی حیرت زدہ ہوں اجنبی دشمنوں میں رہا ہوں کوئی حد بھی تو ہو سوچنے کی سوچتا ہوں تو بس سوچتا ہوں میرے قدموں سے سر کو اٹھا لے میں ترے ظلم کی انتہا ہوں تو غزل ہے سراپا غزل میں آخری شعر کا قافیہ ہوں

sakht-jaan aur be-his huaa huun

غزل · Ghazal

ایسا ہوگا ویسا ہوگا کیا جانوں میں کیسا ہوگا میرے سامنے بیٹھ کے رو لے میرا غم بھی ہلکا ہوگا تو جو ہنسنا بھول گیا ہے تیرا دل بھی ٹوٹا ہوگا ہم دونوں میں رشتہ کیا ہے جگ میں اس کا چرچا ہوگا تو پردیسی تو کیا جانے میں نے کیا کیا سوچا ہوگا وہ ہے میں ہوں تنہائی ہے کون بھلا یوں تنہا ہوگا

aisaa hogaa vaisaa hogaa

غزل · Ghazal

چاند جب آسماں پہ چلتا ہے میرے دل سے کوئی گزرتا ہے تھرتھرائے ہوئے لبوں سے ترے دیکھنا ہے کہ کیا نکلتا ہے کوئی صحرا نہیں سراب نہیں تیری آنکھوں میں کیا چمکتا ہے پھول کھلتے ہیں جب بھی گلشن میں تو بھی آئے گا ایسا لگتا ہے لوگ بیٹھے ہیں بند کمروں میں اور سڑکوں پہ غم بھٹکتا ہے چاند راتوں میں درد جاگے تو تنہا کمروں میں دم بھی گھٹتا ہے دل میں جل کر جو بجھ گیا منصورؔ ذہن میں وہ چراغ جلتا ہے

chaand jab aasmaan pe chaltaa hai

Similar Poets