SHAWORDS
Manzar Shahab

Manzar Shahab

Manzar Shahab

Manzar Shahab

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

باہر حصار درد سے آنا نہ تھا کبھی جو درد اب ملا ہے وہ جانا نہ تھا کبھی اقرار واقعی سے مرا دل سہم گیا اپنا قصور آپ نے مانا نہ تھا کبھی الجھی ہوا چراغ سے تو جل گیا بدن مغرور سر کا ناز اٹھانا نہ تھا کبھی اب کے لہو کی رت میں جدا شاخ سے تھے پھول مقتل کا رنگ اتنا سہانا نہ تھا کبھی محفوظ کر لیا ہے عدالت نے فیصلہ قانون وقف عذر زمانہ نہ تھا کبھی ٹانکے شہابؔ ٹوٹ گئے فرط درد سے منظور دل کا درد دکھانا نہ تھا کبھی

baahar hisaar-e-dard se aanaa na thaa kabhi

غزل · Ghazal

بارشیں خون کی تیز ہیں تیز ہیں خون کی آندھیاں چاک در چاک اڑنے لگیں خون میں زیست کی چھتریاں رات پٹرول کی آگ سے شہر میں یوں چراغاں ہوا کانپ کر بجھ گئیں دل کے روشن جھروکوں کی سب بتیاں بے اماں خلق کرفیو زدہ روز و شب کے اندھیرے میں گم اپنی گردن میں ڈالے ہوئے اپنے کتبات کی تختیاں دونوں ہی لکھ رہی تھیں لہو سے مرے سانحہ قتل کا اک طرف حملہ ور آستیں اک طرف پاسباں وردیاں گر یوں ہی آگ دامن سے اٹھتی رہی تو جلا ڈالے گی حسن گل رنگ کا پیرہن عشق گلنار کی دھجیاں جلتی آنکھوں کے موتی پگھلتے رہے اور احساس کے ریگ زاروں میں تپتی رہیں میرے خوابوں کی پرچھائیاں مرگ انبوہ کا جشن ماتم ہے روشن کریں ہم شہابؔ پھلجھڑی اشک خوش رنگ کی تازہ زخموں کی مہتابیاں

baarishein khuun ki tez hain tez hain khuun ki aandhiyaan

غزل · Ghazal

جیسے جیسے خود نوشت دوستاں پڑھتے گئے دشمنوں کے باب میں کچھ کچھ ورق جھوٹے لگے خوش یقیں ہوں میرے اندر کوئی ہے محو کلام میں فقط دو ہونٹ ہوں جو بھی کہے وہ ہی کہے کیا بھروسہ پتھروں میں ڈوب جائے آبشار سانس میں جھکڑ چلے کب جسم کا تودہ ڈھے ریگزار شرق میں اب جوئے خوں ہے تیز گام وہ ابابیلیں کہاں ہیں جن سے سیل غم تھمے ہلکی ہلکی بارشوں کی جھالروں کی اوٹ میں سرمگیں کہسار کے کافر نظارے کیا ہوئے کون سا رشتہ ہمارے دل کو چھوتا سا لگا یہ سمجھنا تھا نہ مشکل گرچہ ہم انجان تھے عہد آدم سے رہے ہیں دشمن ایماں شہابؔ پر کشش رخسار دو اور نین دو جادو بھرے

jaise jaise khud-navisht-e-dostaan paDhte gae

غزل · Ghazal

پھر شعلۂ گل موج صبا چاہیے یارو گل نار گلستاں کی فضا چاہیے یارو پیراہن جاں چاک رہے تیز ہوا میں طوفان میں جینے کی ادا چاہئے یارو مطلوب ہو گر شاہد معنی کی تجلی الفاظ کی صد رنگ قبا چاہیے یارو شاداب نئی رت سے ہے گلزار ادب بھی پھولوں کو تر و تازہ ہوا چاہیے یارو جتنے بھی دریچے ہیں سبھوں کو نہ کرو بند اک آدھ دریچہ تو کھلا چاہیے یارو شیشے کی کوئی چیز سلامت نہ رہے گی اس دور میں پتھر کی انا چاہئے یارو دل سنگ ملامت سے حنا رنگ ہے لیکن کچھ اور رفاقت کا صلہ چاہیے یارو

phir shoala-e-gul mauj-e-sabaa chaahiye yaaro

غزل · Ghazal

شعلوں سے لالہ زار ہے آتش کدہ ہے دل زخموں کے شب چراغ کا اک سلسلہ ہے دل اشکوں کے رنگ و نور سے آنکھیں دھلی دھلی سوز و فروغ کرب سے صد سوختہ ہے دل نامہ مرے وجود کا دو لفظ میں اسیر پہچان میری عشق ہے میرا پتہ ہے دل سہنا تمام وار مقدر اسی کا ہے آماجگاہ عشق میں گویا ذرا ہے دل انجان حادثوں سے منور ہے کائنات لیکن سبھوں میں سب سے عجب حادثہ ہے دل آدم کی فرد جرم وراثت بنی شہابؔ جنت کے میکدے سے اڑایا نشہ ہے دل

shoalon se laala-zaar hai aatish-kada hai dil

غزل · Ghazal

باہر حصار درد سے آنا نہ تھا کبھی جو درد اب ملا ہے وہ جانا نہ تھا کبھی اقرار واقعی سے مرا دل سہم گیا اپنا قصور آپ نے مانا نہ تھا کبھی الجھی ہوا چراغ سے تو جل گیا بدن مغرور سر کا ناز اٹھانا نہ تھا کبھی اب کے لہو کی رت میں جدا شاخ سے تھے پھول مقتل کا رنگ اتنا سہانا نہ تھا کبھی فطرت کے احتساب میں ہے زعفراں کا رنگ زیتوں کا سبز رنگ مٹانا نہ تھا کبھی محفوظ کر لیا ہے عدالت نے فیصلہ قانون وقف عذر زمانہ نہ تھا کبھی ٹانکے شہابؔ ٹوٹ گئے فرط درد سے منظور دل کا درد دکھانا نہ تھا کبھی

baahar hisaar-e-dard se aanaa na thaa kabhi

Similar Poets