SHAWORDS
M

Manzoor Nadeem

Manzoor Nadeem

Manzoor Nadeem

poet
1Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

نہ خانقاہوں کے سائے نہ تاج و تخت مجھے عطا ہوا ہے فقط دھوپ کا درخت مجھے وہ سنگ دل پہ ملائم سا ہے دم گفتار میں نرم دل ہوں پہ لہجہ ملا کرخت مجھے تمام عمر کی محنت پہ پھیر دے پانی دکھائے آنکھ جب اپنے جگر کا لخت مجھے مرے نصیب کی تاریکیوں سے کم واقف سمجھ رہی ہے یہ دنیا ستارہ بخت مجھے قدم قدم پہ ہے یاروں کو سیم و زر کی تلاش دعا بزرگوں کی اپنے سفر کا رخت مجھے ہری بھری ہے بہت فصل فکر و فن میری یہ اور بات زمینیں ملی ہیں سخت مجھے

na khaanqaahon ke saae na taaj-o-takht mujhe

غزل · Ghazal

تھا سرد سا کسی کے جوابات کا بدن تنہا جلا ہے میرے سوالات کا بدن بچ بچ کے صبح و شام کی تازہ ہواؤں سے بیمار ہو گیا ہے روایات کا بدن اس سال معجزہ یہ عجب رونما ہوا سوکھا دکھائی دیتا ہے برسات کا بدن چھو اس کو اے اسیر تمنا ادب کے ساتھ نازک بہت ہے ان کی عنایات کا بدن پتھر سا سخت اس کا رویہ ہے اے ندیمؔ پھولوں سا نرم ہے مرے جذبات کا بدن

thaa sard saa kisi ke javaabaat kaa badan

غزل · Ghazal

نکھارتی رہی یلغار سنگ کیا کرتے ہم اپنا حلقۂ احباب تنگ کیا کرتے اسے تھا شوق بہت آسمان چھونے کا یہ کٹ گئی تھی ہماری پتنگ کیا کرتے یہ دور دے گیا تمغات چاپلوسوں کو ہم ایسے دشت انا کے ملنگ کیا کرتے مزاج پایا تھا گھل مل کے سب میں رہنے کا جدا تھا سب سے مگر اپنا رنگ کیا کرتے اک عمر بعد ہوا وقت مہرباں تو ندیمؔ نہ آرزو تھی نہ دل میں امنگ کیا کرتے

nikhaarti rahi yalghaar-e-sang kyaa karte

غزل · Ghazal

منفرد رنگ ملے فکر میں جدت نکلے میں اگر شعر کہوں اتنی تو اجرت نکلے کھڑکیاں کھول دو اڑ جانے دو خواہش کے پرند وہ جو سر میں ہے سمائی ہوئی وحشت نکلے سوچتا کیوں ہے بچھڑ جانے کی نسبت سے میاں اس سے پہلے کہ کوئی ملنے کی صورت نکلے اس کی آنکھوں سے چھلک جاؤں میں آنسو بن کر زندگی میں کبھی اتنی تو سہولت نکلے کیا کریں ہم ترے اشعار پہ تنقید ندیمؔ کب کوئی نکتۂ توہین عدالت نکلے

munfarid rang mile fikr mein jiddat nikle

غزل · Ghazal

دھوپ سے گردش حالات کی گھبرا جائے دل کوئی پھول نہیں ہے کہ جو مرجھا جائے ہائے رے ضبط محبت کی یہ ثابت قدمی ہم سے کاغذ پہ بھی وہ نام نہ لکھا جائے ایک پتھر کی بھی تقدیر سنور سکتی ہے شرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشا جائے کس طرح ہوتی ہے تہذیب کی دیوی عریاں شیش محلوں میں کبھی جھانک کے دیکھا جائے عقل کہتی ہے کہ چل دشت تمنا سے پرے دل کو ضد ہے کہ اسی دشت میں بھٹکا جائے

dhuup se gardish-e-haalaat ki ghabraa jaae

غزل · Ghazal

درد کے کھیت میں مسکان اگانے والا کتنا خوش ظرف ہے زخموں کو چھپانے والا دل میں اخلاص وفاؤں کی ہے گٹھری سر پر آدمی ہے یہ کسی اور زمانے والا یاد آتا رہا تا دیر سفر میں مجھ کو ہاتھ رہ رہ کے دریچے سے ہلانے والا آگ کچھ اور گھروں کو بھی جلا ڈالے گی سوچتا کاش مرے گھر کو جلانے والا لوگ چہروں کو چھپاتے ہوئے پھرتے ہیں ندیمؔ شہر میں آیا ہے آئینہ دکھانے والا

dard ke khet mein muskaan ugaane vaalaa

Similar Poets