
Manzoor
Manzoor
Manzoor
Ghazalغزل
وہ ہر قدم مرے ہم راہ رہ گزر میں رہے مرا ہی ذوق سفر میرے ہم سفر میں رہے دیا گیا ہے انہیں کو بہادری کا نشان بوقت جنگ جو چپ چاپ اپنے گھر میں رہے تمہارے پیار کا میں بھی ہوں معترف اے دوست تمہارا درد بھی کچھ میرے درد سر میں رہے انہیں تو کچھ نہ ملا جو کھڑے تھے ساحل پر جو تہہ میں اترے وہی حلقۂ گہر میں رہے خدا کرے کہ دم صبح جب بھی آنکھ کھلے تمہارا پھول سا چہرہ مری نظر میں رہے یہ بات سچ ہے کہ اکثر غریب کے بچے امیر بچوں سے اچھے کلاس بھر میں رہے اسی سے ہوتی ہے پیدا کلام میں تاثیر قلم اٹھاؤ تو ماحول بھی نظر میں رہے یہی ہے آرزو ناظرؔ کہ شاعری کے طفیل ہماری عزت و تکریم ہر بشر میں رہے
vo har qadam mire hamraah rahguzar mein rahe
اندھیری شب کی ابھی مات ہونے والی ہے یہاں پہ نور کی برسات ہونے والی ہے سماعتوں میں عجب سنسنی سی ہوتی ہے نہ جانے کس سے مری بات ہونے والی ہے زمانہ ترسا ہے دیدار کے لیے جس کے اسی سے میری ملاقات ہونے والی ہے پرندے اپنے بسیروں کی اور جانے لگے یہ لگ رہا ہے کہ اب رات ہونے والی ہے ابھی تو کم ہے مگر خوف ہے یہی ناظرؔ کچھ اور سختیٔ حالات ہونے والی ہے
andheri shab ki abhi maat hone vaali hai
روئے زیبا کے پرستار نہیں ہو سکتے جو محبت میں گرفتار نہیں ہو سکتے تو جو چاہے تو ہمیں دار و رسن تک لے چل ہم مگر اتنے گنہ گار نہیں ہو سکتے خود پرستی ہو رگ و پے میں سرایت جن کے قوم و ملت کے وہ معمار نہیں ہو سکتے کچھ نہ کچھ ان میں بھی خودداری کے جذبے ہوں گے میرے دشمن پس دیوار نہیں ہو سکتے مسکراتے ہوئے ہر ظلم ترا سہہ لیں گے ہم مگر دیش کے غدار نہیں ہو سکتے یہ الگ بات تمہیں چاہ رہے ہیں پھر بھی ہم تری شب کے خریدار نہیں ہو سکتے خود جو کرتے نہیں اسلاف کی عزت ناظرؔ وہ کبھی صاحب کردار نہیں ہو سکتے
ru-e-zebaa ke parastaar nahin ho sakte
جب مرے شہر محبت میں وہ آ جائے گا دل میں جذبوں کی نئی جوت جگا جائے گا اپنے اللہ پہ ہر لمحہ بھروسہ رکھو غم کا طوفان بہر حال چلا جائے گا جس نے پیغام محبت کا دیا دنیا کو سارے عالم کا وہ محبوب کہا جائے گا ہر غلط بات کی تشہیر نہ ہو پائے گی سچ بہر حال سر عام کہا جائے گا چند لمحوں کی ملاقات کا منظر مت پوچھ کیا خبر تھی وہ مرے دل میں سما جائے گا ہوش اڑ جائے گا بڑھ جائے گی دل کی دھڑکن یک بہ یک جب وہ ترے سامنے آ جائے گا تیرگیٔ غم دوراں سے نہ گھبرا ناظرؔ یہ اندھیرا بھی بہت جلد چلا جائے گا
jab mire shahr-e-mohabbat mein vo aa jaaegaa
جی بھر کے مجھے رات کو رونے نہیں دیتے سونا بھی اگر چاہوں تو سونے نہیں دیتے ہر وقت نصیحت کا کھلا رہتا ہے دفتر دامن کو گناہوں میں بھگونے نہیں دیتے اب شہر کے ہنگاموں سے گھبرانے لگا ہوں کھونا بھی جو چاہوں تو یہ کھونے نہیں دیتے کہتے ہیں یہ ہے لطف ستمگر کی نشانی وہ دل کا مرے داغ بھی دھونے نہیں دیتے رکھ دیتے ہیں ہاتھوں کو بڑے ناز سے منہ پر جو بات ہے ہونی اسے ہونے نہیں دیتے کیا بات ہے تم اپنی حسیں سانسوں کی خوشبو مجھ کو دل و دیدہ میں سمونے نہیں دیتے ناظرؔ مری شیرینئ گفتار میں کچھ لوگ حالات کی تلخی کو ڈبونے نہیں دیتے
ji bhar ke mujhe raat ko rone nahin dete
تم شاد رہو موج صبا بول رہی ہے ہر روز یہی تازہ ہوا بول رہی ہے ہم لوگ کبھی صاحب ثروت تھے یہاں پر جسموں کی یہ بوسیدہ قبا بول رہی ہے کوئی تو مجھے آ کے یہاں اپنے بنا لے ہاتھوں کی ہتھیلی پہ حنا بول رہی ہے طوفان حوادث کا تمہیں خوف نہ ہوگا ہونٹوں پہ بزرگوں کے دعا بول رہی ہے یہ تو کبھی اسلاف کی دستار تھی میرے جو سر پہ ہے تیرے وہ ردا بول رہی ہے سر تا بہ قدم حسن مجسم وہ لگے ہے لہراتی ہوئی باد صبا بول رہی ہے اللہ کا فرمان ہے اٹھ جاؤ رفیقو ہونٹوں پہ مؤذن کے صدا بول رہی ہے
tum shaad raho mauj-e-sabaa bol rahi hai





