SHAWORDS
Maqbool Ahmad Maqbool

Maqbool Ahmad Maqbool

Maqbool Ahmad Maqbool

Maqbool Ahmad Maqbool

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

یہ خذف میرے لئے ہیں یہ گہر میرے لئے میں ہوں مخدوم جہاں ہے خشک و تر میرے لئے جنت و دوزخ بنے ہیں عرش پر میرے لئے اور زمیں پر اہتمام خیر و شر میرے لئے عرش اعظم تک مری پرواز ہے اے بے خبر اور نہیں ہے احتیاج بال و پر میرے لئے آرزو ہے عزم و ہمت ہے دل پر شوق ہے دوستو کافی ہے یہ رخت سفر میرے لئے آج مجھ پر ہنس رہے ہیں لوگ اس کا غم نہیں ایک دن ہوگی سبھی کی آنکھ تر میرے لئے رفتہ رفتہ ہو گئے ناراض اے مقبولؔ سب زہر بھی اب ہو گیا ہے بے اثر میرے لئے

ye khazaf mere liye hain ye guhar mere liye

غزل · Ghazal

کمال حسن و صداقت تلاش کرتا ہوں ہر ایک شے میں حقیقت تلاش کرتا ہوں ادب کہ دین سیاست کہ فلسفہ سب میں نشان فکر و بصیرت تلاش کرتا ہوں ٹٹولتا ہوں ہر اک دل عمیق نظروں سے خلوص و مہر و محبت تلاش کرتا ہوں جو راحتوں کی منازل سے ہم کنار کرے وہ رہنما وہ قیادت تلاش کرتا ہوں میں اپنی جہد مسلسل کی تہہ میں اے مقبولؔ وقیع خواب کی جنت تلاش کرتا ہوں

kamaal-e-husn-o-sadaaqat talaash kartaa huun

غزل · Ghazal

کون ہے اپنا ہم قدم کہیے کس سے حالات کے ستم کہیے کس قدر مختصر ہے صبح نشاط کتنی لمبی ہے شام غم کہیے آ گئی اور پختگی ہم میں ستم دوست کو کرم کہیے کون غم خوار ہے زمانے میں کس سے بے چارگی کا غم کہیے لوگ کرنے لگے ہیں فرمائش خار زاروں کو بھی ارم کہیے میں نے کھولی نہیں زباں اپنی رہ گیا آپ کا بھرم کہیے یہ ہے فرمان وقت اے مقبولؔ کم سوادوں کو محترم کہیے

kaun hai apnaa ham-qadam kahiye

غزل · Ghazal

جانتے ہو تم کہ کیا ہے زندگی مسئلہ در مسئلہ ہے زندگی سوچئے تو اک سہانا خواب ہے دیکھیے تو اک بلا ہے زندگی خار ہوں جس پر زیادہ پھول کم ایک ایسا راستہ ہے زندگی زہر ہے حق میں کسی کے اور کہیں چشمۂ آب بقا ہے زندگی کوئی کچھ تو کوئی کچھ سمجھا اسے ایک انوکھا فلسفہ ہے زندگی کون جانے یہ کہاں پر ختم ہو اک نرالا سلسلہ ہے زندگی موت کیا ہے محفل عیش و نشاط محنت و جہد بقا ہے زندگی

jaante ho tum ki kyaa hai zindagi

غزل · Ghazal

امید ہم سے نہ رکھنا فریب کھانے کی کہ ہم نے دیکھی ہیں نیرنگیاں زمانے کی وفا کا راستہ ہے آج کس قدر سنسان اب آرزو ہے کسے نقد جاں لٹانے کی مری حیات پہ یہ کیسے پہرے ہیں یا رب نہ رو سکوں نہ اجازت ہے مسکرانے کی اجڑ گیا تو کسی طور پھر یہ بس نہ سکا ہزار کوششیں کیں شہر دل بسانے کی یہ شعر گوئی کا صدقہ نہیں تو پھر کیا ہے نظر میں ہو گئے مقبولؔ ہم زمانے کی

umiid ham se na rakhnaa fareb khaane ki

غزل · Ghazal

راہ اپنی نہ راہبر اپنا کامراں کیسے ہو سفر اپنا ناز کیا عارضی ٹھکانے پر شہر اپنا نہ کوئی گھر اپنا اب جو ہوگا وہ دیکھا جائے گا آپ کا در ہے اور سر اپنا ہم کو جینے کی آرزو ہے ابھی کیوں ہے مایوس چارہ گر اپنا پھر نئی منزلیں تلاشتے ہیں ختم ہوتا نہیں سفر اپنا لوگ ہوتے ہیں مستفید تو ہوں ہم نہیں بیچتے ہنر اپنا نوع انساں کے کام آئے ادب ہے یہی نقطۂ نظر اپنا بات کرتے ہیں ہم خدا لگتی اور لہجہ ہے معتبر اپنا شعر گوئی میں نام ہے مقبولؔ یہ تعارف ہے مختصر اپنا

raah apni na raahbar apnaa

Similar Poets