SHAWORDS
Mariyam Fatima

Mariyam Fatima

Mariyam Fatima

Mariyam Fatima

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

اب کی بیزار ہی لوٹ آئے ہیں گلزاروں سے رنگ ہی لے گیا کوئی میرے نظاروں سے اب یہ عالم ہے سناتے ہوئے ڈرتے ہیں نوید بانٹ لیتے تھے کبھی درد بھی ہم یاروں سے خود کو پھر کس لیے بتلایا تھا چارہ فرما اتنا پرہیز اگر تھا تجھے بیماروں سے ہوس گل نے اجاڑا تھا ہمارا گلشن ہائے بے کار الجھتے رہے ہم خاروں سے راستے اور بھی منزل کی طرف جاتے تھے ہم مگر سر ہی لڑاتے رہے دیواروں سے آتے آتے مرے دل کو بھی سکوں آ جاتا نہ کہا ہوتا کبھی حال جو غم خواروں سے

ab ki bezaar hi lauT aae hain gulzaaron se

غزل · Ghazal

زندگی کا کوئی سہارا ہو ہم کسی کے کوئی ہمارا ہو تیری آواز سن کے لگتا ہے جیسے تنہائی نے پکارا ہو بات جب بھی ہو چاند تاروں کی تیری آنکھوں کا استعارا ہو رات جب آنکھ میں اتر آئی کس طرح صبح کا نظارا ہو دل کہیں اور لگ ہی جائے گا اک اسی غم پہ کیا گزارا ہو غیب کا علم تو نہیں مجھ کو نہ ہوں الفاظ تو اشارہ ہو دے دیا ہے تو یہ بھی بتلا دو کس طرح درد یہ گوارہ ہو دیر سے منتظر مسافر ہے اب درخشاں کوئی ستارا ہو میں تو دریائے پر تلاطم ہوں تم تو محفوظ اک کنارا ہو سنگ دل کچھ تو دے گماں کو مرے نہ ہو شعلہ تو اک شرارہ ہو

zindagi kaa koi sahaaraa ho

غزل · Ghazal

ان کا جانا تو اک بہانا تھا موت کو یوں بھی جلد آنا تھا بے خودی میں اسے بتا بیٹھے راز جو خود سے بھی چھپانا تھا کیوں نہ آتے خوشی خوشی طائر دام میں مفت آب و دانہ تھا دل تجھے کیوں سکوں نہیں پڑتا کیا ابھی اور کچھ لٹانا تھا سخت اک مرحلہ تھی یاد تری اور اس پر تجھے بھلانا تھا تلخ ہر بات سچ نہیں ہوتی ان کا مقصد تو دل دکھانا تھا اور بھی خواہشیں تھیں دنیا میں دل کہیں اور لگ ہی جانا تھا

un kaa jaanaa to ik bahaanaa thaa

غزل · Ghazal

وہ دل نہیں رہا وہ محبت نہیں رہی اب زندگی سے کوئی شکایت نہیں رہی اس بار کوئی زخم بھی گہرا نہیں لگا مجھ پر ستم گروں کہ عنایت نہیں رہی جائیں کہاں سمیٹ کے اپنی اداسیاں کہتے تھے گھر جسے وہ عمارت نہیں رہی اک دم سے ان کی یاد گئی تو نہیں مگر اب فکر میں وہ پہلے سی کثرت نہیں رہی آنسو ہی پونچھتا یا مرے زخم چومتا اتنی بھی اب کے یار کو فرصت نہیں رہی محفل ہے حسرتوں کی خیالوں کا ہے ہجوم تنہائی میں بھی اب کوئی خلوت نہیں رہی شاید مجھے بھی اب کے وہ کچھ مہرباں لگا شاید اسے بھی مجھ سے شکایت نہیں رہی کہتے ہیں اب کے دیں گے ہر اک بات کا جواب مجھ میں ہی جب سوال کی طاقت نہیں رہی مرنے نے میرے سب کو فرشتہ بنا دیا دشمن کے بھی دلوں میں کدورت نہیں رہی پہلے تو لطف شدت غم کی خوشی رہی پھر یوں ہوا کے غم میں بھی شدت نہیں رہی کہتے کے جا خدا کی اماں میں دیا تجھے وقت جدائی اتنی بھی مہلت نہیں رہی

vo dil nahin rahaa vo mohabbat nahin rahi

غزل · Ghazal

اب تک کہیں تو فکر میں آباد ہی نہ ہو یہ اضطراب قلب تری یاد ہی نہ ہو دھوکا نہ ہو تمہاری نظر کا اے بسملو ہمدرد جو بنا ہے وہ صیاد ہی نہ ہو جو مٹ گیا ہے عشق میں دل خوش نصیب ہے اس دل کا مسئلہ ہے جو برباد ہی نہ ہو کیا سوچتا ہے اپنے پر و بال دیکھ کر وہ طائر غریب جو آزاد ہی نہ ہو یہ بے رخی علامت درد کہن نہ ہو یہ خامشی کہیں کوئی فریاد ہی نہ ہو

ab tak kahin tu fikr mein aabaad hi na ho

غزل · Ghazal

دشواریٔ منزل سے دشوار نہ ہو جائیں ہم اپنے ہی رستے کی دیوار نہ ہو جائیں زخموں پہ نہ بھاری ہو یہ چارہ گری تیری اچھے بھی ترے ہاتھوں بیمار نہ ہو جائیں مانگی نہ دعا ہم نے یہ سوچ بہاروں کی گلشن کہیں اوروں کے گلزار نہ ہو جائیں اک اور تقاضا ہے ہم راہ چلو میرے ڈر یہ بھی ہے دل میں ہم تیار نہ ہو جائیں یہ سانس کا آ جانا یہ دل کا دھڑک اٹھنا یہ کام بھی کل ہم کو دشوار نہ ہو جائیں تاریکئ شب سے اب کچھ دور سویرا ہے بس صبح سے پہلے ہم بیدار نہ ہو جائیں منزل کو دکھانے ہیں پیروں کے ابھی چھالے اللہ کہیں رستے ہموار نہ ہو جائیں ہے زیر نظر ساحل خاموش ہے طوفاں بھی اس بار کہیں دریا ہم پار نہ ہو جائیں

dushvaari-e-manzil se dushvaar na ho jaaein

Similar Poets