SHAWORDS
Maseehullah Khan Ataa

Maseehullah Khan Ataa

Maseehullah Khan Ataa

Maseehullah Khan Ataa

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

ham ko khudaa ne dil diyaa dil mein diyaa gudaaz-e-ishq

ہم کو خدا نے دل دیا دل میں دیا گداز عشق بخشا خدا نے آپ کو حسن کرشمہ ساز عشق رعب جمال یار سے خم ہے سر نیاز عشق حسن کی بارگاہ میں پڑھتے ہیں ہم نماز عشق کوئی بتائے تو ہمیں کس کو نہیں ہے آز عشق کون ہے اس جہان میں بے غم و بے نیاز عشق خاک میں مل کے عشق میں ملتی ہیں سر بلندیاں ہو کے ذلیل و خوار عشق ہوتا ہے سرفراز عشق یارا رہا نہ ضبط کا تاب رہی نہ صبر کی آہ و فغاں نے کر دیا فاش ہمارا راز عشق زاہد نا شناس کا عشق سے واسطہ ہے کیا کیجئے عاشقوں سے حل مسئلہ جواز عشق صنعت کردگار پر کرتا ہوں جان و دل نثار رکھتا ہوں ساری عمر سے حسن سے ساز و باز عشق کھاتا ہے پہلے دل کو یہ پنجۂ غم سے نوچ کر کرتا ہے آدمی پہ وار جس گھڑی شاہباز عشق ہم وہ رہے نہ دل رہا دل میں نہ ولولے رہے بزم شباب اٹھ گئی بند ہے سوز و ساز عشق حسن میں ان کے اور بھی ٹک گئے ہوتے چار چاند کاش کہ ہوتے وہ کبھی دلبر و دل نواز عشق

غزل · Ghazal

aish-o-tarab se kaam na aaraam se gharaz

عیش و طرب سے کام نہ آرام سے غرض دیوانے کو نہ گردش ایام سے غرض اک دل تھا اس کے پاس وہ پہلے ہی دے دیا اب کیا ہے اس کو عاشق ناکام سے غرض اللہ رے یہ شوق ملاقات مدعی دیکھا جو اس کو کود پڑے بام سے غرض یہ اپنے بخت خفتہ کی ساری ہیں خوبیاں جو آ کے سو گئے وہ سر شام سے غرض واعظ تو چھیڑ رند خرابات سے نہ کر جب تجھ کو کچھ نہیں مئے گلفام سے غرض شطرنج ہے لگی ہوئی چوسر بچھی ہوئی محنت سے واسطہ نہ کسی کام سے غرض کرنی ہے اپنی منزل مقصود طے جسے رکھتا نہیں وہ راہ میں آرام سے غرض سہہ سہہ کے ظلم ہو گیا ایذا پسند دل رکھتا نہیں میں راحت و آرام سے غرض گمنام شاعروں میں مرا نام ہے عطاؔ انعام سے غرض نہ مجھے نام سے غرض

غزل · Ghazal

fitna-parvar hai fitna-zaa hai jhuuT

فتنہ پرور ہے فتنہ زا ہے جھوٹ ہر برائی کی ابتدا ہے جھوٹ جھوٹ مانو نہ تم کہا میرا منہ پہ جھوٹے کے کھیلتا ہے جھوٹ نام رکھا ہے اس کا پالیسی کیسا مقبول ہو گیا ہے جھوٹ جو قسم بات بات پر کھائے جان لو تم یہ بک رہا ہے جھوٹ پا نہیں سکتا ہے دروغ فروغ کیا بزرگوں نے یہ کہا ہے جھوٹ سانچ کو آنچ تک نہ پہنچے گی لاکھ دنیا میں چل رہا ہے جھوٹ بچ کے جھوٹے سے چاہئے رہنا پردۂ مکر اور دغا ہے جھوٹ جھوٹ کو جھوٹ گر کہا ہم نے تم ہی کہہ دو کہ اس میں کیا ہے جھوٹ کانپ اٹھتا ہے اے عطا ایمان جب کوئی شخص بولتا ہے جھوٹ

غزل · Ghazal

bataa ai dil ki naalon se huaa kyaa

بتا اے دل کہ نالوں سے ہوا کیا ترے رونے سے وہ بت ڈر گیا کیا جو تم پر مر مٹا مرنے سے پہلے وہ کیا جانے بقا کیا ہے فنا کیا نہ سمجھے ہم تو اب تک اس قدر بھی کہ ان کی زلف پر خم ہے بلا کیا وہ کہتے ہیں نقاب رخ ہٹا کر حیا و شرم سے اب واسطہ کیا مرا دل لے کے مجھ سے پھر گئے تم کوئی ایسا بھی مطلب آشنا کیا نہیں اور ہاں پہ اپنا فیصلہ ہے ہماری ابتدا کیا انتہا کیا کھڑے ہیں چپ دم آخر مرے سب اطبا کیا عزیز و اقربا کیا نہیں اس دور میں کوئی کسی کا کسی کی اب شکایت کیا گلہ کیا نہ رکھتے ہو ہنر کوئی نہ دولت بتاؤ تو کرو گے تم عطاؔ کیا

غزل · Ghazal

mujhe ik ik baras ik ik ghaDi maa'lum hoti hai

مجھے اک اک برس اک اک گھڑی معلوم ہوتی ہے شب فرقت قیامت سے بڑی معلوم ہوتی ہے جھڑی اشکوں کی موتی کی لڑی معلوم ہوتی ہے نہاں آنکھوں میں ہیرے کی کنی معلوم ہوتی ہے نصیحت آج کل ایسی بری معلوم ہوتی ہے بجائے دوستی کے دشمنی معلوم ہوتی ہے جوانی پر وہ آئے ہیں ستم کرنے تو دو ان کو حقیقت عشق بازی کی ابھی معلوم ہوتی ہے بھروسہ اس بت عیار کے وعدے پہ ہے تم کو جناب دل مجھے تو یہ تڑی معلوم ہوتی ہے سدھرنا اب بہت دشوار ہے حالات عالم کا قیامت تک یہی اب گڑبڑی معلوم ہوتی ہے جو دیکھا جائے تو پورے نہ اتریں گے کسی مد میں مسلمانوں میں کوئی اک کمی معلوم ہوتی ہے جو منہ سے کہہ دیا اپنے اسے پورا ہی کر دیجے اسی سے تو زباں کی پختگی معلوم ہوتی ہے یقیں آتا نہیں ان کو عطاؔ میری محبت کا مرے دل کی لگی بھی دل لگی معلوم ہوتی ہے

غزل · Ghazal

dekhaa aTaa huaa jo gulon ko ghubaar mein

دیکھا اٹا ہوا جو گلوں کو غبار میں مصروف ہیں گھٹائیں چمن کے نکھار میں اتنے ہیں داغ آ نہیں سکتے شمار میں تل بھر کی بھی جگہ نہ دل داغدار میں سو میں بھلا ہے اب نہ بھلا ہے ہزار میں برکت ہی اب رہی نہ کسی کاروبار میں پاؤں کے آبلوں سے مرے آ کے پوچھئے کیا لذت و مزہ ہے نہاں نوک خار میں جیتا ہوں ان کی ابروئے خم دار دیکھ کر پنہاں ہے زندگی مری خنجر کی دھار میں ہوگا وفا نہ وعدۂ فردا تمام عمر رکھیں گے حشر تک وہ مجھے انتظار میں اس مدت مدید کی کچھ انتہا بھی ہے روز ازل سے حشر کے ہوں انتظار میں جانکدنی سے چھوٹ کے آ کر پڑے تھے ہم آتے ہی آن پہنچے فرشتے مزار میں مجھ سا ملے گا چاہنے والا نہ آپ کو دس بیس میں پچاس میں سو میں ہزار میں صیاد تجھ سا ہوگا نہ کوئی ستم ظریف بلبل کو قید کرتا ہے فصل بہار میں بگڑی کا اپنی ذکر کروں ان سے کس گھڑی رہتے ہیں ہر گھڑی وہ بناؤ سنگھار میں رکھتے ہیں ساتھ جیب میں کنگھا اور آئنہ رہتے ہیں اب تو مرد بھی ہر دم سنگھار میں سوداگری بھی سودا ہے جب تجربہ نہیں دے بیٹھے سب دکان وہ اپنی ادھار میں ہر دم نگاہ در پہ مری ہے لگی ہوئی آنکھیں ہیں فرش راہ تیرے انتظار میں اہل سخن کی ذرہ نوازی ہے یہ عطاؔ اہل سخن کے آ گئے ہم بھی شمار میں

Similar Poets